12سال پرانی لاش کی با قیات ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت

12سال پرانی لاش کی با قیات ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فلیٹ سے 12 سال پرانی لاش کی باقیات ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس نے خاتون زکیہ بی بی کے بیٹے قیصر اور بیٹی شگفتہ کے زیرِاستعمال گاڑیوں کے فرانزک اور تلاشی کا فیصلہ کیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس نے دونوں بہن بھائیوں کے قتل کا شبہ ظاہرکیا ہے۔ پولیس کے مطابق شگفتہ کی موت سے قبل ماموں نے فلیٹ سے لیپ ٹاپ اورگاڑیوں کے کاغذات چوری کیے تھے۔دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ کے بعد قتل کا واضح پتہ چلے گا،لیپ ٹاپ اورکاغذات شگفتہ کی موت کے بعد چوری کیے گئے جبکہ شگفتہ کو مرنے سے قبل ماموں زاد بھائی نے کھانا دیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اہل محلہ نے بیان دیا ہے کہ کھانا دینے کے4 دن بعد شگفتہ کا انتقال ہوا۔واضح رہے کہ کراچی کی اسکول ٹیچر ذکیہ گلستان جوہر کریسینٹ اپارٹمنٹ کی رہائشی تھیں۔ ان کا ایک بیٹا قیصر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا اور ایک بیٹی شگفتہ تھی جنہوں نے ذکیہ کے 2008 میں انتقال کرنے کے بعد لاش دفنانے سے انکار کردیا تھا۔فلیٹ سے تعفن اٹھنے پر پڑوسی سوال کرتے تو دونوں بھائی بہن جھگڑا کرتے تھے جس کے بعد انھوں نے سوال کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔تین سے چارسال لاش کے ساتھ گھر میں گزارنے کے بعد دونوں بہن بھائی گلشن اقبال بلاک 4 کے گھر میں منتقل ہوگئیمگر ہر ماہ باقاعدگی سے بجلی گیس وغیرہ کے بل لینے اور اپنی ماں کی لاش کو دیکھنے ضرور گلشن اقبال آیا کرتے تھے۔ 4اکتوبر2019کو ہارٹ اٹیک سے قیصر کی موت ہوگئی جس کے غم میں بہن شگفتہ نے کھانا کھانا چھوڑدیا اور 29جنوری 2020 کو اس کی بھی موت ہوگئی۔ان کی وفات کے بعد ان کے ماموں محبوب نے بہن کی لاش کی باقیات ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران پولیس کو ذکیہ کی لاش کی باقیات کراچی کی کچرا کنڈی سے ملیں تو فوٹیج کی مدد سے کھوج لگا کر محبوب تک پہنچی اور اسے گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔مقدمے کی دفعات میں جرم چھپانے، لاش کی بے حرمتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر