سروسز میں غریبوں کو وی آئی پی کا درجہ دے کر ماڈل ہسلپتال بنایا جائے گا:ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ

سروسز میں غریبوں کو وی آئی پی کا درجہ دے کر ماڈل ہسلپتال بنایا جائے گا:ڈاکٹر ...

لاہور (جاوید اقبال)سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ نے کہا ہے میری پہلی ترجیح مریض کو ہسپتال میں وی آئی پی کا درجہ دینا ہے ، ہسپتال کی صفائی،ہر ایک کیلئے مفت دوائی ،مریض کی رہنمائی اور احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی میری ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے ہسپتال کو دنیا کا ایک ماڈل مرکز صحت بنانے کے لئے 100نہیں 50دن درکار ہوں گے، وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، سیکرٹری صحت ثاقب ظفر، پرنسپل پروفیسر محمود ایاز مریض اور اپنی ٹیم کی توقعات پر پورا اترنے کی سر توڑ کوشش کروں گاان خیالا ت کااظہار روزنامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ نے کہا کہ ہسپتال کے موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے سروسز ہسپتال کو دنیا کا ایک ماڈل ہسپتال بنانے کے لئے عملی طور پر کام شروع کردیا ہے میرے لئے ہسپتال میں وی آئی پی صرف غریب مریض ہیں ہسپتال میں آنے والے غریب لاچار اور لاوارث مریض کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنا اور علاج معالجہ کی مفت سہولیات دینا میرا فرض ہے اور میرے ایمان کا حصہ ہے آئی سی یو میں زیر علاج اور ڈائلیسس کے مریض میری توجہ کا مرکز ہوں گے ہسپتال میں کام کرنے والا عملہ ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو ساتھ لے کر چلوں گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جو میں کروں گا سب کام شروع کردیا ہے ۔انہوں نے کہا ہسپتال میں بہتری لانے کے لئے خفیہ اور ظاہری مانیٹرنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے اس کے لئے خفیہ اداروں کی بھی مدد لی گئی ہے اور ہسپتال میں وزٹ کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے،مریض ڈاکٹر اور انتظامیہ میں موجود فاصلوں کو کم کیا جائے گا اس کے لیے ہر مہینے میں دو مرتبہ کھلی کچہری لگایا کروں گا جس میں مریض اور ملازمین کی شکایات سنی جائیں گی اور ان کے حل کے لئے عملی طور پر اقدامات کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ایم ایس سروسز ہسپتال نے کہا کہ ہسپتال میں شکایات باکس لگائے جائیں گے جس کی چابی میرے پاس ہوگی ۔ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اس ہسپتال پر مریض ڈاکٹرز اور شہریوں کا اعتماد بحال کریں گے انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ماضی میں ہڑتالیں ہوتی رہی ہیں مگر جب ہم مسائل ہی نہیں رہنے دیں گے تو ہڑتال پھر کیسے ہوگی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ نے کہا کہ شکایات کی سب سے بڑی وجہ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان فاصلے اور اخلاقیات کی کمی ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کے اخلاقیات کا ایک سبجیکٹ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تعاون سے سلیبس میں شامل کروائیں اور اسی طرح ہسپتال میں اخلاقیات پر شارٹ کورسز کروائے جائیں گے جن میں مریض اور ڈاکٹر کے حقوق کا بتایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم سروسز ہسپتال میں فرینڈز آف سروسز ہسپتال کے نام سے ایک تنظیم قائم کر رہے ہیں جو ہسپتال کی بہتری کے لئے کام کرے گی موجودہ پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کی تنظیم نو کریں گے یہ وہ نتائج نہیں دے سکی جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی،کوشش کی جائے گی کہ اس کے تحت ہسپتال کے چھوٹے موٹے کام کے لیے فنڈز خود پیدا کریں۔ ایم ایس نے کہا کہ ہر مریض کو ہر دوائی فراہم کرنے کے لئے ڈرگ بینک کا کہا جائے گا ڈرگ بینک سے ہر مریض کو مفت دوائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں رش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کے ایک مریض کے ساتھ دس دس اٹینڈنٹ آتے ہیں اس روایت کو ختم کرنے کے لئے ہسپتال اور اسپتال کے عملے پر مریض اور ان کے گھر والوں کا اعتماد بحال کریں گے ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ میں شعبوں کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف ہو ں ہسپتال کے موجودہ عملے سے ہی کام لیں گے صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی پارکنگ کے نظام میں بہتری لا رہے ہیں اور چارجنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی لوکل پرچیز کی وجہ بلک پر چیز پر توجہ دیں گے مجھے پتہ چلا ہے کہ ادویات کی لوکل پرچیز کے نظام میں بہت ساری خرابیاں ہیں اگر آن لائن سسٹم نہیں چل سکا اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے اور اس کے لئے جلد محکمہ صحت سے بات کروں گا چونکہ جس سسٹم کے تحت ساتھ کنٹریکٹرز مل کر بھی ایل پی کی ادویات پوری نہ کر سکے اس سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ دن کی بجائے رات کا نظام بہتر بنائیں گے، بہتر انتظامات کے لیے پورے ہسپتال کو زونوں ط میں تقسیم کیا جارہا ہے ہرزون کا سربراہ ایک ڈی ایم ایس یا اے ایم ایس ہوگا جو صفائی سے لے کر ادویات کی فراہمی مشینری کو چالو رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ ہسپتال میں بڑی تعداد میں آلات اور مشینری خراب ہے جس کو درست کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس کام میں مجھے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز، وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور سیکرٹری صحت ثاقب ظفر کی مکمل حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے باہر پیدل چلنے والوں کے لے سڑک پار کرنے کے لئے کوئی کوی فلائی اوورموجود نہیں تھا ہم سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے مشکور ہیں جنہوں نے ہم کو فلائی اوور بنانے کی یقین دہانی کرا دی ہے ایم ایس نے کہا کہ سروس ہسپتال ایک تدریسی ہسپتال ہے یہاں آؤٹ ڈور اور امرجنسی میں ہر وقت پروفیسر مریض کو دستیاب نہیں ہوسکتا اس کے لئے ہم ریفرل سسٹم کو بہتر بنائیں گے اگر ہر مریض کو پروفیسر نے ہی دیکھنا ہے تو بچوں کو تربیت کیسے دی جائے اور نئے ڈاکٹر کس طرح سے پیدا ہوں گے ۔ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ نے مزید کہا کے ہسپتال میں اندھیرے ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے ہسپتال کا تمام ایئرکنڈیشن نظام 20 مارچ تک اوورہال کر دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کام چور عملے کے لئے بائیومیٹرک حاضری کا نظام شروع کیا جائے گا مریض کے لئے مسائل پیدا کرنے والے عملے اور ڈاکٹرز کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ، مریض سے محبت اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والوں کو سینے سے لگاؤں گا۔انہوں نے کہا تمام یونین لیڈر میرے بھائی ہیں ان کو ساتھ لے کر چلوں گا اور یہ اسپتال ان کا ہے اس کی بہتری کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے ایک اور سوال کے جواب دے ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے سی ٹی او لاہور سے مل کر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کروائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں ایم ایس نے کہا کہ ہسپتال میں بجلی کی وائرنگ کا نظام سالہاسال پرانا ہے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے عملی اقدامات کریں گے آپریشن تھیٹر و ں کو مزید بہتر بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ سروسز ہسپتال کی خوش بختی ہے کہ اس کو پروفیسر محمود ایاز جیسا ایک ایماندار اور تربیت یافتہ پرنسپل میسر ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1 /پشاورصفحہ آخر


loading...