انصاف: حکومت اور عدلیہ کا ایک نکاتی ایجنڈا کب بنے گا؟

انصاف: حکومت اور عدلیہ کا ایک نکاتی ایجنڈا کب بنے گا؟
انصاف: حکومت اور عدلیہ کا ایک نکاتی ایجنڈا کب بنے گا؟

  



مَیں نے اپنے وکیل سے پوچھا: ”میری دیوانی اپیل کا کیا بنا، عرصہ ہو گیا تاریخ نہیں نکلی“؟ کہنے لگے چپ کر کے سو جائیں، ابھی دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ مَیں نے کہا، بھائی سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ تو کہہ گئے تھے کہ مقدمات کو صفر کر دیا ہے۔ میرے وکیل صاحب بھی بہت ذہین ہیں، کوئی متنازعہ جواب دینے کی بجائے کہنے لگے، تو پھر پوچھیں کھوسہ صاحب سے۔ مَیں نے کہا میرے بھائی وہ یہیں ملتان میں ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے تھے، تو کیا وہ غلط تھا؟…… پھر وہی سیاسی بیان دیا: ”کیا چیف جسٹس سے کوئی سوال پوچھ سکتا ہے، کیا ان کی بات کو جھٹلا سکتا ہے“؟ اب مَیں کیا جواب دیتا۔ مَیں نے کہا، لیکن اس کا کوئی حل تو نکالیں کہ تاریخ ہماری زندگی میں نکل آئے۔ کہنے لگے ساڑھے گیارہ بجے ٹی بریک ہوتی ہے تو باقی کاز لسٹ منسوخ کر دی جاتی ہے۔ دو گھنٹے کے عدالتی وقت میں کتنا کام ہو سکتا ہے؟ سو آرام سے لسی پئیں اور سو جائیں۔ شاید کبھی پیشی نکل آئے، سو مَیں زچ ہو کر ان کے چیمبر سے چلا آیا۔

واپسی پر میری نظر لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کی پُر شکوہ عمارت پر پڑی،مَیں سوچنے لگا کیا صرف پُر شکوہ عمارت انصاف کے تقاضے پورے کر سکتی ہے، کیا یہ سنگ و خشت کا جہاں ان سائلوں کو کوئی امید یا ڈھارس دے سکتا ہے، جو یہاں اپنی اپیلیں ڈال کے انصاف کی راہ تک رہے ہیں؟ کیا انصاف دہلیز تک پہنچانے کے دعویدار کبھی اس کرب پر غور کریں گے، جو زندگی گزر جانے اور انصاف نہ ملنے کے خوف سے جنم لیتا ہے؟ اگر اعلیٰ عدلیہ کا یہ حال ہے تو نچلی عدالتوں میں خلقِ خدا انصاف کے لئے کتنا دربدر ہوتی ہو گی؟ ہمارے چیف جسٹس صاحبان جب بھی عہدہ سنبھالتے ہیں، پہلا وعدہ یہی کرتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، لیکن پھر وہ دوسرے کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس صاحبان، جن میں افتخار محمد چودھری، تصدق جیلانی، ثاقب نثار اور ناصر کھوسہ بطور خاص شامل ہیں، دیگر مصروفیات میں زیادہ الجھے اور انصاف کو تیز رفتار بنانے پر توجہ نہ دے سکے۔ یوں کہنے کو انہوں نے تقریریں بہت اچھی کیں، انصاف کو دنیا کا سب سے نیک کام بھی قرار دیا، مگر خلقِ خدا کو انصاف نہ دلا سکے۔

فوری انصاف کی راہ میں رخنہ کہاں ہے؟ ہم تو ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ سکے۔ کبھی کہا جاتا ہے ججوں کی کمی ہے، کبھی قوانین کی موشگافیاں اس کی وجہ قرار پاتی ہیں، کبھی وکلاء کو موردِ الزم ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی نچلی عدالتوں کے ججوں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھتے ہیں، کبھی حکومت کی عدم توجہی اس کا سبب قرار دی جاتی ہے، مگر کوئی ایسا نہیں ملتا، جو کہے کہ ہاں میرے پاس اس کا حل موجود ہے، آؤ میرے ساتھ بیٹھو اور اس کی خرابیاں دور کرو۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو اب انصاف کا ذکر کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ پہلے جب وہ انصاف کی جلد فراہمی کا ذکر کیا کرتے تھے تو انہوں نے میاں ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کو پیشکش کی تھی کہ وہ جتنے وسائل چاہتے ہیں حکومت دینے کو تیار ہے، بس وہ انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنائیں، کیونکہ جس معاشرے میں انصاف نہیں ملتا، وہ تباہ ہو جاتا ہے، اس وقت تو لگتا تھا کہ اب انصاف کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی، عدلیہ اور انتظامیہ اس حوالے سے ایک صفحہ پر آ گئی ہیں، لیکن یہ صرف ایک خواب تھا، صرف باتیں تھیں،نہ عدلیہ کو وسائل فراہم کئے گئے اور نہ ہی دونوں سابق چیف جسٹس صاحبان نے اس ضمن میں وزیراعظم کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے کی کوئی عملی کوشش کی۔

کیا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ عدلیہ کو وسائل فراہم کر دیئے جائیں تو معاملہ حل ہو جائے گا، فوری انصاف ملنے لگے گا یا رکاوٹیں کچھ اور بھی ہیں؟ قانون میں اتنی گنجائش کیوں رکھی گئی ہے کہ مقدمات کو شیطان کی آنت بنایا جا سکے۔ جسٹس (ر) آصف سعید کھوسہ نے ہر ضلع میں ماڈل کورٹس قائم کی تھیں، جن کا مقصد قتل کے مقدمات کی فوری سماعت تھا۔ یہ ماڈل کورٹس اس لئے کامیابی سے کام کر رہی ہیں کہ ان کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے سامنے پولیس، پراسیکیوشن اور وکلاء وہ کھیل نہیں کھیل سکتے جو وہ عام عدالتوں میں کھیلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہی اختیارات تمام عدالتوں کو کیوں نہیں دیئے جا سکتے؟ سب سے برا حال تو سول مقدمات کا ہے، جو آٹھ دس سال سول و سیشن عدالتوں میں سسک سسک کر رینگتے ہیں اور سائلین بھی ان کے ساتھ سسکتے رہتے ہیں۔ بمشکل فیصلہ ہو جائے تو ہائیکورٹ میں جا کر وہ ایسے غرق ہو جاتے ہیں، جیسے سوئی کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا جائے۔ اپیل کا نمبر لگ جاتا ہے،لیکن اس کی سماعت قسمت والوں کے نصیب میں ہی آتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی سطح پر ارجنٹ کیس اتنے زیادہ دائر ہوتے ہیں کہ معمول کے کیسوں کی نوبت ہی نہیں آتی اور وہ لیفٹ اوور ہو جاتے ہیں۔ ایک بار کوئی کیس لیفٹ اوور ہو جائے تو دوبارہ اس کی تاریخ آسانی سے نہیں نکلتی۔

کیا انصاف کے معاملے کو ملک کا مسئلہ نمبر ایک قرار نہیں دیا جانا چاہئے؟ اس کا جواب شاید کوئی بھی نفی میں نہ دے، مگر اس کے باوجود اس پر توجہ دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ جیسے نظام چل رہا ہے، چلتا رہے گا…… ایک بہت سینئر بزرگ وکیل بتاتے ہیں کہ جب صرف ایک مغربی پاکستان ہائیکورٹ ہوتی تھی، تب بھی لوگوں کو انصاف کے حصول میں اتنا ہی انتظار کرنا پڑتا تھا، جتنا آج کل کرنا پڑتا ہے، حالانکہ اب چاروں صوبوں میں ہائیکورٹس اور ان کے بنچ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس کی ایک وجہ تو مقدمات کی تعداد میں اضافہ بتائی اور دوسری وجہ وقت کے ساتھ قوانین میں ترمیم نہ کرنے کو قرار دیا۔ آج بھی انگریزوں کے زمانے کی سول و فوجداری شقوں کے تحت نظام چلایا جا رہا ہے، حالانکہ ان میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے۔ ضابطہ فوجداری و دیوانی میں ایسے جھول اور سقم موجود ہیں، جن کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی مقدمے کو طول دے سکتا ہے، عدالت اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی، کیونکہ اس نے ضابطے کی کاررروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے کچہریوں میں رشوت کا بازار گرم رہتا ہے……کیا یہ ضروری نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومت اس ون پوائنٹ ایجنڈے پر ایک جگہ بیٹھیں کہ ملک میں سستا، فوری اور سہل انصاف فراہم کیسے کیا جائے؟

اس حوالے سے عدلیہ جو قانونی تبدیلیاں چاہتی ہے، وسائل مانگتی ہے، وہ حکومت پورے کرے اور جواب میں عدلیہ سے ضمانت مانگے کہ اس کے بعد مقدمات کی ہر سطح پر فیصلے کی مدت کا تعین کر دیا جائے گا۔ اگرچہ حکومت نے اپنے تئیں اس ایشو پر کام بھی کیا ہے، لیکن یہ کام تنہا حکومت نہیں کر سکتی، اسے عدلیہ کو ساتھ رکھنا پڑے گا، کیونکہ نظام انصاف کی سب سے بڑی ”اسٹیک ہولڈر“ عدلیہ ہے۔ انصاف کی فوری فراہمی کے پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ قانون شکنی، بد امنی، ناجائز قبضے، جھوٹے مقدمات اور دولت و اختیار کے نشے میں مظلوم پر ظلم میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ کیا چیف جسٹس گلزار احمد اور وزیر اعظم عمران خان اس یک نکالی ایجنڈے پر توجہ دیں گے؟ ہم تو یہ سوال ہی پوچھ سکتے ہیں، اس کا جواب تو حاکم وقت ہی دیں گے۔ البتہ وزیر اعظم اکثر یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ان کا مشن ہے۔ کیا انصاف کے بغیر بھی کوئی فلاحی ریاست بن سکتی ہے؟

مزید : رائے /کالم