”آج کے ردعمل سے (ن) لیگی رہنماءاپنے ہی ورکر اور ساتھیوں کے دباؤ میں آ جائیں گے اور پھر۔۔۔“ لیگی رہنماءکچھ عرصے بعد کیا کریں گے؟ حامد میر نے حیران کن دعویٰ کر دیا

”آج کے ردعمل سے (ن) لیگی رہنماءاپنے ہی ورکر اور ساتھیوں کے دباؤ میں آ جائیں گے ...
”آج کے ردعمل سے (ن) لیگی رہنماءاپنے ہی ورکر اور ساتھیوں کے دباؤ میں آ جائیں گے اور پھر۔۔۔“ لیگی رہنماءکچھ عرصے بعد کیا کریں گے؟ حامد میر نے حیران کن دعویٰ کر دیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد لیگی رہنماءجو ردعمل دے رہے تھے اس پر وہ اپنے ہی ساتھیوں اور ورکرز کے دباﺅ میں آئیں گے اور بالآخر اپنے کیس کا موازنہ پرویز مشرف کے کیس سے کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کو طبی بنیاد پر باہر بھیجا گیا ہے تو مسلم لیگ (ن) بھی کہہ سکتی ہے کہ نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھیجنا چاہئے۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کو ایسا موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ سیاستدان ہیں جبکہ پرویز مشرف بھلے ہی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں مگر وہ سیاستدان نہیں اور ان کی جتنی بھی پہچان ہے وہ سابق فوجی سربراہ اور آمر کے طور پر ہے۔

اگر پرویز مشرف طبی بنیادوں پر پاکستان سے باہر جا سکتا ہے تو اور شہری بھی جا سکتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آج کے فیصلے کے بعد ایک پرانی بحث کہ ، سب کا احتساب ہو سکتا ہے، پرویز مشرف کا احتساب نہیں ہو سکتا، سیاستدانوں کیلئے قانون کچھ اور جبکہ پرویز مشرف کیلئے کچھ اور ہے، شروع ہو جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جو ردعمل دے رہے تھے اس پر وہ اپنے ہی ورکر اور ساتھیوں کے دباﺅ میں آئیں گے اوربالآخر اپنے کیس کا موازنہ پرویز مشرف کے کیس کیساتھ موازنہ کریں گے۔

مزید : قومی


loading...