سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بموں سے ماحولیاتی اثرات کا معاملہ امریکہ سے اُٹھانے کا حکم

    سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بموں سے ماحولیاتی اثرات کا معاملہ امریکہ سے اُٹھانے ...

  



اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے وزارت خارجہ کو بموں سے ماحولیاتی اثرات کا معاملہ امریکہ سے اٹھانے کی ہدایت کردی۔تفصیلات کے مطابق مشاہد حسین سید کے زیر صدارت سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی بم حملوں سے ماحول پر برے اثرات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ قبائلی علاقوں اور افغانستان میں دہائی سے بمباری نے ماحول آلودہ کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کے مطابق35 سال سے بموں اور زہریلی گیس کے اثرات پانی سمیت ہر چیز میں موجود ہیں،امریکہ اس کا ازالہ کرے۔مشاہد حسین سید نے کہاکہ سراج الحق امریکہ میں یہ معاملہ امریکی تھینک ٹینک سے اٹھائیں۔ سراج الحق نے کہاکہ کہیں امریکہ میں مجھے سراج نام پر سراج الدین حقانی سمجھ کر روک نہ لیں،سراج الحق کے جواب پر کمیٹی میں قہقہے لگائے گئے۔ مشاہد حسین سید نے کہاکہ وزرت خارجہ حکام وزیر خارجہ کے علم میں یہ معاملہ لائیں۔ پروفیسر ولی نصر نے کہاکہ آج تک یہ بات پاکستان نے اٹھائی نہ ہی افغانستان نے،امریکہ جاپان سمیت دیگر ممالک اس پر فنڈنگ کر سکتے ہیں جبکہ یہ معاملہ افغان امریکہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرائیں۔چیئر مین مشاہد حسین سید نے کہاکہ امریکہ صدر نے بھارت کا دورہ کیا ہے،امریکہ چین اور بھارت کے حوالے سے پالیسی دیکھنا ہوگی۔ ماہر عالمی امور پروفیسر ولی نصر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ کو پاک بھارت تعلقات پر تحفظات نہیں،امریکہ کو پاک چین اور ایران تعلقات پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ نے عراق جنگ میں تین کھرب ڈالر خرچ کیے نتیجہ کچھ نہیں نکلا،افغانستان جنگ کو مزید طوالت دینے سے بچنے کیلئے مذاکرات شروع کیے گے۔پروفیسر ولی نصر نے کہاکہ ایرانی حمایت کے بغیر افغانستان مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں، امریکہ کے اس خطے میں طویل مدت تک مفادات نہیں رہیں گے۔پروفیسر ولی نصر نے کہاکہ اب خطے کے مفادات چین کی طرف منتقل ہو گے،امریکہ تجارتی بنیاد پر بھارت سے تعلقات چاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ میرا نہیں خیال امریکہ پاک بھارت بارڈر کشیدگی اور کشمیر کو سنجیدہ لے گا،یو اے ای سعودب عرب سمیت اسلامی ممالک مودی کے مسلم مخالف قوانین پر بات نہیں کرتے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی

مزید : پشاورصفحہ آخر