ریلوے کے ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ، کتنی آسامیاں اور کون کونسے شعبہ جات ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

ریلوے کے ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ، کتنی ...
ریلوے کے ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ، کتنی آسامیاں اور کون کونسے شعبہ جات ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  


لاہور(ویب ڈیسک)  وزارت ریلوے نے ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے 700 بھرتیاں اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ اور 500 بھرتیاں ریلوے پولیس میں ہوں گی،ریلوے کے شعبہ اکاؤنٹس میں 500 جونیئر آڈیٹرز اور 200 سینئر آڈیٹرز جبکہ ریلوے پولیس میں 5سو کانسٹیبل اور 25 اے ایس آئی بھرتی کیے جائیں گے۔ تمام اسامیوں پر بھرتی کا عمل آئندہ ماہ سے مرحلہ وار شروع کیا جائے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزارت ریلوے نے شعبہ اکاؤنٹس اور ریلوے پولیس میں عرصہ دراز سے خالی پوسٹوں پر بھرتی کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں آئندہ ماہ سے بھرتی کے حوالے سے خواہش مند افراد سے درخواستیں طلب کیا جائیں گی اور بھرتی کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہوجائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے سینئر آڈیٹرز کے لیے بی کام کی شرط رکھی گی ہے جب کہ سینئرز آڈیٹرز کی بھرتی کا عمل پبلک سروس کیمشن کے ذریعےپورا کیا جائے۔ جونیئر آڈیٹرز کا تقرر محکمانہ طور پر کیا جائے گا اور ریلوے کی جن ڈویژنز میں عرصہ دراز سے اسامیاں خالی ہیں انہیں مکمل کیا جائے گا۔

ریلوے کے مطابق ان بھرتیوں سے کام کی رفتار بہتر ہوگی کیونکہ اس وقت اسٹاف پر ایک سے زائد سیٹس کا اضافی بوجھ ہے جس سے کام کی رفتار بھی سست ہے۔ اسی طرح ریلوے پولیس میں اے ایس آئی کی بھرتی نجی ٹیسٹ لینے والی کمپنی کے ذریعے کی جائے گی۔ اے ایس آئی کی پوسٹ کے لیے ٹیسٹ نجی کمپنی لے گی اور فیزیکلی ٹیسٹ اور انٹرویو ریلوے پولیس کے افسران خود لیں گے۔

ریلوے پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کا عمل محکمانہ طور پر کیا جائے گا بھرتی کے دوران جن ڈویژنز میں ریلوے پولیس  سٹاف کی کمی ہے وہ بھی مکمل ہوجائیں گی اور ریلوے پولیس میں بھی کام کی رفتار خاطرخواہ بہتر ہوگی۔ اس وقت ریلوے پولیس میں بھی اسٹاف کی کمی ہے بھرتی کے عمل کے بعد ریلوے پولیس کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

مزید : قومی


loading...