خیبر،سیاسی پارٹیو ں کا عدنان شنواری کے قتل کیخلاف احتجاج جاری

  خیبر،سیاسی پارٹیو ں کا عدنان شنواری کے قتل کیخلاف احتجاج جاری

  



  

خیبر(بیورورپورٹ)عدنان شینواری قتل کے خلا ف سیاسی اتحاد اور لواحقین کا تیسرے روزاحتجاج چرواز گئی کے مقام پاک افغان شاہراہ پر جا ری رہا گزشتہ روز تدفین کے بعد سیا سی اتحاد کے مشران اور لواحقین احتجاجا پاک افغان چاہراہ پر فاتحہ خوانی کیلئے بیٹھ گئے ہیں فاتحہ خوانی میں ایم پی اے شفیق شیر بھی موجو دتھے جبکہ پشاور سمیت دور دراز علاقوں سے لوگ اظہار تعزیت کیلئے آرہے ہیں پہلی دفعہ غم اور غصہ کے عالم میں قبائل حجروں کے بجائے شاہراہ پر بیٹھ کر فاتحہ خوانی ہو رہی ہیں فا تح خوانی میں سینکڑوں لوگ عدنان شینواری کے رشتہ داروں کے ساتھ غم میں شریک ہوکر شاہراہ پر پورے دن بیٹھے رہے تین دن سخت احتجاج اور دودن تک لاش شاہر اہ پر موجود ہونے کے باجود حکومت کی طرف کوئی مذاکراتی جرگہ نہیں بھیجاگیا جس سے لوگوں میں شدید غم وغصہ پا یا جا تا ہیں لوکل سطح پر پولیس اور اے سی بار بار مذاکرات کیلئے آتے ہیں لیکن سیا سی اتحاد کمیٹی ان سے مزاکرات کیلئے تیا ر نہیں سیا سی اتحاد کمیٹی اراکین کے مطابق کہ حکومت کے بااختیا ر حکام سے مزاکرات کرینگے اور اس کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرینگے عدنان شینواری واقع کے بعد سیا سی اتحا د جب سڑکوں پر نکل آئے اس وقت لوگ بہت زیا دہ تھے اس لئے انہوں مقتول کے رشتہ داروں کے صلاح مشورے سے کمیٹی تشکیل دی جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر شاہ حسین شینواری،ایم پی اے شفیق شیر،جمعیت علماء اسلام کے مفتی اعجاز،جماعت اسلامی کے مراد حسین آفریدی،پاکستان پیپلز پارٹی ملکزادہ ندیم آفریدی،پاکستان تحریک انصاف عبدلرازق شینواری،رحمن شینواری، مقتدر شاہ آفریدی،ذاکر آفریدی شامل تھے کمیٹی اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ تین دن تک روزانہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک چرواز گئی میں پاک افغان شاہراہ پر احتجاج بیٹھے گے اور فاتحہ خوانی ہو گی شاہراہ بندش سے دونوں اطراف سینکڑوں مال برادر گاڑیاں کھڑی ہیں جبکہ افغانستان آنے اور جانے والوں مسافروں کو بھی شدید مشکلات درپیش ہیں لیکن اسکے باجود حکومت مظاہرین سے مزاکرات کیلئے نہیں آتے اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صدر شاہ حسین شینواری نے کہا کہ ایک ماہ پہلے علاقہ پسید خیل کے ایک خاطر شینواری کو سیکورٹی فورسز کے زیر حراست قتل کیا گیا تھا لیکن اب دوسرے ایک نواجوان عدنان شینواری کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اگر عدنان شینواری گنہگا ر تھا تو عدالت میں پیش کیو ں نہیں کیا گیا کیونکہ یہ تو انکے پاس زیر حراست تھا انہوں نے کہا کہ جب تک انکے مطالبا تسلیم نہیں کئے جا تے اس وقت تک احتجاج جا ری رہیگا اس واقع کا جودیشل انکوائری کی جائے اور ایف آئی آردرج کیا جائے ا سکے ساتھ سیکورٹی فورسز علاقے میں چھا پے بند کریں اور مطلوب افراد کو سول انتظامیہ کے زریعے گر فتار کرکے حاضر کیا جائے اور دونوں شہداء عدنان شینواری اور خاطر شینواری کو شہید پیکج دیا جائے عدنان شینواری کے والد اسماعیل کے مطابق کہ تقریبا چار ماہ پہلے سیکورٹی فورسز نے انکو گھر سے اٹھایا تھا چار ماہ کے دوران انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنے بیٹے سے مل سکے یا انہیں بتایا جا سکے کہ انکے بیٹے کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہیں بلکہ چار ماہ بعد انکوبیٹے کی لاش ملی واضح رہے کہ پانچ دن پہلے پشاور ریگی میں سی ٹی ڈی مقابلے میں مبینہ طور پرعدنان شینواری جاں بحق ہو گئے

مزید : پشاورصفحہ آخر