اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 98

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 98
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 98

  


ایک دفعہ ایک ہندو فقیر حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیریؒ کے روضہ مبارک پر آیا۔نورانی جگہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ کسی واصل بہ حق کا مزار ہے مگر مذہبی تعصب اور کدورت کی وجہ سے روضہ کے اندر آیا اور تربت مبارک مسمار کرنا چاہا اور اپنی کلہاڑی سے مزار مبارک کو ڈھانے لگا۔ چند اینٹیں نکالی تھیں اور چاہتا تھا کہ اندر سے قبر کو دیکھے کہ اس میں کیا ہے کہ اسی وقت قہر الہٰی میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوا۔ جب رات ہوئی تو خدام آستانہ کو خواب میں صابر پیاؒ ملے۔ فرمایا کہ ایک شخص بے ادبی مزار کے لیے آیا تھا۔ اپنی سزا کو پہنچا ہے، ابھی تک گرفتار رہے جاؤ اس کو نکالو۔‘‘

صبح جلدی سے مجاور مزارمبارک پر پہنچے۔ مزار کے نزدیک سے اس ہندو فقیر کے مردہ جسم کو گھسیٹ کر دور ڈالا۔ اس روز کے بعد مزار کے گردونواح میں آبادی کا آغاز ہوا۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 97 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک مرتبہ سفر حج میں حسین منصورؒ کے ہمراہ چار افراد مکہ معظمہ پہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپ ننگے سر اور برہنہ جسم کھڑے ہوگئے اور مکمل ایک سال تک اسی حالت میں کھڑے رہے۔ حتیٰ کہ شدید دھوپ کی وجہ سے آپ کی ہڈیوں تک کا گودا پگھل گیا اور جسم کی کھال پھٹ گئی ۔ اسی دوران کوئی شخص روزانہ ایک ٹکیہ اور ایک کوزہ پانی آپ کے پاس پہنچا دیتا تھا اور آپ ٹکیہ کے کنارے کھا کر باقی ماندہ حصہ کو کوزہ پر رکھ دیا کرتے تھے۔

آپ کے استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ کے تہبند میں ایک بچھو نے رہنے کی جگہ بنالی تھی۔

***

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ایک روز بشر حافیؒ کے پاس ایک جماعت صوفیوں کی آئی۔ سب گدڑی پوش تھے آپ نے فرمایا 

’’اے لوگو! اللہ سے ڈرو۔ یہ لباس ترک کرو۔ کیونکہ اس لباس سے تم پہچانے جاتے ہو۔‘‘

سب خاموش رہے مگر ایک جوان ان میں سے بولا ’’قسم خدا کی ہم اس کو ض رور پہنیں گے۔ ضرور پہنیں گے۔ یہاں تک کہ تمام دین خدا کے واسطے ہوجائیں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’خوب کہا اے جوان! تمہارے ہی جیسے اس کے پہننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

***

جس دن حضرت حسین منصور کو قید میں ڈالا گیا تو رات کو جب لوگوں نے جاکر دیکھا، تو آپ وہاں نہیں تھے اور دوسری شب میں نہ قید خانہ تھا نہ آپ تھے اور پھر تیسری شب میں دونوں موجود تھے۔ جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا

’’پہلی شب میں تو مَیں رسول پاکؐ کی خدمت اقدس میں حاضر تھا اور دوسری شب حضور پاک ﷺ یہاں تشریف فرما تھے۔ اس لیے قید خانہ گم ہوگیا تھا اور اب مجھے شریعت کے تحفظ کی خاطر یہاں پھر بھیج دیا گیا۔

آپ قید خانہ کے اندر ایک رات دن میں ایک ہزار رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے اور پھر جب لوگوں نے پوچھا ’’جب انا الحق خود آپ ہیں تو پھر نماز کس کی پڑھتے ہیں؟‘‘

آپ نے فرمایا کہ ’’اپنا مرتبہ ہم خود سمجھتے ہیں۔‘‘

***

ایک دن سید جلال الدین بخاریؒ کے بیٹھے بیٹھے کہیں آگ لگ گئی۔ آپ نے مٹھی بھر مٹی لے کر شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ کا نام باآواز بلند لیا اور مٹی کو آگ کی طرف پھینک دیا۔ آگ اسی وقت ٹھنڈی پڑگئی۔

***

شیخ ابو الفوارس شاہ بن شجاع کرمانی ایک روز شکار کر نکلے۔ اس زمانے میں یہ کرمان کے حاکم تھے۔ شکار کی تلاش میں تن تنہا جنگل میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درندہ پر سوار ہے اور بہت سے درندے اس کے اردگر دہیں۔

جب درندوں نے شاہ بن شجاع کو دیکھا تو فوراً ان کی طرف جھپٹے۔ اس نوجوان نے ان کو روکا۔ نوجوان نے شاہ کے قریب ہوکر سلام کیا اور کہا

’’اے شاہ! اللہ تعالیٰ سے تم کس قدر غافل ہوکر دنیا کے لیے آخرت کو بھول رہے ہو۔ اور اپنی لذت و خواہش کی طلب میں اپنے آقا و مالک کی خدمت سے منہ پھیر رہے ہو۔ تم کو خدا نے دنیا اس لیے دی ہے کہ اس کی اولاد سے اس کی خدمت گزاری میں کوشش کرو تم نے اسے عیش ہی کا وسیلہ بنالیا ہے۔‘‘

وہ نوجوان ابھی ان کو نصیحت ہی کررہا تھا کہ یکا یک ایک بڑھیا ہاتھ میں پانی کا پیالہ لیے ہوئے نکلی اور اس جوان کو وہ پیالہ دے دیا۔

اس نے اول تو خود پیا اور باقی بچا ہوا شاہ کو دے دیا۔ انہوں نے کہا ’’ایسی مزیدار اور ٹھنڈی شے میں نے کبھی نہیں پی۔‘‘

اتنے میں وہ بڑھیا غائب ہوگئی پھر اس جوان نے کہا ’’یہ بڑھیا دنیا ہے۔ میری خدمت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے مقرر کردیا ہے اور کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔ تو اس سے یہ فرمادیا تھا کہ اے دنیا جو کوئی میری خدمت کرے تو تم بھی اس کی خدمت کرنا اور جو کوئی تیری خدمت کرے تو تم اس سے اور زیادہ خدمت لینا۔‘‘

جب شاہ نے یہ واقعہ دیکھا اور سنا تو فوراً توبہ کی اور اللہ کے پیاروں میں سے ہوگیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 99 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے


loading...