وارسٹیمنا کیسے بڑھایا جائے؟

وارسٹیمنا کیسے بڑھایا جائے؟
وارسٹیمنا کیسے بڑھایا جائے؟

  


جنگ برداشت کرنے کی زمانی مدت کو وار سٹیمنا (War Stamina) کہا جاتا ہے۔ جنگ اور لاجسٹکس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جنگ کو سپورٹ کرنے کے لئے جن جن اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے، ان کا تعلق کئی شعبوں سے ہوتا ہے۔ ان میں ہتھیار، ایمونیشن (گولہ بارود)، ساز و سامانِ جنگ، مواصلاتی انفراسٹرکچر اور راشن پانی وغیرہ شامل ہیں۔ بظاہر جو چیزیں ہمیں معمولی دکھائی دیتی ہیں، جنگی ماحول میں وہی غیر معمولی بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر پانی ہی کو لے لیں۔ پینے والا پانی اور دھونے والا پانی دونوں انسانی اور جنگی ضروریات ہیں۔ دھونے والے پانی کی شائد اتنی ضرورت فوجیوں کو (دورانِ جنگ) نہ ہو لیکن آبِ نوشیدنی ایک اہم ضرورت ہے۔ صحرائی جنگ و جدل (Desert Warfare) میں تو پینے کے پانی کی احتیاج اور بھی بڑھ جاتی ہے۔چونکہ ریگستانی علاقوں میں پانی کمیاب یا نایاب ہوتا ہے اس لئے کمانڈر کو اس کی طرف از بس توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے چولستان اور تھرپار کے علاقوں میں چونکہ پانی کی کمیابی اور قلت ہے اس لئے پاکستان اور بھارت دونوں ان صحرائی علاقوں میں کوئی بڑا آپریشن نہیں کر سکتے۔ اگر کریں گے بھی تو افواج کو آبِ نوشیدنی کے علاوہ ایسے پانی کی ضرورت بھی پڑے گی جسے گاڑیوں کے ریڈی ایٹروں، راڈاروں کی بیٹریوں، خشک راشن کو خوردنی راشن میں تبدیل کرنے کے لنگروں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ لڑنے کے لئے سپاہی کی دو ضرورتیں نہائت اہم ہوتی ہیں۔ ایک پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے راشن پانی اور دوسرے سلاحِ جنگ کی فراہمی۔ جس طرح گاڑیوں (ٹریک دار مثلاً ٹینک اور APC اور پہیے دار مثلاً ٹرک اور جیپ وغیرہ) کے لئے پٹرول / ڈیزل وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح سپاہیوں کے لئے راشن اور ایمونیشن بھی درکار ہوتا ہے۔ ہر سپاہی اپنے پاؤچ میں ایک مقررہ حد تک کارتوس، ایک مقررہ تعداد میں دستی بم اور ایک مقررہ مقدار میں ساز و سامان جنگ اٹھا سکتا ہے۔ اس کو میدانِ جنگ تک پہنچانے کے لئے خواہ ٹرکوں کا استعمال کیا جائے یا فضا کا، لیکن آخر کار اس کو زمین پر پیدل ہو کر لڑنا پڑتا ہے۔ صرف ائر فورس جنگ نہیں جیت سکتی ہے۔ ہاں جنگ میں فتح حاصل کرنے میں مددگار ضرور ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے کے لئے انفنٹری (پیادہ) سولجر کا رول اور اس کی ضرورت ناگزیر ہے۔ لیکن ہم بات کررہے ہیں پانی کی۔۔۔ دوسری عالمی جنگ میں پانی کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے ائر فورس کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔ افریقہ کے شمالی ساحلوں میں جو بڑے بڑے جنگی معرکے لڑے گئے ان میں پانی کی ضروریات اور فراہمی کے موضوع کو میڈیا میں کم کم ڈسکس کیا گیا اور جو تاریخ ہائے جنگ لکھی گئیں، ان میں بھی یہ موضوع اب تک تشنہ ء اظہار چلا آتا ہے۔

غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی میں ’’پانی‘‘ کا رول بہت اہم تھا۔ آنحضورؐ نے جنگ سے پہلے خود میدانِ جنگ کی ریکی کی اور صرف ایک کنویں کے علاوہ باقی کنویں مٹی سے بھر دیئے گئے۔ یہ تدبیر (ٹیکٹکس) حفظِ ماتقدم بھی تھی اور جنگ اور لاجسٹکس کے باب میں ایک بڑا سبق بھی۔ پاکستان اور بھارت نے آج تک گزشتہ 70برسوں میں چار جنگیں لڑی ہیں۔ ان میں پہلی (جنگِ کشمیر) اور آخری (کارگل وار) جنگ میں صرف انفنٹری کا استعمال کیا گیا۔1947-48ء کی کشمیر جنگ، زیادہ تر پیادہ سپاہی کی جنگ تھی۔ ائر فورس، آرمر اور نیول فورس کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن دوسری (1965ء) اور تیسری (1971ء) جنگ بھرپور جنگ تھی جس میں تینوں سروسز (آرمی، ائر فورس اور نیوی) نے حصہ لیا۔ 1971ء کی جنگ کا زیادہ زور مشرقی پاکستان میں تھا، جہاں نہ پاک بحریہ تھی اور نہ پاک فضائیہ۔ البتہ مغربی پاکستان میں بحریہ اور فضائیہ کا استعمال کیا گیا لیکن کسی بھرپور ’صحرائی جنگ‘ کی نوبت پھر بھی نہ آئی۔ مستقبل میں اگر روائتی جنگ ہوئی تو بھی اور اگر روائتی سے آگے بڑھی تو اللہ جانے پینے کا پانی کسی کے نصیب میں ہو گا یا نہیں ہو گا۔ چونکہ جوہری جنگ (جسے قیامت کا نام بھی دیا جاتا ہے) روائتی جنگ کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے اس لئے ہم نے دیکھنا ہے کہ یہ روائتی جنگ دونوں ملکوں کے درمیان کہاں تک اور کب تک چلے گی۔

1965ء کی جنگ 17روز تک (6تا23ستمبر) لڑی گئی تھی اور اس کے بعد ہمارا ’’وارسٹیمنا‘‘ جواب دے گیا۔ ایمونیشن تقریباً ختم تھا اور سلاحِ جنگ (ٹینک، طیارے، توپیں) بھی کم پڑ گئی تھیں۔ ایران اور ترکی کی مدد کے باوجود پاکستان نے اسی وجہ سے جنگ بندی قبول کر لی تھی۔ اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان کا وارسٹیمنا صرف 15دن کا ہے۔ یعنی پاکستان نے 15دنوں کے اندر اندر جنگ کا فیصلہ کرنا ہے۔ 1965ء کے بعد اب تقریباً 54برس گزر چکے ہیں۔ دونوں ممالک میں افواج کی تعداد اور لاجسٹکس ضروریات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ وارسٹیمنا کو بڑھایا جائے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ آج بھی اگر روائتی جنگ ہوئی تو ہمارا وارسٹیمنا شائد ہی ایک ماہ (30دن) نکال سکے۔ مُرور ایام کے ساتھ جنگ کی شدتِ رفتار میں اضافہ ہوا ہے اور اسی نسبت سے ایمونیشن کے استعمال اور راشن پانی کے استعمال میں بھی مستقبل میں اضافہ ہوگا۔ دونوں ممالک کے GHQs حساب کتاب لگاتے رہے ہوں گے اور تازہ ترین ضروریات اور ضائعات (Losses) کے گوشوارے بھی بنائے جاتے ہوں گے۔ لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بہت سے اندازے (Estimates) گوشوارے، فہرستیں اور گراف وغیرہ تیار کئے جاتے ہیں لیکن جب پہلی گولی فائر ہوتی ہے یا پہلا میزائل رختِ سفر باندھتا ہے یا پہلا لڑاکا / بمبار طیارہ فضا میں بلند ہوتا ہے تو سارے اندازے اور فہرستیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت نے آج تک جتنی جنگیں بھی لڑی ہیں ان کو آسانی سے ’’شریفانہ جنگیں‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے صرف ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا اور نان ملٹری اہداف پروار کرنے سے گریز کیا۔ نان ملٹری اہداف میں شہروں اور دیہاتوں کی آبادیاں پیش پیش تھیں۔ ان پر دونوں ملکوں کی ائر فورسز نے ارادی حملے نہیں کئے۔ غیر ارادی طور پر اگر حملے ہوئے بھی تو اکا دکا تھے۔ لیکن اب تو ملٹری اہداف میں ائرپورٹس، بندرگاہیں، ریلوے جنکشن، ذخیرہ ہائے آب (ہیڈورکس اور ڈیم وغیرہ) اور ہائی ویز سب شامل ہو چکے ہیں۔ اسلحہ ساز فیکٹریاں، بارود ساز کارخانے اور سول انجینئرنگ ورکشاپیں ان کے علاوہ ہیں۔

مستقبل کی جنگ میں یہ دیکھا جائے گاکہ نان ملٹری اہداف پر وار کرنے میں پہل کون کرتا ہے۔ ’’واثق‘‘ امید تو یہی ہے کہ انڈیا ایسا کرے گا۔ پاکستان کو جواباً ایسا کرنا پڑے گا اور اس طرح وہ تباہی مچے گی کہ دوسری عالمی جنگ کی یادیں تازہ ہو جائیں گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جوں جوں جنگ شدت پکڑتی گئی، نان ملٹری اہداف کو ملٹری اہداف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے آخری مہینوں میں جاپان اور جرمنی کے شہروں میں اتحادی طیاروں نے جو بمباری کی وہ ویت نام کی کارپٹ بمباری سے بھی آگے نکل گئی۔جاپان اور جرمنی کے بڑے بڑے شہر، خاک و خون میں تبدیل ہونے لگے اور اگر 6 اور9اگست1945ء کو جاپان پر جوہری بم نہ گرائے جاتے تو جو انسانی نقصانات ان دو بموں کی وجہ سے ہوئے، ان سے زیادہ غیر جوہری بموں کی وجہ سے ہوتے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں نے ابھی تک کوئی ویسی بھرپور جنگ نہیں دیکھی جیسی یورپ اور جاپان نے دیکھی۔ذرا اندازہ کیجئے کہ اس دوسری عالمی جنگ میں اتحادیوں اور محوریوں کا ’’وارسٹیمنا‘‘ کس درجے کا تھا۔ اگر جوہری بم استعمال نہ ہوتے تو یہ جنگ چھ برسوں میں ختم ہونے کی بجائے دو برس اور نکال جاتی۔

میرے خیال میں بھارت سے زیادہ پاکستانی قارئین کو حدیثِ جنگ و جدال پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ پاکستان، بھارت کے مقابلے میں پانچ گنا چھوٹا ملک ہے اِس لئے بھارت کے مقابلے میں اس کی ’’جوہری دہلیز‘‘ جلد سامنے آ جائے گی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کا خون بھارتیوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہے اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تعداد بھارت کی نسبت کم ہے، جو19ویں اور 20ویں صدی کی عظیم جنگوں کے مطالعے کا شعور رکھتے ہیں۔دفاعی موضوعات پر جو لٹریچر بھارت میں شائع ہوتا ہے اس کا عشر عشیر بھی پاکستان میں نہیں ہوتا۔وہاں دفاعی موضوعات پر انگریزی خواں طبقہ تعداد میں پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ راقم السطور20،25 برس سے اس حیرانی میں ’’مبتلا‘‘ رہتا ہے کہ اس ’’ناسمجھی‘‘ کی وجہ کیا ہے۔ کیا پاکستان میں انگریزی جاننے اور پڑھنے والوں کی اساس (Base) انڈیا سے کم اور کمزور ہے؟۔۔۔ کیا ہم جنگی اسلحہ جات اور سازو سامان کی تیاری اور پیداوار میں انڈیا سے پیچھے ہیں؟۔۔۔ کیا ہمارے ہاں انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کرنے والے مترجمین کم ہیں؟۔۔۔ کیا ہمارے بک سیلرز اور پبلشرز میں وہ شعور مفقود ہے جو انڈیا میں پایا جاتا ہے؟۔۔۔ صد افسوس کہ اس آخری سوال کا جواب اثبات میں ہے!

کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا و الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا کی مقبولیت روبہ زوال ہے،لیکن جب یہ درج بالا اول الذکر تینوں میڈیا نہیں تھے تو پرنٹ میڈیا کا حالِ زبوں تب بھی ویسا ہی تھا۔ پبلشروں کا رونا ہے کہ پڑھنے والے نہیں ہیں اور پڑھنے والوں کا اصرار ہے کہ کتابیں شائع کرنے والے ادارے ’’کاروباری سٹرٹیجی‘‘ کے آداب سے آگاہ نہیں۔مثال کے طور پر اگر کسی200صفحے کی کتاب بُک پیپر پر شائع کی جائے اور اس کی جلد بھی پیپر بائنڈنگ ٹائپ کی ہوتو اس کی قیمت اتنی گراں رکھی جاتی ہے کہ عام پڑھنے والوں کی جیب سے باہر ہو جاتی ہے۔ پبلشر جو قیمت200 صفحہ کی اس پیپر بیک اور بک پیپر پر چھپنے والی کتاب کی مقرر کرتا ہے وہ500 روپے سے کم نہیں ہوتی،جبکہ اگر ایک ہزار کاپی بھی چھاپی جائے تو کل لاگت کا تخمینہ 25،30 روپے فی کاپی سے زیادہ نہیں آتا۔۔۔ کہاں25 روپے اور کہاں500 روپے؟ ۔۔۔ دوسری طرف پبلشر کا موقف ہے کہ کتاب خریدنے والی لائبریریاں اور دوسرے ادارے کتاب کی چھپی ہوئی قیمت سے آدھی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔۔۔۔ محکمہ تعلیم اور شعبہ ہائے نشر و اشاعت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ جنگ کے سٹیمنا سے بات چل کر کتابوں کی خریداری کے سٹیمنا تک آ پہنچی ہے۔میرے خیال میں اس مماثلت میں بھی ایک نسبت ہے، جس طرح وار سٹیمنا بڑھانے کے لئے ایک پُرعزم جہدِ مسلسل کی ضرورت ہے اسی طرح بک ریڈرز کا خریداری سٹیمنا بڑھانے کے لئے بھی ایک اَن تھک کوشش اور لگاتار کاوش کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...