ایم پی اے ممتاز خان چانگ کی وفد سے ملاقات‘ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم پر غور

  ایم پی اے ممتاز خان چانگ کی وفد سے ملاقات‘ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم پر ...

  



صادق آباد(نمائندہ خصوصی)نہری پانی کسانوں کے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ٹیل تک پانی کی فراہمی حکومت(بقیہ نمبر19صفحہ12پر)

کی ذمہ داری ہے،پہلے عباسیہ لنک کینال سے غیر قانونی پانی چوری ہوتا رہا اب لیاقت پور کے ارکان اسمبلی 18ہزار ایکٹر رقبہ کے لئے اسی نہر سے پانی لے کر ٹیل کے کاشتکاروں پر شب خون مارنا چاہتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی کے ایم پی اے سردار ممتاز خان چانگ نے صدر انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی چوہدری خلیل احمد،صدر آٹو یونین محمود احمد چوہدری اوردیگر سے ملاقات کے دوران کیا ایم پی اے ممتاز خان چانگ نے بتایا کہ تحریک انصاف کے لیاقت پور سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے ضلع رحیم یارخان کو سیراب کرنے والی عباسیہ لنک کینال سے 18ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے وزیر اعلی پنجاب کو درخواست گزاری ہے جس پر میٹنگز بھی ہو چکی ہیں ان میٹنگز میں رحیم یارخان کے کسی بھی ایم پی اے نے اس کی مخالفت نہیں کی جب کہ اس پانی کے لینے کے عمل سے صادق آباد اور رحیم یارخان براہ راست متاثر ہوں گے صادق آباد کے ایم پی ایز کو اس میٹنگ میں مدعو ہی نہیں کیا گیا جیسے ہی معاملہ میرے علم میں آیا ہے میں نے اس پر اسمبلی اور ایریگیشن ڈیمپارٹمنٹ سے رابطے کئے ہیں انہوں نے بتایا کہ پانی کی مجوزہ تقسیم سے صادق آباد کے ٹیل کے کاشکار براہ راست متاثر ہوں گے اور ہزاروں ایکڑ رقبہ بنجر ہو جائے گا جس کی ہم قعطاً اجازت نہیں دیں گے اور ہر فورم پر اپنے زمینداروں کے حق کے لئے جائیں گے اس موقع پر صدر انجمن آڑھتیاں چوہدری خلیل احمد نے کہاکہ پہلے ہمارا حق غیر قانونی نہریں نکال کر پانی چوری کی صورت میں مارا گیا اب اسی چوری کو لیگل لائز کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا جارہاہے جس کے خلاف صادق آباد کی کسان برادری،تاجر تنظیمیں بھرپور مخالفت کریں گی اور جلد اس سلسلہ میں اجلاس بلایا جائیگا۔اس موقع پر محمود احمد چوہدری نے کہاکہ پانی ہماری بنیادی ضرورت ہے نہریں سیلٹ سے بھری پڑی ہیں ان میں مزید پانی کی گنجائش نہیں بھل صفائی بھی وقت کی اہم ضرور ت ہے ہمارے علاقے کو پہلے ہی ہمارا منظور شدہ پانی نہیں مل رہا اوپر سے لیاقت پور کے اراکین اسمبلی کے پانی لینے کی کوشش قابل مذمت ہے جس کی ہر پلیٹ فارم پر مخالفت کی جائے گی۔

غور

مزید : ملتان صفحہ آخر