ماڈل ٹاؤن ڈویژن پولیس کی کارروائی ،تہرے قتل کا ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار، آلہ قبل برآمد

ماڈل ٹاؤن ڈویژن پولیس کی کارروائی ،تہرے قتل کا ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار، ...

لاہور( خبرنگار) انویسٹی گیشن پولیس ماڈل ٹاؤن ڈویڑن نے ٹرپل مرڈر اور اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزم عظیم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر انوش مسعود نے آج اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل معصوم بچے اور دو عورتوں کے اندھے قتل کی لرزہ خیز واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر نا پولیس کے لئے کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ٹرپل مرڈر، اندے قتل کی واردات میں ملوث ملزم کو گرفتارکرنے کے لئے انچارج انویسٹی گیشن نصیر آباد سب انسپکٹر محمد سرور اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل پولیس ٹیم نے موقع واردات سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس وارادت میں ملوث ملزم عظیم کو گرفتار کر لیا، جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ مقتولہ کنیز فاطمہ اور روبی کا رشتے دار ہے اور اس کی روبی کے ساتھ دوستی تھی۔ کنیز فاطمہ روبی کی سوتیلی ساس تھی اور ان کا اکثر گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا جس کی وجہ سے روبی نے مجھے کہا کہ میری ساس کو قتل کر دو اور جب میں نے اس کے کہنے پر کنیز فاطمہ کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا تو روبی نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر میں نے اس کو شور کرنے سے منع کیا لیکن وہ بعض نہ آئی تو میں نے روبی کو بھی قتل کر دیا اور اس کے بعدمیں نے روبی کے 3/4 سالہ بیٹے عبدالولی کوبھی اپنی شناخت چھپانے کے لئے قتل کردیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر انوش مسعود نے ٹرپل مرڈر اور اندھے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر نے پر انچارج انویسٹی گیشن نصیر آباد سب انسپکٹر محمد سرور اور پولیس ٹیم کے لئے تعریفی اسناد دینے کا ا علان بھی کیاہے ۔دریں اثناء تہرے قتل کے واقعہ پر دوسرے روز بھی علاقہ میں سوگ کا سماں رہا۔ پولیس نے کم سن بچے ، اس کی والدہ روبی اور دادی کنیزہ فاطمہ کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیں۔ کم سن بچہ عبدالولی سمیت اس کی والدہ روبی اور دادی کنیزہ فاطمہ کی لاشیں گھر پہنچنے پر کہرام برپا ہو گیا اور رشتے دار خواتین لاشوں سے چمٹ چمٹ کر زاروقطار روتی رہیں جبکہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور دوسرے روز بھی پورے علاقہ میں سوگ کا سماں رہا ہے۔ مقتول کم سن عبدالولی ، اس کی والدہ روبی اور کمسن بچے کی دادی کو نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /علاقائی


loading...