او آئی سی 46واں سیشن ، بھارت بھی مدعو، شاہ محمود ، سشما ملاقات متوقع

او آئی سی 46واں سیشن ، بھارت بھی مدعو، شاہ محمود ، سشما ملاقات متوقع

جدہ ، نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان کی درخواست پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس بروز منگل 26 فروری کو جدہ میں طلب کر لیا گیا،جس میں بھارتی افواج اورانتہا پسندوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے مظالم پر تبادلہ خیال کیا جائیگا او آئی سی ممالک کے مستقل مندوبین اجلاس میں شرکت کرینگے۔اد ھر پا کستا ن اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان یکم مارچ کو ابو ظہبی کے مقام پر ملاقات کے امکان کا اظہار کیا جارہا ہے، کیونکہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرلت کیلئے مدعو کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارت برائے امور خارجہ کا کہنا تھا وزیر خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے 46 ویں سیشن میں شرکت کیلئے مدعو کیا جانا خوش آئند اور 18 کروڑ 50 لاکھ مسلمانوں کی آبادی والے ملک بھارت کی اسلامی دنیا میں شراکت کے اعتراف کا ثبوت ہے۔ اجلا س ابو ظہبی میں یکم اور 2 مارچ کو منعقد ہوگا جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید بن النہیان نے انہیں ’اعزازی مہمان‘ کے طور پر مدعو کیاہے ۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے امکانات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔او آئی سی کو ’مسلم دنیا کی مجموعی آواز‘ تصور کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد مسلم امہ کے مفادات کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا اور دنیا کے دیگر لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ماضی میں اس گروپ کی جانب سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کی جا چکی ہے۔ بھارت کو او آئی سی اجلاس کیلئے دعوت دیا جانا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان اور بھارت کے دورے کے بعد سامنے آیا جنہوں نے دونوں ممالک میں امن پر زور دیا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی نے اپنی رکنیت مسلم اکثر یت مما لک تک محدود کر رکھی ہے، اجلاس میں روس، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کو نگرانی کی حیثیت حاصل ہے۔ مئی 2018 میں ہونیوالے وزرائے خارجہ کے 45ویں اجلاس میں میزبان ملک نے تجویز دی تھی بھارت ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا 10 فیصد آباد ہے او ر اسے بھی نگراں کا درجہ دیا جانا چاہیے تاہم پاکستان نے اس پیشکش کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان کیساتھ کشیدگی میں اضافے کے باوجود پہلی مرتبہ بھارت کو اعزازی مہمان کے طور پر مدعو کیا جانا نئی دہلی کیلئے سفارتی جیت ہے۔

اوآئی سی

مزید : صفحہ اول


loading...