حکومت بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں لانے کیلئے سرگرم‘ بینش فاطمہ

  حکومت بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں لانے کیلئے سرگرم‘ بینش فاطمہ

  



جام پور(نامہ نگار) ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم پنجاب نے سکولوں کے دورہ کرنے کے علاوہ اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی۔وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر پنجاب کے چھتیس اضلاع میں تعلیمی سال یکم مارچ سے شروع ہو گا۔ انگریزی کو ختم کرتے ہوئے اردو میں نصاب کی(بقیہ نمبر35صفحہ12پر)

تدریس دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ سکولوں سے بائر اور ورکشاپوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے کئی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ افسران دفتروں میں بیٹھنے کی بجائے فیلڈ میں جاکرکے سکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کو جائزہ لیں۔ ضلع راجن پور کے دو سو ٹیچرز کو ڈیٹا نامکمل ہے۔ چار کروڑ روپے کی لاگت سے راجن پور کے سکولوں کی حالت بہتر کی جائے۔ راجن پور کے تمام سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دورکیا جائے گا۔ یہ بات ایڈیشنل سیکرٹری پنجاب میڈیم بینش فاطمہ نے دورہ کے دوسرے روز سی ای او افس راجن پور میں انتظامی افسران کے اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سی ای او تعلیم ثناء اللہ سہرانی۔ ڈی ای او حشمت علی۔ میڈیم طائرہ شاہین۔ ڈپٹی ڈی ای او شمع ناز۔ ساجدہ کریم۔ عطاء حسین سیلرہ۔ راو محمد طارق خان۔ آصف رسول۔ جمیل لغاری سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ سی ای او تعلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ راجن پور کے تعلیمی اداروں کی حالت کو بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 35سکول سربراہان سے محروم ہیں۔ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ تحصیل وضلع افسران کے لیے دفاتر تک موجود نہ ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم پنجاب نے کہا کہ سکولوں میں این ایس بی فنڈذ کا شفاف استمعال کرایا جائے۔ میرٹ پر اساتذہ کی پروموشن کی جائے۔ ناقص میٹریل استمعال کرنے والے ٹھیکداروں کی نام ڈی سی کو بتائے جائیں تاکہ ان کو بلیک لسٹ کیاجائے۔ انہوں نے گرلز سکول پتی جمعہ ارائیں کا بھی دورہ کیا۔ بعدازاں انہوں نے پنجاب سنیئر سٹاف اف ایسویسی ایشن جنرل سیکرٹری راوثناء اللہ خان کی دعوت پر ہائر سیکنڈیری سکول کوٹ مٹھن کا دورہ کیا۔ انہوں نے سانئس لیب اور دیگر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ بچوں کے تعلیمی معیار کا جائز لینے کے علاوہ ایل این ڈی ٹیسٹ بھی لیا۔ شاندار کارگردگی اور وزیراعلی پنجاب کے ویژ ن کے مطابق تدریس کے عمل پر پرنسپل راو ثناء اللہ سہرانی کو شاباش دی۔ اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ علاوہ ازیں اساتذہ کے وفد سے بھی ملاقات کی اور مسائل سنے۔ علاوہ ازایں انہوں نے برصغیر کے روحانی پیشوا خواجہ غلام فرید کی دربار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک وقوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعابھی کرائی۔

بینش

مزید : ملتان صفحہ آخر