وزیر اعلٰی کاکفایت شعاری مہم کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات میں بڑا کٹ لگانے کا فیصلہ

وزیر اعلٰی کاکفایت شعاری مہم کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات میں بڑا کٹ لگانے کا ...

پشاور (سٹاف رپورٹر ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کفایت شعاری مہم کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات میں بڑا کٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ غیر ضروری اخراجات نہیں ہوں گے، بچت کی رقم باہمی فلاح و بہبود اورعوامی مشکلات کے ازالے کیلئے خرچ کی جائیگی۔ انہوں نے بہتر طرز حکمرانی کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کمیونیکیشن ، کوآرڈینیشن اورامپلیمنٹیشن سیل کے قیام کابھی فیصلہ کیا ہے ، سیل عوامی شکایات کے ازالے کے لئے وزیراعلیٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ قائم کرے گا۔سیل کو مختلف سرکاری محکموں میں عوامی شکایات پر رابطوں اور عملدرآمد کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ سیل وزیراعلیٰ کے احکامات پر عمل درآمدسے وزیراعلیٰ کو آگاہ کرتارہے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ عوامی توقعات کے مطابق بہتر حکمرانی صوبائی حکومت کا شروع دن سے ہدف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کو ہدایات جاری کرتے ہوئے اور مختلف وفود سے گفتگو کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ نے غیر ضروری اخراجات نہ کرنے ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے اور سیل کے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ انکی حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے نہایت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے ۔ اور دوسرے طرف صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ انکشاف کیا کہ صوبے کے طول و عرض میں پھیلے قدرتی وسائل کو عوامی خوشحالی، خودکفالت اور دیر پا ترقی کی بنیاد بنانے کیلئے طویل المدتی سٹریٹیجک منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس پر عملدرآمدمیں منتخب عوامی نمائندوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ منتخب نمائندے اپنے حلقوں میں حکومت کے منصوبو ں کو بار آور بنانے اور غریب لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے حکومتی کاوشوں سے تعاون یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شفاف حکمرانی بہتر مستقبل کیطرف پہلا قدم ہے، کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی اور خوشحالی طرز حکمرانی پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے سب سے پہلے حکمرانی کے نظام میں تبدیلی کا بیڑہ اٹھایا، قابل عمل اصلاحات کیں، میرٹ پر فیصلہ سازی کی بنیاد رکھی، بااختیار ادارے بنائے اور انہیں جوابدہ بنایا ، سب سے اہم یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام کو حکمرانی کے دہارے میں لایا تاکہ وہ اپنی ترقی کے فیصلوں میں خود شریک ہو سکیں۔ ہم نے ماضی کی کمزوریوں سے سیکھا اور غلطیوں کو دور کیا، اب کسی قسم کی غفلت یا غلطی کی گنجائش نہیں، عوام نے ہم پر اعتماد کیا اور ہم انکے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت سی پیک کے تناظر میں بدلتے ہوئے منظر نامے سے پورا پورا فائدہ اُٹھا نے کیلئے حکمت عملی بنا چکی ہے۔ صوبے میں صنعت اور سرمایہ کاری کے راستے کھول دیئے گئے ہیں۔ رشکئی ، حطار اور ڈی آئی خان جیسے اکنامک زون کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر ضلع کو میگا پراجیکٹ دیں۔ گھریلوصنعتوں کے فروغ پر بھی کام جاری ہے۔ آج صوبہ بھر میں معاشی سرگرمیاں تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہیں۔ صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہنرمند افراد کی تیاری شروع ہے۔ صوبے میں پائے جانے والے تیل، گیس اور دیگر معدنی وسائل کی ایکسپلوریشن تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ سیاحت کی بھی خاطرخواہ استعداد رکھتاہے۔ سوات، ملاکنڈ، ہزارہ اور نئے ضم شدہ اضلاع میں سیاحتی مقامات کو صنعتی خطوط پر ترقی دے رے ہیں۔ ہم نئے سیاحتی مقامات متعارف کرانے جارہے ہیں۔ مختلف ریجنز میں20 نئی سائٹس کی نشاندہی کے بعد ان کی ترقی کا عمل شروع ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ کے تناظر میں مواصلاتی نظام کو باہم مربوط کیا جارہا ہے۔ یہ خطہ مستقبل قریب میں افغانستان اور وسطی ایشیاء کیلئے گیٹ وے ثابت ہو گا۔ سوات موٹر وے تکمیل کے مراحل میں ہے ،سوات موٹروے کو دوسرے مرحلے میں آگے مینگورہ تک توسیع دی جائیگی۔ یہ موٹروے سوات اور دیگر ملحقہ اضلاع کو ایم ون کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں اور ہزارہ موٹر وے کے ذریعے گلیات، چترال ، گلگت سے ملاتی ہے۔ دوسری طرف گلگت سے چترال، دیر تا چکدرہ روڈ بھی سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ کوہاٹ سے ڈی آئی خان روڈ کو دو رویہ کیا جارہاہے۔ اسکے علاوہ پشاور سے ڈی آئی خان ریلوے لائن کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔اس طرح یہ پورا خطہ ایک مضبوط اور مربوط مواصلاتی نیٹ ورک اختیار کریگا۔ جس سے سیاحت، صنعت اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اور معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مجموعی منصوبہ بندی کیلئے وسائل کا بندوبست بھی کیا جارہا ہے۔ صوبے کی مالی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔ وفاق سے بجلی کے خالص منافع کی مد میں 20ارب روپے بھی جلد ملنے والے ہیں۔ وفاق سے ملنے والے وسائل میرٹ پر اورشفاف طریقے سے پیداواری شعبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور میں بیری باغ، اخون آ باد سمیت رحمان بابا قبرستا ن کی زمین پرغیر قانونی تعمیرات اورتجاوزات کے حوالے سے خبر کا نوٹس لیا ہے ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر حقائق معلوم کرنے اور قبضہ مافیا کیخلاف کاروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبرستان کے لئے مختص زمین پر کسی قسم کی تعمیر یا تجاوزات قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں عوامی شکایات کا نوٹس لیا جائے اور متعلقہ زمین کو قبضہ مافیا سے بلاتاخیر وگزار کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کے لئے اس عمل کے مکمل تدارک کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...