محکمہ فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت ملاوٹ خور مافیا حکومتی رٹ چیلنج کرنے لگا

محکمہ فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت ملاوٹ خور مافیا حکومتی رٹ چیلنج کرنے لگا

  



تحریر: مرزا نعیم الرحمان

دور حاضرمیں بدترین معاشی حالات اور مہنگائی کا اژدھا جہاں عوام کو نگلتا جا رہا ہے وہیں ملاوٹ خوری کا زہر لوگوں کی رگوں میں اتارنے والا مافیا روز بروز طاقتور اور متحرک ہوتا جا رہا ہے دودھ‘ دہی‘ آٹا‘ چینی‘ سرخ مرچ‘ ہلدی‘ مصالحہ جات‘ گھی‘ کوکنگ آئیل‘ گوشت‘ چاول‘ سبزیوں اور پھل فروٹ میں ملاوٹ خور مافیا اس قدر سرائیت کر چکا ہے جس کا تصور بھی انتہائی بھیانک دکھائی دیتا ہے ملاوٹ خوری کو کنٹرول کرنے کیلئے صوبائی سطح پر فوڈ اتھارٹی قائم کی گئی جسکا بنیادی مقصدعوام کو ملاوٹ خورمافیا سے بچانا تھا مگر بدقسمتی سے خطیر فنڈز‘ جدید سہولیات‘ سائنسی بنیادوں پر لیبارٹری ہونے کے باوجود گوالے سے لیکر ہوٹل مالکان تک‘ دوکاندار سے لیکر فیکٹریوں تک ہر چیزمیں ملاوٹ خوری کا زہر شامل ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے عوام کی رگوں میں گھولا جا رہا ہے کیمیکل سے تیار کیا جانیوالا جعلی دودھ‘ بیمار اور لاغر جانوروں کاچھوٹا گوشت‘ بڑے گوشت کا وزن بڑھانے کیلئے پانی کا استعمال‘ مردہ مرغیوں کی سپلائی‘ کا کاروبار صرف چھوٹے دوکاندار تک محدود نہیں بلکہ بڑے بڑے ہوٹلوں‘ ریسٹورنٹس‘ میرج ہالز اور کھانے پینے کی آن لائن اشیا فروخت کرنیوالی بڑی بڑی کمپنیوں کے مال میں بھی ملاوٹ خوری کا ایک بڑا عنصر شامل ہوتا ہے فوڈ اتھارٹی‘ محکمہ لائیو سٹاک اور محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت‘ اور لاپرواہی نے معاشرے میں تیزی کے ساتھ بگاڑ پیدا کیا ہے ماضی کی نسبت حال اور مستقبل میں بیماریوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے عام انسان کو نہ تو صحت مندانہ ماحول میسر ہے نہ ہی خوراک‘ نوجوان‘ حاملہ خواتین‘ اور بچے ملاوٹ خور مافیا کے ہاتھوں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے ساتھ حکومت فلاحی ریاست ہونے کی دعویدار ہے مگر بدقسمتی سے کوئی بھی محکمہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنے سے قاصر ہے کروڑوں روپے تنخواہیں‘ اور مراعات حاصل کرنیوالے سرکاری افسران اور ملازمین کی اکثریت یا تو ملاوٹ خور مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہو کر ڈنگ ٹپانے پر مجبور ہے یا پھر کالی بھیڑیں عوام دشمن عناصر کی معاونت کر کے مٹھی گرم کرنے کو ترجیح دیتی ہیں بدقسمتی کی انتہاتو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حج‘ عمرہ اور زکاۃ سب سے زیادہ دی جاتی ہے مگر اسکے باوجود ملاوٹ خوری جس سے اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے سختی سے منع فرما کا سلسلہ جاری ہے فاسٹ فوڈ ہو یا ہوٹلوں کے رنگ برنگے کھانے‘ تیز مصالحہ جات کی آڑ میں ایسی ملاوٹ خوری ہوتی ہے کہ کھانے والا اسکا اصل ذائقہ تک محسوس نہیں کر پاتا رمضان المبارک کا مہینہ سب سے زیادہ بابرکت اور رحمتوں کے نزول کا ذریعہ ہوتا ہے مگر اس مہینے میں بھی ملاوٹ خور اللہ کے غضب کو آواز دیتے ہیں پانی اور کیمیکل ملے دودھ کا استعمال نوجوان نسل اور بچوں کی ہڈیاں کھوکھلی کرنے کا سبب بن رہا ہے رنگ شدہ سبزیاں اورفروٹ‘ بالائی اتار کر کیمیکل سے گاڑھا کیا گیا دودھ‘ جعلی طریقوں سے تیار کیا جانیوالا شہد‘ مردہ مرغیوں کے گوشت کا استعمال عام ہے مردہ مرغیاں سب سے زیادہ شوارما‘ اور تکہ کباب کیلئے استعمال ہوتی ہیں کھیتوں میں سبزیوں کو کیمیکل لگا کر انکی مقدار بڑھانے کیلئے اللہ کی ناراضگی مول لینے والے انسانیت کے بھی سب سے بڑے دشمن ہیں گندے نالوں پر چھوٹے چھوٹے ہوٹل قائم ہیں جو ملاوٹ شدہ غیر معیاری گھی سے تیار کیے جانیوالے سالن دھڑا دھڑ فروخت کرتے ہیں قصاب گلی محلوں میں بڑے جانوروں کو سیوریج نالوں اور نالیوں کے اوپر بیٹھ کر خود ذبح کر کے فروخت کر رہے ہیں اور یہ سب فوڈ اتھارٹی‘ محکمہ صحت اور محکمہ لائیو سٹاک کی غفلت کا نتیجہ ہے ملاوٹ خوری سے ہیپاٹائٹس‘ کالا یرقان‘ اور پیٹ کی مختلف بیماریوں کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی نشاندہی‘ واویلے کے باوجود متعلقہ محکمہ ملاوٹ خور مافیا کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں‘ چائے کی پتی میں استعمال شدہ پتی‘ کیچپ کی تیاری میں استعمال شدہ گاجروں کا بورا‘ سرخ مرچ کی تیاری میں اینٹوں کا بورا‘ انسانی صحت کو تیزی کیساتھ تباہ کر رہا ہے دودھ کے نام پر شیر خوار بچوں کو زہریلا کیمیکل پلایا جا رہا ہے جس کے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں انتظامیہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود کیمیکل ٹرموں میں دودھ کی نقل و حمل‘ کیمیکل سے تیار کیے گئے جعلی اور پانی ملے دودھ کی فروخت نہیں روک سکی‘جانوروں کی چربی سے تیار کیا جانیوالے گھی کے پراٹھے‘ خراب انڈوں سے پیزے کی تیاری‘ بیکری مصنوعات ہوں یا فاسٹ فوڈملاوٹ خوری سے پاک چیز تلاش کرنا اندھیرے میں سوئی تلاش کرنے جیسا ہے فوڈ اتھارٹی کے عملے پر مبینہ کرپشن کے الزامات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کرپٹ افسران اور اہلکار نہ صرف فرائض میں غفلت کی مرتکب ہو رہی ہیں بلکہ انسانی صحت اور پیسے سے کھلواڑ کرنیوالے مافیا کی سرپرستی کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ملاوٹ خوروں کیخلاف محکمہ فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ارباب اختیار کو اسکا جواب تلاش کرنے کے لیے جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1