جسٹس قاضی فائزعیسی ٰ کیخلاف ریفرنس، نئے اٹارنی جنرل کا حکومت کی وکالت سے انکار، بیر سٹر خالد جاوید نے وزرات قانون کو اٹارنی جنرل آفس میں تقرریوں سے بھی روک دیا

جسٹس قاضی فائزعیسی ٰ کیخلاف ریفرنس، نئے اٹارنی جنرل کا حکومت کی وکالت سے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)نئے اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکے خلاف حکومتی ریفرنس حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے دلائل دینے پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان سے استعفیٰ طلب کر لیا تھا۔انور منصور خان کی جگہ حکومت نے بیرسٹر خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا جس کی تین روز قبل صدر مملکت نے منظوری بھی دیدی تھی۔ گزشتہ روز جب سپریم کورٹ میں اس ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو اٹٹارنی جنرل نے کہا میں اس کیس میں نہ حکومت کی نمائندگی کرونگا اور نہ ہی دلائل دونگا۔اٹارنی جنرل کا مؤقف ہے کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراو ہے، حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل مقررکرنے کی درخواست دی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو قبول کیا جائے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس کے دوران سورہ الحجرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سورہ الحجرات میں ہے کہ گمان نہ کرو یہ گناہ ہے، سورہ الحجرات میں یہ بھی ہے کہ جاسوسی نہ کرو یہ بھی گناہ ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اخباروں میں خبر پڑھ کر دکھ ہوا، میں نے کچھ غلط نہیں کہا تھا بس میری آواز اونچی تھی۔گزشتہ سماعت پر اونچا بولنے پر معذرت کرتے ہوئے جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ میں نے بلند آواز میں بات کی، وکلاء سمیت تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں، جو ہوا اسے بھول جائیں اور آگے بڑھیں۔انہوں نے عدالت میں سورہ آل عمران کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ عدلیہ کو تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے، ہم اپنے فیصلوں میں بولتے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ کی درخواست پر نمبر نہیں لگا جس پر عابد ساقی نے کہا کہ ہمارا اس معاملے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی میرے لیے مقدم ہے، عدلیہ کی آزادی سے متعلق کوئی گمان ہوا تو آپ مجھے یہاں نہیں دیکھیں گے۔بیرسٹر خالد جاوید خان نے کہا کہ میں بطور اٹارنی جنرل عدلیہ کی آزادی کے لیے کام کروں گا، اگر ذرا بھی گمان ہوا کہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو مستعفی ہو جاؤں گا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو کچھ ہوا ہم اسے قبول نہیں کر سکتے تھے، اْس سماعت کے بعد کا نتیجہ آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ دلائل کے دوران کسی فریق کی تضحیک نہ ہو، قرآن پاک بھی غصے پر قابو پانے کا حکم دیتا ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اس درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، مجھے دلائل کی اجازت دی جائے، اگر عدالت بہتر سمجھے تو حکومت کی نمائندگی بھی کر سکتا ہوں۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین عابد ساقی نے فروغ نسیم کو دلائل دینے کی مخالفت کر دی۔جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ آپ بطور وزیر قانون دلائل نہیں دے سکتے، آپ کو پہلے استعفیٰ دینا ہو گا۔فروغ نسیم نے کہا کہ میرے خلاف جو درخواست آئی ہے اس پر دلائل دے سکتا ہوں جس پر عدالت نے فروغ نسیم کے خلاف دائر درخواست پر انہیں ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے توہین عدالت اور ججز کی جاسوسی سے متعلق پاکستان بار کونسل کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر ریفرنس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی 30 مارچ کو سنیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ججز کی جاسوسی سے متعلق پاکستان بار کونسل کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا ہے۔

اٹارنی جنرل انکار

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک این این آئی)اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وزارت قانون کو ایک خط لکھا ہے جس میں اٹارنی جنرل آفس میں تقرریوں پر انہوں نے وزارت قانون سے وضاحت مانگ مانگی ہے۔اپنے خط میں خالد جاوید نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی مقدمہ بازی کو اٹارنی جنرل آفس دیکھے گا۔خالد جاوید نے خط میں لکھا کہ اٹارنی جنرل آفس میں تقرری اٹارنی جنرل کا اختیار ہے، اخبارات کے ذریعے ہمارے علم میں آیا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس میں تقرریاں کی جارہی ہیں۔اٹارنی جنر ل نے خط میں کہا کہ وزارت قانون اس بارے میں اپنے طور پر وضاحت جاری کرے۔اٹارنی جنرل کی جانب سے وزارت قانون کو لکھے گئے خط کی کاپی وزیراعظم کے سیکریٹری کو بھی بھجوائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو خط کے ذریعے لا افسران کی تعیناتی کے حوالے سے شائع خبر کو ابہام کا باعث قرار دیتے ہوئے مناسب وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جاری خط میں روزنامہ ڈان میں شائع خبر کا حوالے سے وضاحت جاری کرنے کو کہا گیا ہے۔خیال رہے کہ روزنامہ ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز (ڈی اے جیز) اور اسٹینڈنگ کونسل کی خالی آسامیاں پْر کرنے کی کوششیں انتہائی تیز کردی گئی ہیں۔حکومت عام طور پر یہ تعیناتیاں اٹارنی جنرل کی مشاورت سے کرتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر قانون کو اس حوالے سے لکھا کہ‘آپ نے ملاقات میں واضح کیا تھا کہ کسی لا افسر کو تعینات یا ہٹایا نہیں جا رہا’۔انہوں نے کہا کہ‘ہمارے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ ہم آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے اور قانون اور انصاف ڈویڑن کوئی تعیناتی، تبادلہ یا لا افسران سے متعلق دیگر معاملات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کی رضامندی کے بغیر نہیں کرے گا’۔خالد جاوید خان نے اپنے خط میں کہا کہ‘خبر نے قانون و انصاف ڈویڑن اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ اخبار میں اشاعت کے لیے قانون و انصاف ڈویڑن کی جانب سے باقاعدہ طور پر مناسب وضاحت جاری کی جائے’۔اٹارنی جنرل نے آخر میں کہا کہ‘مستقبل میں وزارت قانون، اٹارنی جنرل آفس کے درمیان اپنے حدود کے اندر ایک اچھے تعلق کے لیے پرامید ہوں ’۔

اٹارنی جنرل خط

مزید : صفحہ اول