مہنگائی کا عفریت اور ہماری بے حسی!

مہنگائی کا عفریت اور ہماری بے حسی!
مہنگائی کا عفریت اور ہماری بے حسی!

  



ویسے تو حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو، مہنگائی کا موضوع ہر دور میں واحد مضمون رہا ہے، لیکن تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے، مہنگائی کا واویلا کچھ زیادہ ہی بلند آہنگ ہو گیا ہے۔ میڈیا کا فوکس صرف آٹے اور چینی پر ہے۔ اس کی وجوہات سیاسی یعنی مصنوعی بھی ہوں گی اور حقیقی بھی۔ پچھلے دنوں ان پر خوب خوب ہنگامہ آرائی ہوئی۔ مختلف شہروں میں گوداموں پر چھاپے مارے گئے اور ان کو سربمہر کر دیا گیا۔ لیکن میڈیا نے یہ تفصیل دینی گوارا نہیں کی کہ یہ گودام کن حضرات کی ملکیت تھے اور ان سے جو گندم اور چینی برآمد کی گئی اس کی فائنل ڈسپوزل کیا ہوئی۔ کیا ان کو نیلام کرنے سے ان چیزوں کی قیمتوں میں کچھ فرق آیا یا نہیں آیا، اس کی کوئی تفصیل میڈیا پر نہیں دی گئی۔ صرف یہ دکھایا اور بتایا گیا کہ ہزاروں بوری گندم اور چینی فلاں شہر میں فلاں گودام سے قبضے میں لے لی گئی ہے…… اور بس…… حکومت کی طرف سے اب بجلی اور گیس کی قیمتیں فریز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور عوام کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ آئندہ جون تک کوئی چیز مہنگی نہیں ہو گی۔ لیکن اس قسم کے خوشنما وعدے شاذ ہی ایفا ہوتے ہیں۔

گندم، آٹا، تیل، صابن، چینی، دالیں، پٹرول، بجلی اور گیس کے علاوہ دوسری سینکڑوں چیزیں اور بھی ہیں جو روزانہ استعمال ہوتی ہیں لیکن ہم ان کی قیمتوں کے بڑھنے کا کوئی نوٹس نہیں لیتے۔

یادش بخیر،میں 1960ء کے عشرے کے وسطی برسوں میں گورنمنٹ ڈگری کالج رحیم یار خان میں لیکچرار تھا۔ دن بھر میں تھرڈائر کا صرف ایک پیریڈ ہوتا تھا کیونکہ یہ کالج اسی برس کھلا تھا۔اس سے پہلے رحیم یارخان میں صرف انٹرمیڈیٹ لیول تک کلاسیں ہوتی تھیں۔ لیکن اندازہ کیجئے کہ دن بھر میں صرف ایک پیریڈ کے لئے ہم تمام اساتذہ اتنی محنت اور انہماک سے اپنے مضمون (Subject) کی تیاری کیا کرتے تھے کہ طلباء اور طالبات کوئی ایک پیریڈ بھی مِس کرنا گوارا نہیں کرتی تھیں۔ چونکہ خواتین کے لئے کوئی الگ ڈگری کالج نہیں تھا اس لئے انٹر کرنے کے بعد تھرڈائر کی طالبات بھی اسی کالج میں داخل کی جاتی تھیں۔یعنی یہ ایک طرح کی مخلوط ایجوکیشن والا کالج تھا۔ جب تھرڈائر کے سالانہ امتحانات ہوئے تو طالبات کے نمبر طلبا سے زیادہ تھے۔ ان دنوں یہ بات بڑی حیران کن سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں تو یہ رجحان ایک وتیرہ بلکہ پریکٹس بن گیا کہ آرٹس اور سائنس کی طالبات، طلباء کے مقابلے میں سیکنڈری بورڈوں اور یونیورسٹیوں میں پہلی تین چار پوزیشنیں لینے لگیں۔ اس امتیاز کا سہرا لیکچراروں اور پروفیسروں کے سر بھی باندھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے مضامین میں دل لگا کر تدریسی فرائض انجام دیئے۔ ہمارے حلقہء درس کے شاگرد طلباء اور طالبات ہم سے بعد میں جب بھی ملے، عزت و احترام کے جتنے پھول ہو سکتے تھے، نچھاور کئے…… ان کا ذکر ایک الگ مقالے کا مواد بن جائے گا……

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سکول ہو یا کالج، اگر استاد پر تدریسی فرائض کا حجم کم ہو گا تو وہ زیادہ محنت اور لگن سے پڑھائے گا اور اگر استاد کو دن بھر کے 8پیریڈوں میں 6،7 پیریڈ تدریس کرنے پڑیں گے تو تدریس و تعلیم کا سلسلہ نہ صرف ڈسٹرب ہو گا بلکہ اس کے منفی اثرات ٹیچر اور ٹاٹ (Taught) دونوں پر یکساں مرتب ہوں گے۔مغرب کے ماہرین تعلیم نے تعلیمی اداروں میں دن بھر میں زیادہ سے زیادہ تین پیریڈز کا کوٹہ مقرر کیا ہوا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ کلاس کا حجم 35،40 طلباء و طالبات سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ ہمیں چونکہ دن بھر میں صرف ایک (یا زیادہ سے زیادہ دو) پیریڈ پڑھانے ہوتے تھے اس لئے ذاتی مطالعے کے لئے زیادہ وقت مل جاتا تھا۔ یہ پریکٹس براہ راست ٹیچر کو بھی فائدہ پہنچاتی اور طالب علم بھی اس سے مستفید ہوتا تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس ایک برس میں ڈگری اور انٹر کالج رحیم یارخان کے تقریباً 60فیصد اساتذہ نے CSS کا امتحان دیا اور پاس ہو گئے۔ راؤ شمشاد (جو بعد میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ رہے)، جمیل یوسف (جو ملٹری اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں چلے گئے) یوسف گورایہ (جو وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل رہے) انور ادیب اور راقم السطور جنہوں نے امتحان تو کلیئر کر لیا لیکن ذاتی وجوہات کی بناء پر سول سروس کی بجائے ائر فورس اور آرمی جوائن کی۔

اور یہ پریکٹس طلباء اور طالبات کے لئے بھی منفعت بخش ثابت ہوئی۔ ہمارے کئی شاگرد بعد میں کئی حکومتی شعبوں میں 21،22 اور23گریڈ کے حامل بنے…… آج ہمارے تدریسی اداروں میں سٹوڈنٹ۔ ٹیچر تناسب اتنا ڈسٹرب ہو چکا ہے کہ اس کے منفی اثرات استاد اور شاگرد دونوں کمیونٹیز پر مرتب رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال بڑی تکلیف دہ ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ لاہور، راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ اور ملتان کے گورنمنٹ کالجوں کے طلباء و طالبات کالج کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد زندگی کے دوسرے حکومتی یا نجی شعبوں میں ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے اوپر کی سطور میں عرض کیا، رحیم یارخان جیسے دور افتادہ علاقوں میں بھی صورتِ حال کے نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے۔

رحیم یارخان میں شائد آج بھی اور ان ایام میں بھی لیور برادرز کی ایک فیکٹری قائم تھی جس میں لکس، رکسونہ صابن اور پاؤڈر وغیرہ تیار ہوتے تھے۔1964-65ء کی ڈگری کالج کی تھرڈائر کلاس کو اس فیکٹری کی وزٹ کا موقع ملا اور ہم نے پہلی بار دیکھا کہ خود کار مشینوں کے ذریعے ٹائلٹ سوپ وغیرہ کس طرح بنتے اور پیکنگ کے خودکار عمل سے گزرنے کے بعد ملک کے دوسرے حصوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ اس فیکٹری کا کرتا دھرتا ان ایام میں ایک گورا تھا جو یہودی النسل بھی تھا(میں اس کا نام اب بھول رہا ہوں) اس وقت لکس اور رکسونہ کی ایک ٹکیہ کی قیمت 10آنے (62پیسے) ہوا کرتی تھی۔ اور یہ قیمت آنے والے کئی برسوں تک برقرار رہی۔ اس گورے نے اپنی فیکٹری کا تعارف کرواتے ہوئے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا: ”لیور برادرز ایسی اشیاء تیار کرتے ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتی ہیں لیکن ان کی ضرورت فی زمانہ ہر روز ہر فرد و بشر کو پڑتی ہے۔ مثلاً نہانے اور کپڑے دھونے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیو کرنے والا بلیڈ، شیونگ سوپ، شیونگ برش، خواتین کے لئے شیمپو، لپ اسٹک، ٹالکم پاؤڈر اور اسی طرح کی دوسری اشیائے آرائش و زیبائش وغیرہ جن کو ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ لیکن لیور برادرز انہی معمولی چیزوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی تیاری اور پروڈکشن پر از بس زور دیتا ہے اور ان کی کھپت ملک کی آبادی کے تناسب سے سب سے بڑھ چڑھ کر ہوتی ہے“……

اس گورے کی یہ باتیں آج تک اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی یاد ہیں۔ ہم آج مہنگائی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔ لیکن جو چیزیں میڈیا پر فلیش نہیں کی جاتیں لیکن ہر انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں ان کی قیمتوں کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا کوئی انتظام و اہتمام نہیں۔ مثال کے طور پر آٹا، چینی، چاول، گھی، دالیں، سبزیاں، فروٹ اور اس قسم کی اشیاء کی مہنگائی کی تفاصیل تو کبھی کبھی میڈیا پر دی جاتی ہیں لیکن کبھی آپ نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ واشنگ پاؤڈر، صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش اور ماچس وغیرہ کی قیمتیں بھی ساتھ ہی ساتھ نہائت خاموشی سے بڑھا دی جاتی ہیں؟اور اس اضافے کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ میں اگلے روز کسی دکان سے ٹوتھ برش خریدنے گیا تو یہ جان کر حیران ہوا کہ گزشتہ ماہ جس برش کی قیمت 150روپے تھی، اب بڑھ کر 200روپے ہو گئی ہے جبکہ چار ماہ قبل اسی برش کی قیمت 90روپے تھی۔

ماہرینِ امراضِ دنداں کی سفارش کے مطابق میں ہمیشہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ٹوتھ برش تبدیل کر دیتا ہوں، اس لئے مجھے اس کی قیمت کا اندازہ ہے۔ جس برش کا ذکر کر رہا ہوں وہ ویرک (Werrick) کمپنی کا تیار کردہ ہے۔ اس کا برانڈ نام ”ڈینٹسٹ“ (Dentist) ہے۔ یہ پاکستان ہی میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ریشے (Filaments) حلال ہوتے ہیں یعنی مصنوعی پلاسٹک سے بنائے جاتے ہیں۔دوچار برس پہلے اس برش کی قیمت 40،45 روپے ہوتی تھی جو نون لیگ کی گزشتہ حکومت کے آخری ایام میں بڑھ کر 90روپے فی برش ہو گئی۔ گزشتہ برس (جون 2019ء میں) یہ قیمت ایک دم 90سے بڑھا کر 150روپے کر دی گئی۔چونکہ یہ برش بھی آٹے، دال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مانند عوام کے روزانہ استعمال کی چیز ہے اس لئے اس کی مہنگی خرید بھی آٹے دال کی طرح ضروری ہو جاتی ہے(لیکن اس کا کوئی ذکر کسی میڈیا پر نہیں آتا)

کچھ روز پہلے جب یکم فروری کو یہی برش میں نے خریدا تو اس کی قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 200 روپے ہو چکی تھی۔ غور کیجئے کہ اس برش کی کوئی چیز بیرونی ممالک سے درآمد نہیں کی جاتی، سب کچھ پاکستان میں بنتا اور پیک کیا جاتا ہے۔ لیکن جو برش ایک برس پہلے 90روپے کا تھا، اب 200کا ہو گیا جس کا مطلب ہے کہ اس کی قیمت 110فیصد بڑھ گئی…… کچھ یہی حال ایسی دوسری ”خاموش“ اشیائے ضروریہ کا بھی ہے جن کو عام صارف زیادہ محسوس نہیں کرتا۔ ان میں ٹوتھ پیسٹ، ماچس، واشنگ پاؤڈر، شیمپو اور بوٹ پالش وغیرہ شامل کر لیجئے۔ ہمارے ہاں آٹے دال کی مہنگائی کا تو شور مچایا جاتا ہے لیکن ان اشیاء کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا جو میں نے اوپر درج کی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کو بنانے والے اربوں میں کھیلتے اور عوام کو گویا خاموشی سے لوٹ رہے ہیں اور ہم خاموشی سے لٹ رہے ہیں۔ حکومت جہاں سبزیوں، پھلوں، گوشت، آٹا، چاول، تیل وغیرہ کی قیمتوں پر نظر رکھنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی طرف سے روانہ ایک مطبوعہ فہرست شائع کرکے دکانداروں میں تقسیم کرکے عنداللہ ماجور اور عندالعوام سرخرو ہو جاتی ہے،

وہاں ان دوسری اشیائے ضروریہ کا کوئی نوٹس نہیں لیتی جو ہر ماہ 30،40 اور 50فیصد تک مہنگی کر دی جاتی ہیں …… یہ ٹوتھ برش کا ذکر تو میں نے صرف ایک مثال کے طور پر کیا ہے، روزمرہ کی دوسری چیزوں کی قیموں کا حال بھی یہی ہے۔ …… کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن اگر حکومت اس سلسلے میں گویا نان فنکشنل ہو چکی ہے توایسے میں ہم خریداروں کو مل بیٹھ کر اس کا کوئی نہ کوئی حل سوچنا چاہیے…… یہ ایک نہایت اہم اور دردناک ضرورت ہے جس کی طرف ہم سب کو توجہ دینی ہے!……23فروری (اتوار) کے ہمارے اسی اخبار میں منظور احمد صاحب کا کالم: ”مہنگائی، بے روزگاری اور آمدن“ شائع ہوا جو اس اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے اور ابتدائی تصوراتی مراحل میں ہے۔ خدا کرے اس کالم میں جس کارپوریٹ پروگرام کا خاکہ پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت بن جائے اور پاکستان بھی کئی یورپی ممالک میں شامل ہو جائے۔ صاحبِ تحریر کو اس کالم میں بیان کردہ اپنے پراجیکٹ کو جلد از جلد روبہ عمل لانے کی ضرورت ہے۔

درجِ بالا اشیاء کی مہنگائی دیکھنے کو تو مائیکرو لیول کی مہنگائی لگتی ہے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے میکرو لیول تک پہنچ جاتی ہے اور اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ ہمارے ہاں شہری بہبود کی ایسی ٹیموں کا کوئی رواج نہیں جو آہستگی سے سرائت کرتے گرانفروشی کے اس زہر کا علاج کر سکے۔ اس کا سب سے موثر علاج حکومت کی طرف سے تادیبی کارروائیوں سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا سے بھی لیا جا سکتا ہے لیکن اس کی تفصیل دوں گا تو کالم کا سائز بڑھ جائے گا جو نہ اخبار کی انتظامیہ کو منظور ہے اور نہ قارئین کی اکثریت کو۔…… اس لئے :

سکوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ

زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

مزید : رائے /کالم