مافیا سرگرم‘ چینی سٹاک کرنے کیلئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا انکشاف

  مافیا سرگرم‘ چینی سٹاک کرنے کیلئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا انکشاف

  



رحیم یار خان (بیورو رپورٹ)چینی پر سٹے بازی کا رجحان جاری،لاکھوں ٹن چینی فرضی خریداروں کے ناموں سے شوگر ملز کے گوداموں میں پڑی ہے،حکومتی ہدایت کے باوجود پنجاب کی شوگر ملز نے چینی کے سٹاک کی رپورٹ جاری نہیں کی، حکومت گندم آٹے (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

کی طرح چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرے 100کلو چینی کی بوری ایک بار پھر 100 روپے آضافے کے ساتھ 7ہزار5سو روپے کی ہو گئی،گندم کے ذخیرہ اندوزوں اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کر کے حکومت ملک میں آٹے کے بحران پر قابو پا سکتی ہے تو چینی مافیا حکومتی کنٹرول سے باہر کیوں ہیں،سستے گنے سے تیار ہونے والی چینی بدستور مہنگی ہو رہی ہے۔کھاد،ڈیزل،بجلی،زرعی ادوایات کی قیمتوں کے لحاظ سے حکومت کاشت کاروں کو ان کی فصل کا مناسب نرخ نہیں دلوا سکی تو شوگر ملوں کو مہنگی چینی کی فروخت کی اجازت کیسے دے سکتی ہے،پنجاب کی 70فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے،اب وقت آگیا ہے کہ یہ فیصلہ ہو کہ کروڑوں کاشت کار وں سے ان کی زرعی اجناس اونے پونے داموں خرید کر کے چند شوگر ملز مالکان پیداواری آخراجات اور جائز منافع سے تین گنا مہنگا کیوں فروخت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار کاشت کار تنظیموں کے رہنماوں چوہدری محمد یاسین،چوہدری نصیر وڑائچ،سردار یعقوب سندھو،سید محمودالحق بخاری،ملک جنید اسلم نائچ،چوہدری نورالحق بندیشہ،ناصرجمیل،ایم ڈی گانگا نے گذشتہ روز اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ابھی کرشنگ سیزن 2019.20ختم نہیں ہوا کہ چینی کی 100کلو کی بوری پچھلے کرشنگ سیزن سے اب تک 2200روپے آضافے کے ساتھ 5ہزار 2سو سے 7ہزار500روپے کی ہو چکی ہے، فی کلو چینی کی قیمت ہول سیل میں 77روپے جبکہ پرچون میں 80روپے کلو ہو گئی،حکومتی ادارے شوگر مافیا کے سامنے بے بس ہیں،جس کی وجہ سے ایک طرف سٹے بازی کا رجحان ہے تو دوسری طرف سٹاکیے متحرک،لاہوراکبدی منڈی،کراچی،راولپنڈی،فیصل آباد،سرگودھا میں فیوچر ٹریڈنگ کے زریعے چینی پر سٹے بازی کی جارہی ہے،سرمایہ داروں نے چینی کو سٹاک کرنے کے لیے اربوں روپے لگا دیئے،مصنوعی گھن چکر کو روکا نہ گیا توچینی کی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں ابھی آٹے اور گندم کے جاری بحران پر حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور آٹے کی سمگلنگ میں ملوث عناصر پر قابو پایا ہے جبکہ اس کے برعکس جاری کرشنگ سیزن میں شوگر مافیا تمام طر حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے متحرک ہے جبکہ گنے کی کاشت اور چینی کی پیدوار پچھلے سیزن کے مطابق ہے،پنجاب کی شوگر ملز اور ان کے خفیہ گوداموں میں لاکھوں ٹن چینی فرضی فرموں اور خریداروں کے ناموں سے سٹاک ہے،چینی کی قیمت میں آضافے کو سدیکھتے ہوئے بڑے کارباری عناصر بھاری انویسمنٹ کرکے کثیر مقدار میں چینی سٹاک کرنے لگے ہیں، آنے والے دنوں میں اس مصنوعی بحران کا اثر مارکیٹ میں عام دوکاندار اور شہریوں کی جیب پر آئے گا،آبادی کا 70فیصد کاشت کار اپنی سستے داموں فصل بیچ کر مارکیٹ سے مہنگے داموں چینی خرید کرے گا،انہوں نے وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ شوگر ملز سے چینی کے سٹاک کے ساتھ ساتھ فروخت کا ریکارڈ حاصل کر کے انکوائری کی جائے اور اس مصنوعی بحران میں ملوث عناصر کو منظر عام پر لایا جائے۔

انکشاف

مزید : ملتان صفحہ آخر