بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے: حافظ نعیم الرحمن

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے: حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑدی ہے، آٹا، بجلی، گیس سمیت دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام شدید ذہنی جسمانی اذیت کا شکار ہیں،حکومت کی جانب سے اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں کمی کے اعلانات کے باوجود کوئی کمی نہیں کی جارہی،گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں، بھوک و افلاس کی وجہ سے خود کشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں،حکومت کی جانب سے اب تک کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر عوام پر ظالمانہ ٹیکس لگارہی ہے،بجلی گیس اور تیل کی قیمتیں آئی ایم ایف کے حکم پر بڑھائی جاتی ہیں۔تبدیلی سرکار کے آنے کے بعد سود میں سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔شرح سود تیرہ فیصد اور مہنگائی 14فیصد تک پہنچ گئی ہے۔بجلی کی قیمت میں سوفیصد اور گیس کی قیمتوں میں 224فیصد کا اضافہ ہوا،یہ عوام کا معاشی قتل عام ہے۔نااہل حکمران پہلے گندم اور چینی برآمد کرکے عوام کو نقصان پہنچاتے رہے اور پھر درآمد کرکے عوام پر بوجھ ڈالا گیا۔گندم 29روپے فی کلو کے حساب سے برآمد کرکے کسانوں کو نقصان پہنچایا گیااور اب 70روپے کلو درآمدکرکے عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ لی گئی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اخباری رپورٹ اورماہر ین معاشیات کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں پیٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل، گیہوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔2003سے 2010ء تک افراط زر اوسطاً 10.15فیصد رہا جو اب پی ٹی آئی دورِ حکومت میں بڑھ کر 14.6فیصد تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ کرنسی نوٹوں کی اضافی پرنٹنگ، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، بلواسطہ ٹیکسز، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ملک کا سرمایہ دارانہ نظام، تاجروں اور صنعتکاروں کی ذخیرہ اندوزی، اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،چکن کی قیمت میں 17.5فیصد، انڈے 14فیصد، آٹا 13فیصد، دالوں کی قیمت میں 10فیصد اضافہ ملک میں مہنگائی کا اصل سبب بنا۔ نان فوڈ آئٹمز میں افراط زر کا جائزہ لیں تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 14فیصد، کپڑے اور جوتوں کی قیمتوں میں 10.5فیصد، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کی سروسز میں 10.8فیصد اور دیگر خدمات کے شعبے میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا۔اس طرح فوڈ اور نان فوڈ اشیاء کی قیمتوں میں گزشتہ 3مہینوں دسمبر 2019ء میں 12.42فیصد، جنوری 2020ء میں 13فیصد اور فروری میں 14.3فیصد ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو گزشتہ 12سالوں میں ملک میں مہنگائی کی سب سے اونچی شرح ہے، جس میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سرفہرست ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں تو مسلسل ہوشربا اضافے کیے جارہے ہیں لیکن عوام کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہاجس کی وجہ سے ان کی قوت خرید مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔موجودہ حکومت جو تبدیلی کے دعوے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ حکومت کے تمام وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر