18ویں ترمیم بند کمروں میں تیار کی گئی ، احتسابی عمل واضح ہو نا چاہیے : سابق چیف جسٹس

18ویں ترمیم بند کمروں میں تیار کی گئی ، احتسابی عمل واضح ہو نا چاہیے : سابق چیف ...

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم بند کمروں میں تیار کی گئی، اس پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے ہم نے ملک کے اداروں کو مضبوط نہیں کیا، سیاست میں آنیکا کوئی ارادہ نہیں، ڈیم فنڈعوام کی امانت ہے جس میں کوئی خیانت نہیں کر سکتا۔کراچی کونسل آن فارن ریلیشن کے تحت مقامی ہوٹل میں سیمینار میں سابق چیف جسٹس کی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم بند کمروں میں تیار ہوئی جس پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، پاکستان نہ ہوتا تو کسی بینک کا ملازم ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم فنڈ کے لئے بیرون ملک مزید دورے کروں گا۔ حکومت ڈیم فنڈ کے پیسے خرچ کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گی، ڈیم فنڈ کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے۔سابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ کرپشن سے بچنے کے لیے احتساب کاعمل واضح ہونا چاہیے۔کراچی میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران ثاقب نثار نے کہا کہ اعلی عدلیہ کو آئین بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ کی ذمہ داری دیتا ہے، سْومو ٹو ایکشن کسی بھی عوامی اہمیت کے مسئلے پر لیا جا سکتا ہے، میں نے ہر سوموٹو اس وقت لیا جب معاشرے سے مایوس ہوگیا تھا، اسلام آباد میں سول جج کی جانب سے ملازمہ پر تشدد کا معاملہ پر دو دن تک انتظار کرتا رہا، بھینسوں کو انجیکشن کا معاملہ ہو یا غیر معیاری دودھ، کسی نے پیٹیشن دائرنہیں کی، میرے پاس اس صورت میں بنیادی حقوق کے نفاذ کا ایک راستہ تھا، کرپشن جیسے ناسور پر اگر میں نے سوموٹو ایکشن لیے تو کیا یہ بنیادی حقوق کا معاملہ نہیں ہے، میڈیکل کالجز کی بچیوں کو 726 ملین واپس کرائے کیا یہ اختیارات سے تجاوز ہے؟۔اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب کے دوران سابق چیف جسٹس آر کا کہنا تھا کہ ایک ریاست اور ایک ملک کے طور پر اللہ نے اس معاشرے کو نعمت بخشی ہے، کرپشن سے بچنے کے لییاحتساب کاعمل واضح ہونا چاہیے، ملک کے لئے محبت کم ہوتی جارہی ہے، ہم بہت دیر تک پاکستان کی محبت سے نا آشنا رہے۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میری عزت میرا سب کچھ پاکستان سے ہے، جو کچھ بھی ملا ہے وہ اس ملک کی محبت کی وجہ سے ہے، اگر پاکستان نہیں ہوتا تو میں کسی بینک کا ملازم ہوتا، لوگوں کے حقوق کی پاسداری، آئین اور ملک کی ترقی وطن سے محبت سے ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے انصاف اہم ستون ہے، عدل کے ساتھ کفالت کرنے والے ترقی کرتے ہیں، ہمیں عدل کرنے والے قاضی چاہیے، وائٹ کالر جرائم پکڑنے کے لیے ہمیں اپنے قانون میں جدید خطوط پر ترامیم کرنا ہوں گی۔میرے سوموٹو کو مذاق لیا گیا تھا لیکن میں جواز دے سکتا ہوں، ست میں آنے سے متعلق ثاقب نثار نے کہا کہ سیاست میں نہیں آؤں گا، میں نے صرف قانون پڑھا ہے، میں چاہتا ہوں کہ عوام کو مفت قانونی معاونت فراہم کروں۔

میاں ثاقب نثار

مزید : صفحہ اول


loading...