پی کے ایل آئی میں بے ضابطگیاں، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، ڈاکٹر سعید اختر کی مالی بے ضابطگیوں کی تردید

پی کے ایل آئی میں بے ضابطگیاں، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، ڈاکٹر سعید اختر کی ...
پی کے ایل آئی میں بے ضابطگیاں، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، ڈاکٹر سعید اختر کی مالی بے ضابطگیوں کی تردید

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای)نے اپنی انکوائری رپورٹ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ (پی کے ایل آئی)اور انجینئرنگ فرمز کے متعدد اعلیٰ حکام کو مالی بے ضابطگیوں کا مرتکب ہونے اور قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے تاہم نامور ڈاکٹرکا دعویٰ ہے کہ ”جدید کارپوریٹ کلچرکے مطابق کے پی ایل آئی مینجمنٹ نے بورڈ آف گورنرز کے منظور کردہ تمام قوانین کی پیروی کی اور کوئی خلافِ ضابطہ کام نہیں کیا۔“

اے سی ای نے رواں ماہ کے آغاز میں اس حوالے سے اپنی حتمی انکوائری رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ اس جدید ترین ہسپتال میں معیار سے ہٹ کر سٹاف اور غیرملکی نرسیں بھرتی کرنے کے پیچھے پی کے ایل آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید اختر کا ہاتھ ہے۔

روزنامہ پاکستان کے پاس دستیاب اے سی ای کی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ”پی کے ایل آئی مینجمنٹ نے میڈیکل اور نان میڈیکل سٹاف کی بھرتی میں لازمی احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھا اور اس حوالے سے قواعدو ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔بھرتیوں کے اس سارے عمل میں ڈاکٹر سعید اختر کے کردار پر مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔“

انکوائری رپورٹ میں لگائے گئے بے ضابطگیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید اختر کا کہنا ہے کہ ”مجھ پر 1500ملازمین میں سے 3 افراد کی خلاف قانون بھرتی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ “ان تین بھرتیوں میں سے ایک قیصر رفیق ہیں جو اے سی ای کے مطابق الیکٹرک انجینئرنگ میں بیچلرز ڈگری رکھتے ہیں لیکن انہیں پی کے ایل آئی اینڈ آر سی میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا، حالانکہ بھرتیوں کے اشتہار پر اس آسامی کے لیے تعلیمی معیار سول انجینئرنگ میں بیچلرزڈگری اور متعلقہ شعبے میں ماسٹرز مشتہر کیا گیا تھا۔

اسی طرح اے سی ای کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز کیے جانے والے ڈاکٹر عامر یار خان، راشد غفور اور عقیل میر کی بھرتی کے معاملے میں بھی مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مجاہد شیردل اور ڈاکٹر سعید اختر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس معتبر ادارے کو چلانے کے امور میں قواعدوضوابط کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔تاہم نامور ڈاکٹرکا دعویٰ ہے کہ ”جدید کارپوریٹ کلچرکے مطابق کے پی ایل آئی مینجمنٹ نے بورڈ آف گورنرز کے منظور کردہ تمام قوانین کی پیروی کی اور کوئی خلافِ ضابطہ کام نہیں کیا۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ہم نے حکومتی قوانین پر عمل کیا ہوتا تو یہ ہسپتال ایک حکومتی ہسپتال بنتا، کبھی معیار کا مثالی نمونہ نہ بنتا جو کہ آج ہے۔“ انہوں نے ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں ان پر مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف اے سی ای کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”منصوبے میں چیک اینڈ بیلنس کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی اور ایسی غیرقانونی سرگرمیاں کی گئیں1ارب 65کروڑ 54لاکھ 90ہزار روپے کا نقصان ہوا اور 14کروڑ19لاکھ 70ہزار روپے کی غیر قانونی پے منٹ آئی ڈی اے پی آفیسرز نے استعمال کی جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔“

مزید براں انکوائری رپورٹ میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب حکومت کے منصوبے میں کردار کی مزید تحقیقات کرنے کو بھی کہا گیا جنہوں نے اس منصوبے کی منظوری دی اور پی سی 1کے بغیر پی کے ایل آئی اینڈ آر سی کو فنڈز جاری کیے۔

گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ کی طرف سے پی کے ایل آئی میں فنڈز کی خردبرد، بے ضابطگیوں اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف و دیگرافراد کی پی کے ایل آئی کے بورڈآف گورنرز میں تعیناتی کے خلاف سوموٹونوٹس لیا اور اے سی ای کو انکوائری کا حکم دیا گیاتھا جس نے اب اپنی رپورٹ دے دی ہے۔

اس وقت عدالتی کمیشن نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کو بتایا تھا کہ منصوبہ جو دسمبر 2017ءتک مکمل ہونا تھا، اب تک اس پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے لیے 12ارب 70کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی تھی لیکن تعمیر میں تاخیر ہونے پر اس کی لاگت میں 53ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔

سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس اقبال حمید الرحمن کو اس ہسپتال کے امور چلانے والی 5رکنی ایڈہاک کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ اے سی ای کی حتمی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ 50ایکڑقطعہ اراضی پر محیط اس منصوبے پر تاحال تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ اشتہارات میں بتایا گیا تھا کہ پی کے ایل آئی 1000 سے زائد بیڈز کا ہسپتال ہو گا لیکن بعد ازاں اسے کم کرکے 472بیڈز ہسپتال تک محدود کر دیا گیا۔ دوسری طرف منصوبے کی تعمیرمیں تاخیر کے ساتھ کنسلٹنٹ فیس میں کروڑوں روپے کا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ہسپتال کی بروقت تعمیر کے لیے فنڈز کی جلد منظوری کے لیے انتظامات کیے گئے، مہنگے ریٹ پر کام ایوارڈکیا گیا، بھاری معاوضوں پر پروفیشنلز اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کیں گئیں لیکن منصوبہ پھر بھی بروقت مکمل نہ ہو سکا کہ اور تمام اقدامات اور خرچ بے کار گیا۔

آئی ڈی اے پی انتظامیہ نے منصوبے کی تعمیر میں تاخیر سے ہونے والے نقصان پر کنٹریکٹرز کو کوئی جرمانہ نہیں کیا۔ دوسری طرف سی پی جی۔ایکروپ، ایم/ایس/نیسپاک۔مویوانگ وغیرہ جیسے کنسلٹنٹس کو بھاری فیسیں ادا کی گئیں۔گزشتہ سال جولائی میں عدالت عظمیٰ کو جب بتایا گیا کہ ملازمین کی تنخواہوں پر ماہانہ 10کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن اب تک انسٹیٹیوٹ میں گردے یا جگر ٹرانسپلانٹ کا ایک آپریشن بھی نہیں ہوا۔ جس پر عدالت عظمیٰ نے پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پی کے ایل آئی کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ”ہسپتال جون میں مکمل ہو جائے گا اور ہم اسے کامیابی سے چلائیں گے۔ پنجاب حکومت نے اس منصوبے کے لیے اربوں روپے مہیا کیے لیکن اس میں حکومت کا کردار بہت محدود رکھا گیا۔ اب ہم اس حوالے سے اقدام اٹھانے جا رہے ہیں۔ ہم ایک بورڈ قائم کرنے جا رہے ہیں جس کی سربراہی وزیراعلیٰ پنجاب کریں گے۔“ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ جنوری تک ہسپتال میں 22کڈنی ٹرانسپلانٹ اور 2لیور ری سیکشنز ہو چکے ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...