مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کو سز ا ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا: وزیراعظم

      مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کو سز ا ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا: ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مصنوعی طور پر مہنگائی بڑھانے کے ذمہ داروں کو سزا ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اشیا کی قیمتیں کنٹرول کے معاملے پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں قیمتوں میں خاصی کمی آچکی ہے بالخصوصی سبزیوں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جیسا کہ دیکھا جاسکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ مصنوعی طور پر مہنگائی کرنے میں ملوث افراد کی نشاندہی اور انہیں سزا ملنے تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھوں گا۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے سے متعلق اجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب، علی حیدر زیدی، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی ندیم بابر، متعلقہ وفاقی سیکریٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی اہم ترجیح ہے، ماضی میں مہنگے معاہدوں، انتظامی اصلاحات بروقت نہ کرنے سے چیلنجز کا سامنا ہے، ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں،130 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی اہم ترجیح ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نقصانات پر قابو پانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مہنگے معاہدوں، انتظامی اصلاحات بروقت نہ کرنے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کا خمیازہ آج عوام بھگت رہے ہیں،130 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے جہاں تک ممکن ہوا عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ایک دوسرے اجلاس میں وزیر ِ اعظم عمران خان نے سرکاری زمین کو ناجائز قبضے سے واگزار کرانے پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور وزارت کے افسروں کی کارکردگی اور کاوشوں کو سراہاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے فروغ میں ہر ممکنہ تعاون فراہم کرے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ٹیکنالوجی پر مبنی ملکی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بریفنگ دی۔اجلاس میں وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد احمد، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیر برائے نارکاٹیکس کنٹرول شہریار آفریدی، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، متعلقہ وفاقی سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک تھے۔وزیرِ برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے وزیرِ اعظم کو ملکی درآمدات میں کمی لانے کیلئے متبادل درآمدات (امپورٹ سبسٹی چیوشن)، بائیو ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی پیداوار اوربرآمدات میں اضافے اور ہائی ٹیک مصنوعات کے فروغ پر تفصیلی بریفنگ دی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بتایا کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے کیمیکلز، بائیوٹیکنالوجی، مشینری، ٹیکسٹائل، بیس میٹلز، پلاسٹک و دیگر اقسام کی 252 مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی پیداوار اور معیار کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے اور درآمدات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تین، سات اور دس سالہ پروگرام مرتب کر رہی ہے۔ ملک میں ہائی ٹیک انڈسٹرئیل ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ملکی استعداد اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اس حوالے سے وزیرِ اعظم کو متعدد اہم منصوبوں کی تجاویز پیش کی۔ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے حال ہی میں لاہور کے مرکزی علاقے میں واقع پاکستان کونسل فار سائنٹیفک ایند انڈسٹرئیل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی اربوں روپوں کی25 ایکٹر زمین ایک سیاسی رہنما کے قریبی رشتہ دار سے واگزار کرائی ہے۔ مذکورہ شخص نے اپنے تعلقات اور اثرو رسوخ کی بنا پر ایک عرصے سے اس بیش قیمت زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ وزیرِ اعظم نے سرکاری زمین کو ناجائز قبضے سے واگزار کرانے پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور وزارت کے افسروں کی کارکردگی اور کاوشوں کو سراہا۔کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے حوالے سے اجلاس ہو اجس میں مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم، وزیرِ اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سینئر افسران اور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے، سیاحت کے فروغ سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ مقامی لوگوں کے لئے کاروبار اور نوکریوں کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے، ماحولیات، قدرتی حسن اور مقامی اقدار کو مدنظر رکھ کر سیاحت کے فروغ کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے، آنے والے مہینوں میں شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر ان کی سہولیات کے لئے پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات کیے جائیں۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ابتدائی طور پر صوبہ خیبرپختونخوا کے چار، صوبہ پنجاب میں ایک اور بلوچستان کے ایک ساحلی علاقے میں سیاحت کے حوالے سے آئندہ چھ ہفتوں میں وژن ماسٹر پلان ترتیب دینے کا عمل مکمل کیا جائے، وژن ماسٹر پلان بیرون سرمایہ کاروں کو سیاحت کے حوالے سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ صوبہ میں واقع ریسٹ ہاسز کی بحالی اور انتظامات سیاحت کے شعبے سے وابستہ نجی شعبے کو دینے کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ”نیو بلیویایریا“کے نام سے نیا کمرشل شہر آباد کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں نیو بلیو ایریا منصوبہ کی منظوری دیدی گئی ہے جس کیلئے ایف 9 پارک کے بالمقابل منصوبے کیلئے 170 کنال اراضی مختص کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں پہلی مرتبہ کمرشل سپیس دگنی کر دی جائے گی۔ جدید تعمیرات پر مبنی کمرشل سٹی عالمی طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔منصوبے سے ابتدائی طور پر حکومت کو 25 سے 30 ارب روپے ملیں گے۔ حکومت آمدنی کا کچھ حصہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ میں استعمال کرے گی۔رقم بے گھر اور غریب افراد کے لئے سستے گھروں کی تعمیر پر خرچ ہو گی۔ دارالحکومت میں معاشی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملے گا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی بہتر کیا جائیگا۔ نئے کمرشل شہر سے روزگار اور تعمیراتی انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ملاقات کی،جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال،ترقیاتی منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعظم عمران خان کو جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

وزیراعظم عمران خان

مزید : صفحہ اول