”نواز شریف کو طبی بنیاد پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست نہیں کرنی چاہئے کیونکہ۔۔۔“ حامد میر کی بات سن کر نواز شریف بھی سوچ میں مبتلا ہو جائیں

”نواز شریف کو طبی بنیاد پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست نہیں کرنی چاہئے ...
”نواز شریف کو طبی بنیاد پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست نہیں کرنی چاہئے کیونکہ۔۔۔“ حامد میر کی بات سن کر نواز شریف بھی سوچ میں مبتلا ہو جائیں

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف کو طبی بنیادوں پر پاکستان سے باہر جانے کی اجازت مل سکتی ہے تو پھر ہر پاکستانی جا سکتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں نواز شریف کو طبی بنیاد پر ضمانت اور سزا معطلی کا موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ ایک سیاستدان ہیں، جبکہ پرویز مشرف بھلے ہی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں مگر ان کی پہچان ایک سابق آرمی چیف اور آمر کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ میں نے پہلے ہی یہ کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) فیصلے پر تنقید کرے گی اور جب عدالت کا فیصلہ آتا ہے تو اس کا مختلف پہلوﺅں سے جائزہ لیا جاتا ہے اور تنقید بھی کی جاتی ہے البتہ مسلم لیگ (ن) کے فوری ردعمل سے لگ رہا ہے کہ وہ کافی محتاط ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ طبی بنیادوں پر پاکستان کی عدالتیں پہلے بھی بہت سے فیصلے دے چکی ہیں اور ہماری سیاست پر ان کے بہت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب نواز شریف کی حکومت تھی اور پرویز مشرف کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں تھا۔ اس وقت عدالت نے نہیں کہا تھا کہ پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی جائے مگر حکومت نے اجازت دے کر دعویٰ کیا کہ عدالت کے فیصلے سے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دے رہے ہیں جبکہ اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ 4 سے 6 ہفتے کی بات ہے، پرویز مشرف واپس آ جائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) نے خود ہی یہ موقف اپنایا کہ نواز شریف کی حکومت کے دور میں ہی سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو کمر درد کی وجہ سے باہر جانے کی اجازت دیدی ہے حالانکہ اس وقت سپریم کورٹ خاموش رہی اور پھر کافی عرصے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار چوہدری نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسی کوئی بات نہیں کی اور پھر اس کے کچھ عرصہ بعد پرویز مشرف نے ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ مجھے باہر بھیجنے کیلئے سب کچھ مینج کیا گیا اور پاکستان سے نکالا گیا۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر طبی بنیاد پر پرویز مشرف کو علاج کیلئے باہر بھیجا گیا ہے تو مسلم لیگ (ن) بھی کہہ سکتی ہے کہ نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھیجنا چاہئے۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کو ایسا موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ سیاستدان ہیں جبکہ پرویز مشرف بھلے ہی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں مگر وہ سیاستدان نہیں اور ان کی جتنی بھی پہچان ہے وہ سابق فوجی سربراہ اور آمر کے طور پر ہے۔ اگر پرویز مشرف طبی بنیادوں پر پاکستان سے باہر جا سکتا ہے تو اور شہری بھی جا سکتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آج کے فیصلے کے بعد ایک پرانی بحث کہ ، سب کا احتساب ہو سکتا ہے، پرویز مشرف کا احتساب نہیں ہو سکتا، سیاستدانوں کیلئے قانون کچھ اور جبکہ پرویز مشرف کیلئے کچھ اور ہے، شروع ہو جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جو ردعمل دے رہے تھے کہ وہ اپنے ہی ورکر اور ساتھیوں کے دباﺅ میں آئیں گے اوربالآخر اپنے کیس کا موازنہ پرویز مشرف کے کیس کیساتھ موازنہ کریں گے۔

مزید : قومی


loading...