ترقیاتی منصوبو ں کی پلاننگ کی ہے لیکن فنڈز مختص نہیں کرسکے: وزیراعلیٰ سندھ

ترقیاتی منصوبو ں کی پلاننگ کی ہے لیکن فنڈز مختص نہیں کرسکے: وزیراعلیٰ سندھ

  



حیدرآباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی پلاننگ کی ہے لیکن فنڈز مختص نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے 140ارب روپے کم ملے ہیں اس لیے سہون سمیت سندھ بھر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی کمی کی وجہ سے مسائل در پیش ہیں۔وہ پیرکواپنے آبائی علاقے سہون کے تین روزہ دورے کے دوران سہون کے نزدیک ٹنڈو شہباز میں ایڈووکیٹ رفیق احمد ڈاہری کی ٹی پارٹی اور جھانگارا باجارا سہون میں میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرر ہے تھے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ منچھر جھیل کی بحالی کیلئے ماحولیات کے ماہرین کو منصوبہ بندی کرنے کیلئے کہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کیلئے اب تک ریٹس فکس نہیں کیے اور گندم کی خریداری کیلئے حکومت کو سبسڈی دینی پڑتی ہے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اتحادیوں نے حکومت کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے ہیں کبھی ایم کیو ایم تو کبھی ق لیگ روٹھی جا رہی ہے اور حکومت میں بیٹھے لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ جو لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ان کیلئے ایک ایک منٹ بھی اہم ہے اور یہ حکومت وہ حکومت ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم خود کشی کر لیں گے اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو سمجھا جائے کہ حکمران چور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی ہر بات سے مکر جاتے ہیں اور پتہ نہیں کتنی بار سندھ حکومت ختم کر چکے ہیں اس لیے عوام و میڈیا کو چاہیے کہ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں اور ہمیں عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں بہت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ پی پی پی پر اعتماد کیا ہے اور ووٹ دیا ہے اور 2018کے انتخابات میں ہمیں پہلے سے بھی زیادہ ووٹ ملے ہیں۔آئی جی سندھ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آئی جی متنازعہ ہیں اور سندھ کابینہ نے متفقہ طور پر انہیں ہٹانے کی منظوری دی تھی جبکہ وزیر اعظم نے بھی یہی بات کہی تھی اور ہم نے وفاق کو اس ضمن میں نام بھی دیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دیگر صوبوں میں 24گھنٹے کے اند ر افسران کے تبادلے ہو جاتے ہیں جبکہ سندھ کی حکومت کو عوام نے ووٹ دیا ہے اور آئی جی کو تبدیل کرنا حکومت سندھ کا بھی اختیار ہے اور اس وقت بد امنی کی وجہ سے ایک رکن صوبائی اسمبلی اور ایک صحافی کا قتل بھی ہوا ہے اورکہا کہ ان قتل میں جو بھی ملوث پایا گیا چاہے وہ میں ہی کیوں نہ ہوں اسے سزا قانون کے مطابق دینی چاہیے۔ وفاقی وزیر قانون کی تبدیلی کے حوالے سے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اگر پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون کو ہٹایا جائے تو اب دیکھنا ہے کہ وفاقی حکومت وکلاکو اہمیت دیتی ہے یا اپنی وزارت کو۔ شہباز شریف کی غیر موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا مو قف بلکل صحیح ہے کہ جب موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ ہیں تو قائد حزب اختلاف کو ملک میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف کی غیر موجودگی کی وجہ سے بلاول بھٹو نے پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے مہنگائی اور بیروزگاری پر حکومت سے سوال پوچھے تو وفاقی حکومت نے روایتی طور پر سوالوں کے جواب نہیں دیے اور ذاتیات پر حملے کرنا شروع کر دیے۔

مزید : صفحہ اول