17 بار اسقاط حمل کرانے والی 27 سالہ چینی لڑکی کو زندگی کی سب سے بڑی سزا مل گئی

17 بار اسقاط حمل کرانے والی 27 سالہ چینی لڑکی کو زندگی کی سب سے بڑی سزا مل گئی
17 بار اسقاط حمل کرانے والی 27 سالہ چینی لڑکی کو زندگی کی سب سے بڑی سزا مل گئی

  


بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین میں ایک 27 سالہ لڑکی نے 6 سال کے مختصر عرصے میں 17 بار اسقاط حمل کرالیا جس کے باعث اب وہ زندگی بھر ماں نہیں بن پائے گی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بار بار کے اسقاط حمل کے باعث لڑکی کے مثانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور اب اس کے کان پوری زندگی ماں سننے سے محروم رہیں گے۔

مذکورہ لڑکی نے پہلی بار وسطی چین کے صوبے ہیوبی کے ہسپتال میں 21 برس کی عمر میں اسقاط حمل کرایا۔ شیاﺅ جی نامی اس لڑکی نے اسی سال اپنے موجودہ بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات بنائے اور گزشتہ 6 سال کے عرصے میں 17 بار اسقاط حمل کرایا۔ شیاﺅ جی کا آخری بار اسقاط حمل کا آپریشن شیان میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہیلتھ کیئر ہسپتال کی ہیڈ آف گائناکالوجی ڈاکٹر زاﺅ کن نے کیا ۔ ڈاکٹر زاﺅ کا کہنا ہے کہ جب اس لڑکی کا کیس آیا تو وہ بہت پیچیدہ ہوچکا تھا کیونکہ ا س کا مثانہ انتہائی کمزور تھا ، میں نے اسے کہا کہ وہ اپنے حمل کو ختم نہ کرائے کیونکہ یہ اس کا آخری چانس ہے لیکن وہ نہیں مانی ، اس لڑکی نے کہا کہ نہ تو اس کا ابھی شادی کرنے کا ارادہ ہے اور اس میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ وہ بچے کو پال سکے ‘۔

خیال رہے کہ چین میں بن بیاہی خواتین کے ماں بننے کو مشرقی معاشروں کی طرح برا سمجھا جاتا ہے ۔ بعض ریاستوں میں ضروری ہے کہ وہ خواتین اسقاط حمل کرائیں جو شادی کے بغیر حاملہ ہوئی ہوں، ، اگر کوئی عورت بن بیاہی ماں بن جائے تواس کے بچوں کی طرف سے حکومت بری الذمہ ہوجاتی ہے اور ان کو صحت، تعلیم اور رہائش کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔

ڈاکٹر زاﺅ کے مطابق اسی خوف کے باعث شیاﺅ جی نے آخری بار بھی حمل گرانے کو ہی ترجیح دی ۔ ’ بار بار کے اسقاط حمل کے باعث شیاﺅ جی کا اندرونی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس کے باعث اب وہ کبھی بھی ماں نہیں بن سکے گی‘۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...