چارج شیٹ آنے پر، وزیراعلٰ نے ایکشن لے لیا، ڈاکٹر منور عباس کیخلاف فوری انکوائر ی کا حکم

چارج شیٹ آنے پر، وزیراعلٰ نے ایکشن لے لیا، ڈاکٹر منور عباس کیخلاف فوری ...

  



ملتان(وقائع نگار)وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے معطل چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر منور عباس کیخلاف لاکھوں روپے کی کرپشن،بدعنوانی،ادویات کی خریداری میں گھپلوں سمیت 20 مختلف الزامات کے تحت انکوائری کا حکم دیا ہے۔پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت سیکرٹری لیبر و ہیومن ریسورس سارہ اکبر(گریڈ 20)کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ملتان ڈویڑن ڈاکٹر سید(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

وسیم الحسن محکمانہ نمائندہ ہوں گے۔ڈاکٹر منور عباس کو جاری چارج شیٹ میں سات روز میں اپنے دفاع میں جواب داخل کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ورنہ تصور کیا جائے گا کہ انکے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں ہے۔چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 101 لیڈی ہیلتھ وزیٹرز،113 ویکسی نیٹرز،130 ڈسپنرز،66 سی ڈی سی سپروائزرز کو اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کئے۔انہوں نے سکیل 16 کے ملازمین کو اختیار نہ ہونے کے باوجود تحت ترقی دی۔مالی فوائد اٹھانے کے لئے سینیئر ڈاکٹروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسین صابر کی ڈی ڈی او پاورز دیں۔کڈنی سنٹر کے ملازمین سے بحالی کے لئے 16 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔مالی سال 19۔2018 میں مالی سال 11۔2010 کے بوگس بل لئے۔اختیار نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر عطاء الرحمن کو ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام ملتان تعنیات کیا اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کو یوٹیلٹی الاونس لینے کی منظوری دی۔ڈاکٹر منور عباس پر الزام ہے کہ انہوں نے گھر پر سرکاری ملازمین کی ڈیوٹی لگائی اور ذاتی کام کرواتے رہے جبکہ انکی تنخواہ سرکاری خزانے سے ادا کی جاتی تھی جس سے حکومت کو مالی نقصان پہنچا۔انکے پاس کئی سرکاری و ذاتی گاڑیاں تھیں جنکی لاگ بک بوگس طریقے سے پوری کرکے مالی بے قاعدگی کے مرتکب ہوئے۔ڈینگی فنڈز میں بھی کرپشن کی گئی۔غیر قانونی طور پر کئی ڈاکٹروں و ملازمین کو ایڈجسٹ کیا۔پبلک ہیلتھ آفیسر ذیشان سرور نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے جعلی دستخط کئے مگر انکے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔دیہی و بنیادی مراکز صحت کے لئے معمول کی ادویات بھی نہیں خریدی گئیں۔کمیشن چکر میں پیپرا قوانین کیخلاف چوہے مار ادویات خریدی گئیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر