پنجاب اسمبلی، اپوزیشن کا مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

پنجاب اسمبلی، اپوزیشن کا مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

  



لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور امن وامان کی خرابی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،حکومت سابقہ دور کو چھوڑ کراپنی کارکردگی بتائے، عوام کو چھت اور روزگار فراہم کرنے کا نعرہ لگانے والے دونوں چیزیں چھین رہے ہیں،اپوزیشن نے انٹرمیڈیٹ کی جوابی کاپیوں کے پڑتال کے معاملے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن عظمی بخاری کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا،خاتون رکن نے کہا کہ میں فیاض الحسن چوہان نہیں ہوں جواپنی بچی کے نمبر لگوا سکوں،وزیر قانون نے ڈپٹی سپیکر سے پولیس کے نارواسلوک سے متعلق سر بمہر رپورٹ ایوان میں پیش کردی جس کے بعد سپیکر نے تحریک استحقاق نمٹا دی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی ز یر صدارت 2 گھنٹے 14منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری سبطین رضا نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن سے متعلق سوالوں کے جوابات دئیے۔پارلیمانی سیکرٹری کسی ایک سوال کے جواب پر بھی اراکین اسمبلی کو مطمئن نہ۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جوابی کاپیوں کی پڑتال کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی عظمی بخاری نے احتجاج کیا اور نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا میری اپنی بیٹی بھی اس سسٹم کی زد میں آئی ہوئی ہے۔یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ایک ہی جواب کے مختلف نمبر دیئے جائیں۔ایگزامینر کے موڈ پر سب کچھ چھوڑ دیا گیا ہے۔میں فیاض الحسن چوہان نہیں ہوں کہ اپنے بیٹی کے نمبر لگوا سکوں۔میری رائے ہے کہ اس طرح کے مسائل پر ایوان کی کمیٹی بنائی جائے، طلبہ کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔حکومت اس حوالے سے اپنی پالیسی بنائے۔اس کے جواب میں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا پیپرز کی جانچ پڑتال کا واقعی اہم مسئلہ ہے، انٹری ٹیسٹ کا بھی مسئلہ ہے۔یہ نوجوان نسل کے مستقبل کا معاملہ ہے اس معاملے کو ایسے ہی نہیں چھوڑا جا سکتا،اس مسئلے کے حل کیلئے جلد حکومت سے بات ہو گی۔جب میں وزیراعلی تھا تو کوشش کر رہے تھے کہ انٹری ٹیسٹ سے بچوں کی جان چھڑائی جائے۔بعدازاں وزیر قانون راجہ بشارت نے پولیس کی جانب سے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری سے ناروا سلوک پر تحریک استحقاق کی سربمہر رپورٹ ایوان میں پیش کی۔راجہ بشارت نے کہاکہ توفیق بٹ اور حیدر گیلانی سے بھی ان کی پولیس کے متعلق تحاریک استحقاق پر بات کرکے انہیں مطمئن کیا جا ئے گا، حکومت کو تمام ارکان کا احترام ہے، اسپیکر رپورٹ پر جو فیصلہ کریں گے حکومت کوقبول ہوگا، رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپیکر نے معاملہ نمٹا دیا۔مسلم لیگ (ن)کے توفیق بٹ کی نے وزیر قانون کی جانب سے استحقاق کے معاملے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس حمزہ شہباز کی ہر پیشی پر میرے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے۔سپیکر نے توفیق بٹ کو معاملے کے حل کی یقین دہانی کرادی۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سید حسن مرتضی نے کہا کہ چنیوٹ کے نواحی علاقہ امین پور بنگلہ میں ضلعی انتظامیہ نے 100 گھر گرانے کی تیاری مکمل کی ہے،تجاوزات کے نام پر غریب لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے، حکومت عوام کو گھر دینے کے بجائے گرا رہی ہے،غریب سے روٹی تو چھین لی ہے اب چھت بھی چھین رہی ہے، حکومت امین پور بنگلہ میں تجاوزات کے نام پر لوگو ں گھر گرانے سے باز رہے ، عوام مہنگائی سے پہلے ہی پریشان ہیں، حکومت اگر غریبوں کو چھت دے نہیں سکتی تو ان سے چھیننے کی کوشش بھی نہ کرے، وہاں پر سارے میرے ووٹر زنہیں ہیں۔تحریک انصاف کی رکن شاہین رضا نے گوجرانوالہ میں پولیس ملازمین کی ہاؤسنگ سکیم پر تحریک التوائے کار پیش کردی۔نندی پور کے قریب زمین 12 لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے حاصل کی گئی اور ملازمین کو پلاٹ 3 سے 7 لاکھ میں دیا جارہا ہے،،12 لاکھ میں حاصل کی گئی زمین ایک کروڑ 12 لاکھ میں بیچی جارہی ہے،ملازمین کی ویلفیئر کی بجائے پیسہ کسی اور کی جیب میں جارہا ہے۔سپیکر نے زمین کی خریداری اور پلاٹس کی قیمت پر تحقیقاتی کمیٹی بنادی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان شامل ہیں،کمیٹی کوایک ماہ میں مکمل چھان بین کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چوہدری محمد اقبال نے کہا کہ حکومت کے پاس تجربہ کار لوگ ہیں ان سے استفادہ نہیں کررہی،چوہدری پرویز الٰہی سے ہی پوچھ لیں پروکیورمنٹ کیسے کرنی ہے،حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے پیداوار بڑھائے۔چیئر مین آف پینل میاں محمد شفیع نے ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج (منگل)کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر