جنگل کاٹنے والوں کے لئے جیلیں

جنگل کاٹنے والوں کے لئے جیلیں

  



وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں چھوٹے کرپٹ لوگوں کو پکڑا اور بڑے ڈاکوؤں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے ملک میں کرپشن بڑھی ہے۔ پہلی بار ہماری حکومت نے بڑے ڈاکوؤں پر ہاتھ ڈالے اب کرپشن میں کمی آ رہی ہے۔ آئی جی سے کہہ دیا ہے کہ بڑے ڈاکوؤں کو پکڑیں۔ جو جنگل انگریز چھوڑ کر گیا تھا ان میں کمی ہوئی ہے۔ یہ ملک ان کا ملک نہیں تھا تاہم انہوں نے جنگلات لگائے، آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے انگریز کے چھوڑے ہوئے جنگل بھی تباہ کر دیئے، کندیاں میں یہ جنگل بھی انگریز چھوڑ کر گیا تھا۔ یہ جنگل بھی ہم تباہ کر چکے ہیں، انگریز کندیاں میں تقریباً بیس ہزار ایکڑ رقبے پر جنگل چھوڑ کر گئے تھے جس میں دس ہزار ایکڑ رقبے پر درخت لگائے گئے تھے۔ بچپن میں کندیاں میں ایک بڑا جنگل دیکھا تھا جو آج بھی یاد ہے لیکن آج جب ہیلی کاپٹر سے دیکھا تو درخت نظر ہی نہیں آئے پورا جنگل ہی تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتنے لوگ ہیں جنہیں معلوم ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بارہ موسموں سے نوازا ہے دنیا میں کتنے ملک ہیں جہاں بارہ موسم آتے ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دریا دیئے ہیں ان کے پانی کا اگر ہم صحیح استعمال کریں تو پاکستان پوری دنیا کو اناج مہیا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں سبزیوں اور چینی وغیرہ کی قیمتیں بڑھیں لیکن اشیا ملک میں کبھی بھی مہنگی نہیں ہونی چاہئیں یہاں تو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نبیؐ کی حدیث ہے کہ درخت اُگاؤ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا کہ جنگلات پر قبضہ کرنے والے مجرم ہیں انہیں مجرموں کی طرح دیکھیں اور بڑے بڑے کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ڈالیں۔ ان پر صرف جرمانے نہ کئے جائیں، انہیں جیلوں میں ڈالا جائے کیونکہ درخت کاٹنا جرم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کندیاں جنگل میں درخت لگانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا 26 ارب روپے کی لاگت سے 50 کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کندیاں کا جنگل بحال کرنے کے مشکل منصوبے کا بیڑا اٹھایا ہے تو یہ قابل تعریف امر ہے، انہوں نے اس جنگل میں اپنے ہاتھ سے جو پودا لگایا اللہ کرے یہ ان کی حکومت ہی میں پھلے پھولے اور ان کی زندگی ہی میں تن آور درخت بن جائے کیونکہ ہم قیام پاکستان کے بعد شجر کاری کی جتنی مہمیں چلاتے رہے ہیں ان سب میں اتنے پودے لگے کہ اگر ان کا عشرِ عشیر بھی تن آور درختوں کی شکل اختیار کرتا تو آج ہمارے ملک میں ہر طرف جنگل ہی جنگل ہوتے لیکن لگتا ہے کہ ہم درخت لگا کر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بچوں کی طرح پرداخت اور دیکھ بھال بھی کرنی پڑتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ ہفتوں اور مہینوں میں ہی سوکھ جاتے ہیں۔ ہر سال ہم دیکھتے ہیں کہ لاہور کینال کے دونوں کناروں پر درخت لگانے کے لئے جنوری، فروری کے مہینوں میں ٹوئے کھودے جاتے ہیں لیکن ان سب میں درخت نہیں لگائے جاتے، اس مرتبہ بھی یہی ہوا ہے۔ آپ نہر کے ساتھ ساتھ سفر کریں تو آج بھی آپ کو کھدے ہوئے گڑھے نظر آئیں گے جن میں سے بہت کم درخت لگائے گئے ہیں باقی ٹوئے اسی طرح پڑے ہیں بارشیں ہو گئیں تو یہ مٹی سے بھر جائیں گے۔ پھر شاید کاغذوں کا پیٹ بھر دیا جائے کہ اتنے لاکھ پودے لگائے گئے لیکن سوال یہ ہے کہ ان لاکھوں پودوں میں سے کتنوں کی پرداخت ہوئی، اور کتنے پورے تن آور درخت بنے۔ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعظم کی ہدایات پر لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں تو پہلے ان کو تلاش کریں جنہوں نے زمین پر تو کوئی پودا نہیں لگایا لیکن کاغذوں میں یہ دکھا دیا کہ لاکھوں پودے لگا دیئے گئے۔ ان لوگوں سے جنہوں نے کاغذوں کا پیٹ بھرا یہ بھی معلوم کیا جائے کہ جو پودے لگائے گئے ان میں کتنے درخت بنے، ایک زمانے میں سرکاری درختوں پر نمبر لگائے جاتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی درخت سوکھ کر گرتا یا کوئی کاٹ لیتا تو پتہ چل جاتا تھا کہ کتنے درخت گر گئے یا کتنے کاٹ لئے گئے۔ اب شاید ایسا کوئی ریکارڈ نہیں یہ صرف ایک نہر کا حال ہے۔ باقی علاقوں میں کیا ہوتا ہے اس پر صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی پہلی حکومت نے صوبے میں بلین ٹری لگانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن حکومت کے مخالفین نے اس دعوے کی حقیقت کو جھٹلایا اور کہا کہ ایک ارب تو کیا ایک کروڑ درخت بھی نہیں لگائے گئے اور بعض نرسری والوں کو فرضی پودوں کی ادائیگی کر کے ان سے اپنا حصہ وصول کر لیا گیا، اپوزیشن شور مچاتی رہی کہ خیبرپختونخوا میں بلین ٹری منصوبے میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے یہ کیس نیب کے حوالے کیا جائے لیکن نیب نے اس جانب نگاہِ غلط انداز بھی نہیں ڈالی۔ اب نہیں کہا جا سکتا کہ جو ”بلین ٹری سونامی“ آیا تھا اس میں کتنے پودے لگے اور ان میں کتنے پودوں کی قسمت میں درخت بننا لکھا تھا، یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے کتنے لوگوں کو درخت کاٹنے کے الزام میں جیلوں میں بھیجا کیونکہ خیبرپختونخوا کا ٹمبر مافیا مشہور ہے یہ ہر دور میں جنگل کاٹتا ہے۔ زیادہ تر لکڑی جو عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے مانسہرہ وغیرہ کے جنگلوں سے کاٹی جاتی ہے ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ پنجاب کے جنگلوں کی لکڑی کاٹنے والوں کو جیلوں میں ڈالنے سے پہلے خیبرپختونخوا کی حکومت سے معلوم کر لیں کہ اس نے جنگل کاٹنے والے کتنے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔

وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بارہ موسموں سے نوازا ہے اور اگر ہم اپنے دریاؤں کے پانی کا درست استعمال کرلیں تو پوری دنیا کو غذائی اشیاء فراہم کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کا عزم مبارک ہے لیکن بہتر ہے پہلے وہ اپنے ملک کو غذائی اشیاء میں خود کفیل کریں اور پھر باقی دنیا کا سوچیں، پاکستان زرعی ملک ہے لیکن اس زرعی ملک میں گزشتہ مہینوں میں ٹماٹر چارسو روپے کلو تک بکتا رہا اور ادرک آج بھی پانچ سو روپے کلو بک رہا ہے یہی حال لہسن وغیرہ کا ہے۔ دالیں بھی درآمد کی جاتی ہیں اور آج بھی ماش کی دال کا نرخ تین سو روپے کلو سے زیادہ ہے اس طرح مونگ، مسور اور چنے کی دالیں بھی مہنگی بک رہی ہیں حالانکہ اگر کوشش کی جائے تو دالوں کی پیداوار میں آسانی سے خود کفیل ہوا جا سکتا ہے لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ ہم گندم ایکسپورٹ کرتے کرتے اس کی درآمد کرنے لگے ہیں اور پورے پنجاب اور سندھ میں گنے کی لہلہلاتی فصلوں کے باوجود یہاں چینی 85 اور نوے روپے کلو بک رہی ہے اور چینی مافیا 155 ارب روپے حالیہ مہینوں میں کما چکا ہے پتہ نہیں چینی چوروں اور ڈاکوؤں کو کب جیلوں میں ڈالا جائے گا اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کی باری کب آئے گی کیونکہ جیلیں تو جنگل کاٹنے والوں ہی سے بھر جائیں گی وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ نئے ڈاکوؤں کو جیلوں میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ نئی جیلیں بھی تعمیر کریں کیونکہ صوبے کی پہلی جیلیں تو ”نکونک“ ہو چکی ہیں اور ان میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ قیدی پہلے ہی بند ہیں، نئے قیدیوں کے لئے نئی جیلیں بہر حال بنانا ہوں گی۔ آج جو درخت لگائے جا رہے ہیں یہ دیکھا جائے کہ اگلے برس تک ان میں سے کتنے جڑیں پکڑتے ہیں اور کتنے چند ہفتوں ہی میں مرجھا جاتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ