پشاور اور مضافات میں تجاوزات کی بھرمار‘ انتظامیہ بے بس

پشاور اور مضافات میں تجاوزات کی بھرمار‘ انتظامیہ بے بس

پشاور(سٹی رپورٹر)شہر و مضافاتی علاقوں میں ناجائز تجاوزات کا ناسور ختم نہ ہو سکا، انتظامیہ مین بازاروں سمیت دیگرچوک چوراہوں سے تجاوزات ختم کروانے میں بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں جس کیوجہ سے مختلف مقامات پر تقریبا ہر دکاندار نے اپنی دکان کے آگے کم از کم 5/7 فٹ تک سرکاری جگہ کو اپنے استعمال میں لارکھا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کا اندرون شہر کے بازاروں سمیت دیگر کارروباری مقامات سے گزرنامحال ہو چکا ہے ، موٹر سائیکل و چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو طویل دورانیے تک گزرتے وقت انتظار کی زحمت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ سامان ان لوڈ کرنے والی گاڑیوں ، گدھا گاڑیوں کی آمدورفت سے بازار میں آنے جانے والے خریدار اور خواتین مسلسل شدید زہنی کوفت کا شکار ہو تے ہیں مین بازار سمیت دیگر جگہوں پر اکثر دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے سرکاری راستے پر بڑی ڈھٹائی سے قبضہ کرکے روزانہ کی بنیاد پر ریڑھی بانوں کے ٹھیے لگوا رکھے ہیں شہر کے مین بازراوں میں بااثر دکانداروں نے ریڑھیاں کھڑی کرکے کشادہ بازار کو تنگ گلی میں تبدیل کررکھا ہے۔ مین بازار میں چوک ، چوراہوں پر دکانداروں نے ریڑھیاں ، ٹھیلے ، سٹال اور پھٹے لگا کر بے انتہا ، ہجوم پیدا کر رکھا ہے ، جنرل سٹورز کے مالکان نے دکانوں کے اوپر سائبانوں کے ساتھ ملبوسات ، ہار ، انڈرگارمنٹس اور دیگر سامان آویزاں کررکھا ہے ، سڑکوں پر قائم دکانوں کے آگے لوہے کی الماریاں ، چارپائیاں ، پلاسٹک کی ٹینکیاں اور ہر قسم کا سامان آدھی سڑک پر بکھرا نظر آتا ہے ، ، شہریوں نے ضلعی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے بازاروں میں قائم تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلا تفریق آپریشن کیا جائے تاکہ بازار کشادہ ہو سکیں اور خریداری کے لئے آنے والے شہریوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...