ضلع بھر میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلے عام دھجیاں بکھیری جانے لگیں

ضلع بھر میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلے عام دھجیاں بکھیری جانے لگیں

پشاور(سٹی رپورٹر)ضلع بھر میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلے عام دھجیاں بکھیری جانے لگیں ، کمسن بچے بھٹہ خشت ، دکانوں، ہوٹلوں پر محنت مشقت کرنے پر مجبور ہیں جس پر ضلعی افسران نے آنکھیں بند کر لیں ، ضلع بھر کے مختلف مقامات پر بھٹہ خشت ، منی فیکٹریوں ، دکانوں ، ورکشاپوں وغیرہ میں کمسن بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ضلع بھر میں چائلڈ لیبر افسران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے حکم نامے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے اپنی منتھلیاں وصول کر رہے ہیں اور انہیں کمسن بچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ، انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات دکانوں اور ہوٹلوں کے مالکان بچوں پر ظلم و تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور محنت کش بچوں کے والدین کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکان چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ ان پر تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے جبکہ دوسری جانب محکمہ لیبر کے افسران نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے ضلع بھر میں جنگل کا قانون نافذ ہے ، شہریوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...