چارسدہ، اداروں کی عدم دلچسپی سے ماڈل سکول اڑھائی سال سے التواء کا شکار

      چارسدہ، اداروں کی عدم دلچسپی سے ماڈل سکول اڑھائی سال سے التواء کا شکار

  



چارسدہ(بیو رو رپورٹ)چارسدہ میں سیاسی قیادت اور اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے 43کنال اراضی پر مجوزہ ماڈل سکول ڈھائی سال سے التواء کا شکار۔43کنال اراضی میں مقامی شہری نے صرف 21مرلہ اراضی پر ملکیت کا دعویٰ دائرکیاجس کی وجہ سے چارسدہ کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سابق صوبائی حکومت کی طرف سے چارسدہ سمیت صوبے کے دیگر پانچ اضلاع میں ماڈل سکول کے تعمیر کا فیصلہ ہو ا تھا اور اس حوالے سے چارسدہ میں بھی ولی خان سپورٹس کمپلکس کے قریب 43کنال سرکاری اراضی الاٹ کی گئی مگر اس دوران دوران ایک شہری نے عدالت میں درخواست دائر کرکے مذکورہ اراضی میں 21مرلہ ملکیت کا دعویٰ دائر کیا جس سے ماڈل سکول منصوبہ التواء کا شکار ہو گیا۔دوسری جانب سیاسی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مقدمہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور چارسدہ کے بچے معیاری تعلیم ادارے میں حصول علم سے محروم ہو رہے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے سکول کے لئے زمین خریدنے کے مد میں 17.737ملین روپے اس شرط پرمنظور کئے تھے کہ یہ سکول ضلعی ہیڈ کوارٹر میں تعمیر ہوگالیکن پاکستان تحریک انصاف کے سابق دور حکومت میں پی ٹی آئی کا تحصیل شب قدر سے ایک ایم پی اے منتخب ہو ا تھا جو اس سکول کو اپنے حلقہ نیابت میں تعمیر کرنا چاہتا تھا لیکن ٹیکنیکل وجوہات اور سکول کے لئے زمین نہ ملنے کے باعث تحصیل شب قدر میں ماڈل سکول کے تعمیر پر کام شروع نہ ہو سکا۔پی ٹی آئی کے حالیہ دور حکومت میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں جوڈیشل کمپلکس کے قریب 34کنال سرکاری اراضی کی نشاندہی کی گئی جس پر حکومت نے فوری طو رپر ماڈل سکول کے تعمیر پر کام شروع کرنے کی ہدایت کر دی لیکن حال ہی میں سرکاری زمین کے ساتھ متصل زمین کے مالک سرفراز نامی شہری نے محکمہ ریونیو کی جانب سے 22مرلہ کی زمین سرکاری زمین میں شامل کرنے کی لئے عدالت سے رجوع کیا ہے جس پر عدالت نے ایک بار پھر ماڈل سکول کی تعمیر پر کام شروع نہ کرنے کے احکامات جاری کر دی ہیں اور کیس میں محکمہ ریونیوکو3مارچ کو ریکارڈ سمیت عدالت طلب کر لیا ہے۔دوسری جانب محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مطابق سکول کے تعمیر کے لئے 152.861ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مئی 2017میں سکول کے تعمیر کے لئے متعلقہ کنٹریکٹر کو ورک آرڈ ر بھی ایشو ہو چکا ہے لیکن تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود ماڈل سکول کے تعمیر پر کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ماڈل سکول کے تعمیر کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ ماڈل سکول ملک کے بہترین تعلیمی اداروں کا مقابلہ کر سکے گا جب کہ ایک معیاری کالج کی طرح اس سکول میں طلبہ و طالبات کے لئے ہر قسم کے سہولیات میسر ہونگے،سکول میں اعلیٰ معیاری کا بین الاقومی نصاب پڑھایا جائے گا جبکہ سکول کاہر ایک ٹیچر اپنے سبجکٹس کا سپیشلسٹ ہو گا۔ دوسری جانب سکول میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات کی گنجائش ڈھائی ہزار تک ہوگی جس میں طلبہ و طالبات کے لئے ہاسٹل کے الگ الگ سیکشن سمیت پلے گرانڈ وغیر ہ کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر