خود کو جوان رکھنے کیلئے 650 لڑکیوں کو قتل کرکے ان کے خون سے نہانے والی خاتون

خود کو جوان رکھنے کیلئے 650 لڑکیوں کو قتل کرکے ان کے خون سے نہانے والی خاتون
خود کو جوان رکھنے کیلئے 650 لڑکیوں کو قتل کرکے ان کے خون سے نہانے والی خاتون

  


بڈاپسٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا میں بڑے بڑے سیریل کلرز گزرے ہیں لیکن ہنگری کی خاتون الزبتھ باتھری سے بڑا کوئی سیریل کلر انسانی تاریخ نے نہیں دیکھا۔ اس خاتون نے خود کو جوان رکھنے کیلئے 650 کمسن لڑکیوں کا قتل کیا اور ان کے خون سے نہائی لیکن جب اس کی موت ہوئی تو اس کی شکل انتہائی بد صورت ہوچکی تھی۔

کنگڈم آف ہنگری میں (آج کا ہنگری) 7 اگست 1560 کو ایسی خاتون پیدا ہوئی جس کی سفاکیت کی داستان سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی قائم ہے۔ الزبتھ باتھری نامی اس خاتون نے 1585 سے 1610 کے دوران 650 لڑکیوں کو قتل کیا۔ الزبتھ باتھری کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے سب سے زیادہ قتل کرنے والی عورت کے طور پر درج کر رکھا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی اور ظالم سیریل کلر خاتون کے ٹرائل کے دوران ایک زندہ بچ جانے والی لڑکی نے گواہی دی تھی کہ اس سفاک عورت نے 650 لڑکیوں کا قتل کیا ہے۔ اس لڑکی نے شہادت قلمبند کراتے ہوئے کہا تھا کہ الزبتھ تمام لڑکیوں کا حساب اپنی ایک ڈائری میں رکھتی ہے اور اس نے وہ ڈائری دیکھی ہے۔

الزبتھ باتھری کنگڈم آف ہنگری کے ایک انتہائی بااثر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جس کا شوہر ترکی کے خلاف جنگ کا قومی ہیرو تھا۔ وہ اپنے شوہر کی زندگی کے دوران بھی لڑکیوں کو قتل کرتی رہی لیکن 1604 میں جب اس کے شوہر کی موت ہوئی تو اس عورت کا وحشی پن مزید ابھر کر سامنے آیا۔

وہ دارالحکومت کے قریبی دیہاتوں سے لڑکیوں کو نوکری کا لالچ دے کر اپنے محل میں لاتی اور ان کے خون کی ہولی کھیلتی۔ الزبتھ پہلے اپنے شکار کو مارتی پیٹتی یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کو جلا دیتی یا کاٹ دیتی تھی۔ کئی بار وہ لڑکیوں کے چہرے یا جسم کے دیگر حصوں کا گوشت دانتوں سے کاٹ کر نکال لیتی تھی ۔ تشدد سے اس کا دل بھر جاتاتو وہ لڑکیوں کو قتل کرکے ان کا خون ایک ٹب میں جمع کرتی اور اس میں نہاتی تھی۔جب علاقے میں لڑکیوں کی تعداد کافی کم ہوگئی تو اس نے بااثر خاندانوں کی لڑکیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا، یہی وہ مرحلہ تھا جب وہ پکڑی گئی۔

الزبتھ باتھری نے با اثر خاندانوں کی لڑکیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو ہنگری کے راجہ تک بھی یہ خبر پہنچ گئی جس پر اس نے تحقیقات کرائیں تو اس پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ 1610 میں الزبتھ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے ہی محل کے ایک کمرے میں قید کر دیا گیا جہاں 4 سال بعد 21 اگست 1614 کو اس کی موت ہو گئی۔

تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ الزبتھ بہت خوبصورت تھی اور اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کیلئے وہ کمسن لڑکیوں کے خون سے نہاتی تھی لیکن جب اس کی موت ہوئی تو وہ کافی بدصورت ہو چکی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...