کویت، بحرین، افغانستان میں بھی کرونا وائرس پہنچ گیا، ایران میں پاکستانیوں کیلئے ہدایت نامہ جاری، چین میں مزید 150ہلاک

کویت، بحرین، افغانستان میں بھی کرونا وائرس پہنچ گیا، ایران میں پاکستانیوں ...

  



تہران، تفتان،کابل،کویت سٹی،منامہ،سیول،اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، ڈویلپمنٹ سیل،نیوزایجنسیاں) ایران میں کرونا وائرس سے مرنیوالے افراد کی تعداد 12 ہو گئی، افغانستان، بحرین اور کویت میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔دنیا بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے سائے، ایران میں مزید چار افراد کرونا کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ ایران میں مہلک وبا سے مرنے والوں کی تعداد بارہ تک جا پہنچی جبکہ کرونا کے شکار 47 افراد ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ کویت اور بحرین میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی، حکام کے مطابق کویت میں تین جبکہ بحرین میں ایک شہری کرونا کا شکار ہوا ہے۔ افغانستان میں صوبہ ہرات میں کرونا کا ایک مریض سامنے آ گیا۔ اٹلی میں کرونا سے تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ادھر ایران کی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ قم میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ایرانی قانون ساز احمد امیر آبادی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کورونا وائرس سے ہلاکتوں کو چھپا رہی ہے۔دوسری جانب ایران کے سرکاری حکام نے کورونا وائرس سے ملک میں اب تک 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے ایران میں کرونا وائرس کے کیسز کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت تفتان میں پاک ایران سرحد پر امیگریشن گیٹ دوسرے روز بھی بند ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد گزشتہ روز بلوچستان حکومت نے ایران سے منسلک سرحدی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت پاکستان سے ایران جانے والے مسافروں کو تفتان سرحد پر روک دیا گیا جب کہ ایران میں موجود پاکستانی زائرین کو فی الحال وہیں ٹھہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے تفتان میں پاک ایران سرحد پر امیگریشن گیٹ دوسرے روزبھی بند ہیں جس کی وجہ سے سرحدکے دونوں اطراف لوگوں اورگاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔ پاک ایران سرحد پر امیگریشن گیٹ بند ہونے سے سرحد کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔ پاکستان نے ایرانی سرحد کے قریب 200 سے زائد افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کا آغاز کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ان افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کا اعلان پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ سرحد عارضی طور پر بند کرنے کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔دوسری طرف ایران میں کورونا وائرس سے متعلق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اپنے شہریوں کے لئے ہدایت نامہ جاری کردیا گیا۔ تہران میں قائم پاکستانی سفارتخانہ کورونا وائرس پھیلنے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کورونا وائرس دیگر ممالک کی طرح ایران کے مختلف شہروں میں بھی پھیلنا شروع ہوگیا ہے جس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر شامل ہیں۔اس سلسلے میں حکومتِ ایران پاکستان کی حکومت سے رابطے میں ہے جبکہ تہران میں پاکستانی سفارتخانہ اور مشہد اور زاہدان میں ذیلی مشن اپنی کمیونٹی ممبران، زائرین اور پاکستانی شہریوں سے رابطے میں ہیں۔ ایران کے طلباء، ایران میں رہنے والے، سفر کرنے اور تعلیم حاصل کرنے والے تمام پاکستانی شہریوں خاص طور پر جو لوگ قم میں مقیم ہیں، انہیں انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال میں تہران میں سفارتخانے اور دیگر شہروں میں قائم مشن سے ان نمبروں پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے کورونا کے علاج کے لئے اسپتالوں کو نامزد کیا ہیاور ہر بڑے شہر میں وائرس سے بچاؤ کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ تمام وہ افراد جن میں بخار، کھانسی، نزلہ یا وہ علامات جو کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری میں پائی جاتی ہے سے متاثر ہیں تو فوری ان اسپتالوں میں اپنا طبی معائنہ کرائیں جو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماریوں کی جانچ کے لئے نامزد ہیں اور مقامی محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ تعاون کریں اور ساتھ مکمل معلومات بھی شیئر کریں۔سفارتخانے کی جانب سے مزید اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سوشل میڈیا ہائپ سے گریز کریں اور ایسی کسی بھی مہم کا حصہ بننے سے گریز کریں۔چین سے شروع ہونے والے مہلک کورونا وائرس نے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے جبکہ جنوبی کوریا میں اس کے کیسز میں اضافے نے اسے چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا حصہ بنادیا۔چین میں کرونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 150 لوگوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2600 تک پہنچ گئی ہے۔چینی انتظامیہ کے مطابق وہ وائرس کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ساتھ ہی ان کے بقول نقل و حرکت پر غیرمعمولی پابندی اور وائرس کے مرکز اور قریب میں قرنطینہ کرنے سے انفیکشن کی شرح کم ہورہی ہے۔تاہم دنیا کے دیگر ممالک میں نئے کیسز اور اموات کی بڑی تعداد نے ممکنہ وبائی مرض سے متعلق خدشات کو بڑھادیا ہے،تاہم چین میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 5 سو 92 ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد 77 ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں۔چینی صحت حکام کے مطابق کرونا وائرس کے 409نئے مصدقہ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے کہاہے کہ حکومت پاکستان قطعی طور پر زائرین کی زیارتوں پر پابندی نہیں لگا رہی، صرف مخصوص وقت کیلئے احتیاطا ًعوام ایران کا سفر کم سے کم کریں،علما کرام اور مشائخ اپنی مجالس، خطابات اور بیانات میں لوگوں کو تعلیم دیں، لوگوں کو شرعی پہلو سے آگاہ کیا جائے،ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے۔ پیر کو وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت ڈاکٹر ظفر الطاف، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت، سیکرٹری مذہبی امور میاں محمد مشتاق بورانہ، شیعہ علماء، شیعہ وفاق المدارس کے نمائندگان، ایران عراق زیارات کے منتظمین اور قافلہ سالاروں کے ہمراہ اہم اجلاس ہوا۔ چین کے بعد ہمسایہ ملک ایران میں کرونا وائرس کی اطلاعات کے باعث پاکستانی زائرین کو وبا سے بچاؤ، احتیاطی اقدامات، اور سفری ہدایات سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

کرونا وائرس

مزید : صفحہ اول