مدارس کے خلاف منظم پروپیگنڈہ کیا جار ہا ہے‘ مشتاق احمد

مدارس کے خلاف منظم پروپیگنڈہ کیا جار ہا ہے‘ مشتاق احمد

مردان (بیورورپورٹ)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت مدارس اور مساجد کو یورپ اور امریکی عینک سے دیکھنا بند کردیں ۔مدارس کے خلاف منظم سازش کے تحت پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔مدارس لاکھوں کی تعداد میں امن پسند شہری پیدا کررہے ہیں۔ حکومت دینی مدارس ریاست ، بجٹ اور پالیسی میں جائز مقام دے۔ استعماری قوتیں قرض اور سود کی وجہ سے غریب عوام کا خون چوس رہی ہیں۔ جمعہ کی چھٹی ختم کئے جانے کے بعد سے معیشت کا بیڑا غرق ہے۔انبیاء کی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرنے خلاف آواز اٹھائیں گے، ہم کسی صورت فلسطین پر یہودی قبضہ برداشت نہیں کرسکتے ۔ اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے، اسے کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی حکومت روزانہ پندرہ ارب قرض لے رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کا مدینہ کی ریاست کا دعوی فراڈ ہے۔بھان متی کے کنبے اور چوں چوں کے مربے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کشمیری عوام آزادی اور حریت کی بلند ترین مثال ہیں۔ہندوستان کی فوج جنگی جرائم میں ملوث ہے۔حکومت ہندوستان کے روئیے پر فوری طورپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے اور اور پارلیمانی وفود بنا کر عالمی برادری کو اعتماد میں لے۔ اگر ہندوستان نے حملے کی غلطی کی تو دینی مدارس کے 35 لاکھ طلبہ مقابلہ کریں گے۔قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مختلف مسائل کی شکار ہے۔جمعیت طلبہ عربیہ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ تفہیم القرآن مردان میں جمعیت طلبہ عربیہ کے زیر اہتمام تقریب ’’ستوری دا خیبر‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے جماعت اسلامی ضلع مردان کے امیر مولانا سلطان محمد ، سابق امیر مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن، جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد الطاف کشمیری اور منتظم صوبہ مولانا ذاکر اللہ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مختلف مقابلوں میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلباء اور حفاظ کرام میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مدارس کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی ناپاک سازشیں کی جارہی ہیں، نیکٹا کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کا مطلب مدارس کے طلباء کو دہشت گردی میں ملوث تسلیم کرنا ہے۔ ہم کسی صورت مدارس کی نیکٹا کے ساتھ رجسٹریشن نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یونیورسٹیوں کو تو پیکج دے رہی ہے لیکن 35لاکھ طلباء کو سنبھالنے والے مدارس حکومتی سرپرستی سے محروم ہیں۔ مدارس بنک اکاؤنٹس کھولنا چاہتے ہیں ، وہ حکومت کے ساتھ رجسٹریشن چاہتے ہیں لیکن حکومت نہ تو مدارس کو بنک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے رہی ہے اور نہ ہی ان کی رجسٹریشن کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ حکومت کی ڈگر پر چل پڑی ہے۔ اسی طرح قرضے لئے جارہے ہیں، تیل ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہے۔ مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویدار قوم کو دھوکہ دے رہی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...