پتنگ بازی کا جان لیوا کھیل کب ختم ہو گا؟

پتنگ بازی کا جان لیوا کھیل کب ختم ہو گا؟

  



پچھلے کئی برسوں سے پاکستان میں پتنگ بازی پر پابندی لگائی جا چکی ہے اور بسنت کا تہوار اب منایا نہیں جاتا جس کی بنیادی وجہ کیمیکل ڈور کے استعمال کی وجہ سے بے شمار قیمتی جانوں کا ضیاع ہے۔ پتنگ بازی جو پہلے کبھی عوام کو خوشی باقاعدہ پہنچانے کا باعث تھی اب لوگوں کے لئے موت کا پروانہ بن چکی ہے کیونکہ اب جرائم پیشہ لوگ کیمیکل والی ڈور کا استعمال کر کے معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور آئے دن ہمیں پتنگ بازی کے نتیجے سے اموات کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود لاہور پولیس اس پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب نہ ہوسکی،پابندی کے باوجود کئی معصو م بچے،بچیاں اس قاتل ڈور کی زد میں آکر موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد ہسپتالوں میں داخل رہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ 15فروری کونشتر کالونی کے علاقے لیل گاؤں رنگ روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ڈولفن اہلکار گلے میں ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا۔ ڈولفن سکواڈ کا اہلکار صفدر صدر ڈویژن ڈولفن سکواڈ میں تعینات تھا اہلکار اپنی ڈیوٹی سے واپسی پر اپنے گھر جا رہا تھا کہ برکی روڈ کینٹ کے قریب گلے میں ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا، اہلکار 2017کا محکمہ پولیس میں بھرتی تھا جس کی دو ماہ بعد شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، نشتر کالونی پولیس والے متوفی کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے اپنی زمہ داری سے عہدہ براہو گئے جبکہ متوفی کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا جن بہنوں کا بھائی شادی سے چند یوم قبل اس طرح کے افسوس ناک واقعہ میں موت کے منہ میں چلے جائے یاجس ماں کا لخت جگرتڑپ تڑپ کر اس طرح جان دیدے ان پر کیاگزرتی ہے خدا کسی کو اس طرح کے واقعات میں جوان بیٹے کی موت کا صدمہ نہ دے ۔وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کی،محمد صفدر کی نمازہ جنازہ ڈولفن فورس ہیڈ کوارٹر والٹن روڈ میں ادا کی گئی نمازہ جنازہ میں لاہورپولیس کے تمام افسران نے شرکت کی. ڈولفن اہلکار کی ڈیڈ باڈی گاؤں میاں سنگھ پہنچا دی گئی جہاں ڈولفن فورس کے اہلکار کی تدفین کر دی گئی اس روز سے لیکر آج تک گاؤں کی فضا سوگوار ہے۔

بچے کے سوگوار خاندان نے بتایا ہے کہ رات دو بجے جب صفدر گھر نہیں پہنچا تو پتہ چلا کہ ڈور پھر گئی ہے جس کی وجہ سے موقع پر دم توڑ گیا اہل خانہ نے روتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کے روپزیر ہونے سے ان کا گھر اجڑ گیا ہے متوفی تو ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا یہ ہی نہیں اس طرح کے لاہور میں درجنوں خونی واقعات پیش آچکے ہیں ابھی ایک ماہ قبل مغل پورہ کے علاقہ میں موٹر سائیکل سوارکمسن بچوں کاباپ بازار جاتے ہوئے گلے پر ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا تھا اسی طرح بھاٹی گیٹ میں 19سالہ بلال،سبزہ زار میں فاروق سبحان گلبرگ میں 4سالہ شایان،کوٹ لکھپت میں 10 سالہ حمزہ، ساندہ میں جواں سال اسد ڈور پھرنے کے واقعات میں موت کے منہ میں جا چکے ہیں یہا ں یہ با ت قا بل ذکر ہے کہ پو لیس ہر سال سینکڑوں پتنگ با زو ں اور پتنگ سا زو ں کو گر فتا ر کر کے ان کے خلا ف مقدما ت بھی درج کرتی ہے لیکن لا ہو ر پو لیس اس خو نی کھیل کو رو کنے میں مکمل طو ر پر نا کام ہو چکی ہے،ایک وقت تھا کہ شہر میں پتنگ بازی کا سلسلہ عام تھا اور آئے روز شہر میں ڈور پھرنے اور ہلاکتوں کے واقعات معمول بن چکے تھے تاہم سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اس خونی کھیل کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا کہ جس بھی علاقے میں ڈور پھرنے سے کوئی شہری زخمی یاہلاک ہوا اس ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف سخت کا رروائی عمل میں لا ئی جا ئے گی۔ اس اعلان کے بعد پو لیس نے ایسے افراد کے خلاف جب بلا تفریق کا رروائی کی تو کا فی حد تک شہر میں سکون پیدا ہو گیا۔اب یہ واقعات پھربڑھنے شروع ہو گئے ہیں اورصوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران گلے میں ڈور پھرنے کے باعث اب تک پانچ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران پتنگ بازی کرنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور کیمیکل ڈور کی چرخیاں اور پتنگ سازی کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجودپتنگ بازی کا سلسلہ رک نہ سکا۔ایک سروے کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں قائم فارم ہاؤسز میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پتنگ بازی کی جاتی ہے چند شوقین مزاج افراد پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے نظرآتے ہیں جب کہ پتنگ بازی اور ڈانس پارٹیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مقامی تھانوں کی پولیس خاموش تماشائی بن کر ان با اثر افراد کی سرپرستی کرتی ہے۔ فروری کے مہینے میں سردی کے اختتام کے ساتھ ہی شہریوں میں بسنت کا تہوار منانے کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پتنگ بازی جیسے قاتل کھیل پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے مگر پھر بھی پتنگ بازی کے شوقین افراد باز نہیں آتے اپنا شوق پورا کرنے کے لئے چوری چھپے کبھی دن کے وقت اور کبھی رات کے وقت پتنگ بازی کرتے ہیں۔ برکی، رائیونڈ سٹی، مناواں، ہیر اور ڈیفنس سی میں قائم فارم ہاؤسز میں ہر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لئے پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ شراب اور ڈانس پارٹیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جہاں رات بھر ہلکی ہلکی موسیقی کی دھنوں میں شراب کے نشے میں دھت ہو کر پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں ان ڈانس پارٹیوں میں خوبرو خواتین کی کثیر تعداد بھی مختلف اقسام کے نشے کر کے پتنگ بازی کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ متعلقہ علاقوں کی پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی بلکہ ان تھانوں کی پولیس ان فارم ہاؤسز کے مالکان سے بھاری نذرانے لے کر ان کی سرپرستی کرتی نظر آتی ہے۔ شہر سے دور ایک نئی دنیا کے لوگ رات بھر اپنی زندگی گزار کر پھر شہر لوٹ جاتے ہیں۔ شہر میں جن علاقوں میں پتنگ بازی کا سلسلہ عام ہے ان میں سبزہ زار،گرین ٹاؤ ن، ٹاؤن شپ، ہنجر وال، کاہنہ، کوٹ لکھپت،نشتر کالونی، لیاقت آباد، غالب مارکیٹ، اچھرہ، وحدت کالونی، ملت پارک، شیرا کوٹ، سمن آباد، ساندہ، گجر پورہ، قلعہ گجر سنگھ، شالیمار، گڑھی شاہو، ٹبی سٹی، اکبری گیٹ، لوہاری گیٹ، شفیق آباد، راوی روڈ، ہربنس پورہ، باغبانپورہ، فیکٹری ایریا، غازی آباد، شمالی چھاؤنی، جنوبی چھاؤنی اورڈیفنس بی سمیت شہر کے دیگر کئی علاقے شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود لاہور اور گرد و نواح میں پتنگ بازی کا ہونا انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دکاندار پابندی کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھپ چھپا کر پتنگ اور ڈور فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت انتظامیہ کا فرض ہے۔ اس لئے غیر قانونی طور پر پتنگیں اور مہلک ڈور تیار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے والوں اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لینا ہو گا تاکہ لوگوں کی جان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ورنہ نجانے کتنے اور لوگ اس قاتل ڈور کا شکار بنیں گے۔قاتل کھیل پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کا سلسلہ سرعام جاری ہے۔ پولیس نے پتنگ بازوں کو پکڑنے کی بجائے چپ سادھ لی اور پولیس منچلوں کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے بلکہ پولیس پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کو پکڑ کر روکنے کی بجائے دیہاڑیاں لگانے میں مصروف رہتی ہے۔ پتنگ بازی سے ڈور پھرنے سے ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات آئے روز رونما ہو رہے ہیں۔ منچلے رات کو چھتوں پر سرعام ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کرتے نظر آتے ہیں۔جونہی موسم خزاں کے بادل چھٹتے اور بہار کی آمد شروع ہوتی ہے تو فضا میں بہار کی خوشبو کو نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شہروں خصوصاً لاہور میں پارک‘ دیہاتوں میں لہلہاتے کھیت اور باغات پھولوں کی خوشبو سے بھر جاتے ہیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونج اٹھتے ہیں۔ کئی طرح کے میلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی بھرمار میں بھی لاہورئیے بسنت کو نہیں بھول پاتے۔ آج کی پتنگ بازی محض گلے کاٹنے کا مقابلہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس ماں سے پوچھیں جس کا پھول سا بچہ کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا، اس بچے سے پوچھیں جس کا باپ ڈور پھرنے کی وجہ سے مر گیا اور وہ باپ کی شفقت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گیا۔ اس کی وجہ سے نہ صرف کئی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں بلکہ یہ قومی وسائل پر ایک غیر ضروری بوجھ بھی ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دھاتی تار فروخت کرنے والے تاجر اور ان کو استعمال کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرے۔ اگر حکومت یا کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ عزم کر لے تو پولیس کے لئے خونی ڈور کی تیاری اور فروخت کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا۔ یہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیک نیتی کے فقدان کا ہے، سبزہ زار کے علاقے میں شہر ی کی ہلاکت پر پہلی بار ایس ایچ اور ڈی ایس پی کے ساتھ ایس پی کو بھی فارغ کیا گیا۔سوچنے اور غور کر نے کی بات یہ ہے کہ قاتل ڈور گڈی کاکھیل کب ختم ہو گا؟ حقیقت میں ڈور سے ہو نیوالی ہلاکت کا زمہ دار ایس پی،ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ہی نہیں اصل کرداروں کو بھی سزا جرور ملنی چاہیے۔ ڈی آئی جی آپریشن رائے بابر سعید کا کہنا ہے کہ اس خونی کھیل کو روکنے کے لئے شہری پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ لاہور پولیس نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف پتنگ بازی کے مقدمات درج کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور کیمیکل ڈور کی چرخیاں اور پتنگ سازی کا سامان بھی برآمد کیا ہے۔ مغل پورہ کے علاقے میں شہر ی کی ہلاکت پر ایس ایچ او کو بھی فارغ کیا گیا سوچنے اور غور کر نے کی بات یہ ہے کہ قاتل ڈور گڈی کاکھیل کب ختم ہو گا؟ پتنگ لوٹتے یا اڑاتے ہوئے چھت سے گرجانے کی ہلاکتیں اپنی نوعیت کی پرانی ترین ہیں جبکہ سڑک پر پتنگ لوٹتے ہوئے گاڑیوں کے نیچے آنے کی روائت بھی لٹیروں نے برقرار رکھی ہوئی ہے۔ حقیقت میں ڈور سے ہلاکت کا زمہ دار ایس پی،ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ہی نہیں اصل کرداروں کو بھی سزا جرور ملنی چاہیے۔پاکستان میں پنجاب سمیت کئی علاقوں میں پتنگ بازی پر کئی برس سے پابندی عائد ہے اور پولیس ہر سال بڑی تعداد میں پتنگ بازوں کو گرفتار کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں ضبط کرتی ہے۔ایسے لوگوں کا سراغ لگانا بھی مشکل ہے کہ ہلاکت کی وجہ بننے والی ڈور کس کی تھی یا کس کی لاپرواہی سے وہ سڑک پر لٹک رہی تھی اور کسی کو ہلاک یا زخمی کرنے کی وجہ بنی۔

مزید : ایڈیشن 1