ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو کس عمر سے پہلے ہی کوشش شروع کردینی چاہیے؟ ماہرین نے مشورہ دے دیا

ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو کس عمر سے پہلے ہی کوشش شروع کردینی چاہیے؟ ...
ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو کس عمر سے پہلے ہی کوشش شروع کردینی چاہیے؟ ماہرین نے مشورہ دے دیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی معاشروں میں خواتین کے اوائل عمری میں بچے پیدا کرنے کا رجحان اس قدر کم ہو چکا ہے کہ اب برطانیہ میں حکومت نے اس حوالے سے ایک مضمون سکینڈری سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اب سکینڈری سکولوں کے طلبا و طالبات کو ’افزائش نسل‘ سے متعلق لیکچر دیئے جائیں گے جن میں انہیں بتایا جائے گا کہ اوائل عمری اولاد پیدا کرنے کے کیا فوائد ہیں اور کس طرح بڑھتی عمر کے ساتھ خواتین میں افزائش نسل کی صلاحیت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور 35سال کی عمر کے بعد انہیں بچہ پیدا کرنے میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چیف میڈیکل آفیسر ڈیمی سیلی ڈیویس کا کہنا ہے کہ ”خواتین اپنا کیریئر بنانے کے لیے اولاد کی پیدائش کو مو¿خر کرتی رہتی ہیں اور یہ رجحان اب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس میں ہر سال تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ خواتین کو ہر حال میں 35سال کی عمر سے پہلے بچوں کی پیدائش شروع کر دینی چاہیے۔ اب اس حوالے سے نوجوان لڑکیوں کو آگہی دینا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہیں بتایا جانا چاہیے کہ اگر وہ بروقت بچے پیدا نہیں کریں گی تو انہیں اولاد کے حصول میں کتنی مشکلات درپیش ہوں گی اورزیادہ عمر میں جا کر بچے پیدا کرنے سے بچوں کی صحت بھی کتنی متاثر ہوتی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ


loading...