سروسز ایک مثالی ہسپتال

سروسز ایک مثالی ہسپتال
 سروسز ایک مثالی ہسپتال

  



ایک مغربی فلسفی کا کہنا ہے کہ کسی قوم کے تہذیب و تمدن کا اندازہ وہاں کی ٹریفک کے بہاؤ سے لگایاجاسکتا ہے، اگر ٹریفک بے ہنگم ہو تو سمجھ لیں قوم تہذیب سے عاری، قوانین سے بے پروا ہے لیکن اگر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ نہ ہو تو یہ جان لو ایسی قوم کے شہری مہذب اور متمدن ہیں۔ ایسے ہی کسی قوم کے شعور اور بیداری کو جانچنا ہو تو ہسپتالوں، تھانوں اور کچہریوں میں عام شہری کیساتھ ہونیوالا سلوک، رویہ اسکا ثبوت ہے۔ جس ملک کے ہسپتالوں، تھانوں، کچہریوں، تعلیمی اداروں میں عام شہری کو استحقاق کے مطابق علاج معالجہ، انصاف،تعلیم ملے، بچوں کو میرٹ پر داخلہ دیا جائے اور تعلیم و تربیت فراہم کرنیکا باقاعدہ میکنزم قائم ہو سمجھ لینا چاہیے وہ قوم باشعور اور بیدار ہے،اپنے حقوق و فرائض سے متعلق علم رکھتی ہے۔

تحریک انصاف کی انتخابی مہم او رحکومت کے قیام کے بعد تبدیلی کے نعرے بہت سنے مگر کسی طرف حقیقی، فطری، موثر، اور سودمند تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی، تاہم گذشتہ دنوں ہرنیا کے آپریشن کیلئے سروسز ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ڈاکٹرز اور عملہ کا سلوک اور رویہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ زندگی کے ہر شعبہ میں نہ سہی ہسپتال کی حد تک تبدیلی سے ہزاروں مریضوں کی دادرسی بروقت ہونے لگی ہے، علاج معالجہ، ٹیسٹ کی سہولیات، مفت ادویہ کی فراہمی سے غریب مریضوں کو آسائش

اور سہولت مل رہی ہے، ہسپتال عملہ کے رویہ میں حیرت ناک تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی جسے انقلاب کا نام دینا غلط نہ ہوگا۔

روزنامہ پاکستان کے چیف رپورٹر چودھری جاوید اقبال اچھے رپورٹر مگر بہت اچھے انسان ہیں،میں نے ایک دن ان سے اپنی تکلیف کا ذکر کیا تو وہ تڑپ اٹھے۔ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر انہوں نے ڈاکٹر محمود ایاز کو فون ملا لیا اور اس کے بعد میرے آپریشن سے گھر آنے تک وہ مسلسل میرے ساتھ رہے،ان کا یہ احسان تمام عمر یاد رہے گا۔پاکستان کے معروف سرجن ڈاکٹر محمود ایازکو اللہ تعالیٰ نے کمال کا ہنر دیا ہے،عمل جراحی میں انکی مہارت کو آپ جتنا بھی خراج پیش کریں کم ہوگا۔پچھلے دنوں جب نیب کی حراست میں میاں نواز شریف کی طبیعت خراب ہوئی تو سروسز ہسپتال میں انہیں ڈاکٹر محمود ایاز ہی کے زیر علاج رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمود ایاز نے خصوصی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے میرا مکمل چیک اپ کیا اور چند دنوں بعد سرجری کرنے کی تاریخ دے دی، باقی تمام مراحل میکانکی انداز سے ازخود طے ہوئے، کسی جگہ کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہوئی، ڈاکٹرز،نرسوں، پیرا میڈیکل عملہ نے مکمل توجہ دی، جسکی وجہ سے صرف دو دن میں آپریشن کا مرحلہ طے کرکے گھر آگیا، اس حسن سلوک کی وجہ سے ہسپتال گھر کی طرح محسوس ہوا، اس تبدیلی کا کریڈٹ بلاشبہ تحریک انصاف حکومت، وزیراعلیٰ عثمان بزدار، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو جاتا ہے مگر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم چیمہ،سینئر ڈاکٹر عمر وڑائچ،ڈاکٹر ذوالقرنین ،ڈاکٹر دانیال اور نرسز خصوصی طور پر سسٹر فوزیہ اپنے کام کے دھنی ہیں،ان سب نے بہت خیال رکھا۔

ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ نے اپنی تعیناتی کے بعد ہسپتال کی بہتری کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،ایک طرف وہ مخیر حضرات سے رابطے میں ہوتے ہیں تاکہ جوکا م سرکار کے پیسے سے نہیں ہو رہے وہ مخیر لوگوں سے کروا لئے جائیں تو دوسری طرف ہسپتال کی صفائی ستھرائی اور پارکنگ کے انتظامات بھی چیک کر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں اوور چارجنگ تو نہیں ہو رہی۔سمز کے پرنسپل اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمود ایاز کے ساتھ انکی مکمل انڈرسٹینڈنگ ہے۔ ڈاکٹر محمود ایاز کا سرجیکل وارڈ بھی مثالی ہے اچھے بیڈز،بہترین صفائی اور سب سے بڑھ کر ان کے سٹاف کارویہ،اخلاق اور ڈریسنگ،ایک دم اعلیٰ۔

سینئر ڈاکٹرز، انتظامیہ کو اس خوشگوار تبدیلی پر خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہوگی، مبارکباد ہے سروسز ہسپتال کی انتظامیہ کو جو عوام دوست ماحول قائم کرنے میں کامیاب ہے، امید تو ہے کہ دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسی ہی عوام دوست پالیسی اپنائی جاچکی ہوگی، اگر ہمارا گمان درست ہے تو بہت اچھی بات اور اگر درست نہیں تو صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری اور ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان سینئر ڈاکٹرز کو اس طرف فوری توجہ دینا چاہیے تاکہ بیمار انسانیت کی بہتر انداز سے خدمت کرکے انکی تکلیف میں کمی اور دکھوں کا مداوا کیا جاسکے۔

سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی،آؤٹ ڈور، آپریشن تھیٹرز، وارڈز اور کلینکل لیبارٹری میں صفائی ستھرائی کا نظام دیکھ کر مزید خوشی ہوئی، نچلے عملے کی طرف سے بخشیش مانگنے کی خواہش بھی نظر نہ آئی، ہسپتال کے پارکس بھی سبزہ و گل سے مہکتے دکھائی دیئے، ہسپتال میں قیام کے دوران خوانچہ فروش بھی دکھائی نہ دیئے، پارکنگ کا نظام بھی پہلے سے خاصا بہتر نظر آیا، مختصر بات یہ کہ ہسپتال کے انتظام و انضرام کو دیکھ کر طمانیت قلب ہوئی، خدا کرے کہ ایسی تبدیلی ہر سرکاری ہسپتال اور ہر سرکاری ادارے کا مقدر بن جائے۔

ڈاکٹر سرکاری ملازم ہوں یا نجی پریکٹس کرتے ہوں انکی زندگی کا بنیادی مقصد دکھی اور بیمار انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے، ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے سے ڈگری حاصل کرنے تک حکومت پاکستان ایک ڈاکٹر پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے، ڈاکٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد اگر بیرون ملک چلے جائیں یا نجی کلینک کھول کر خدمت کے بجائے کاروبار کرنے لگ جائیں تو ڈاکٹری پیشہ کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے، پہلی مرتبہ سروسز ہسپتال میں ڈاکٹروں میں خدمت کا جذبہ دکھائی دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظام کے ساتھ ذہنی تبدیلی بھی آچکی ہے اور ڈاکٹر صاحبان اب دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔

میڈیکل کا تمام شعبہ ایسی ہی حیرت ناک مگر خوشگوار تبدلی کا متقاضی ہے، اس سے قبل ہسپتالوں، ڈاکٹروں،نرسوں، عملہ کے ناروا سلوک اور ہتک آمیز روریہ کی شکایات عام تھیں، ہمارے پاس بھی بہت سے لوگ شکایات لیکر آتے رہے، اگر غلط نہیں تو تمام سرکاری ہسپتالوں میں سروسز ہسپتال جیسا نظام، اخلاق، رویہ نافذ کردیاجائے تو غریب مریضوں کی بہت سی شکایات از خود دور ہو جائینگی، مریض تو یوں بھی ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں، اور انکے لواحقین مریض سے زیادہ ہمدردی کے حقدار، لیکن جب مسیحاؤں کی طرف سے بدسلوکی ہوتی ہے ناروا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ہتک اور تضحیک کی جاتی ہے تو مریض کا مرض اور تیماردار کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مسیحا کا کام مسیحائی کرنا ہے اور مسیحا صرف زخموں کا علاج نہیں کرتے بلکہ دل و ذہن میں ابھرنے والی پریشانیوں کا مداوا بھی کرتے ہیں، سروسز ہسپتال میں جو تبدیلی محسوس ہوئی اس کے ذریعے بیمار کی آدھی بیماری از خود دورہوجائیگی، مناسب علاج معالجہ اور دیکھ بھال سے سنجیدہ مریض دنوں میں بھلا چنگا ہوکر عملی زندگی کا آغاز کرسکے گا۔

یہ تبدیلی اگر عوامی رابطہ کے تمام دفاتر اور محکموں میں آجائے تو غریب شہری کے مسائل و مشکلات دنوں میں ختم ہوسکتے ہیں، تھانوں میں سائل کی شکایت ہمدردی سے سنی جائے، فوری انصاف فراہمی کیلئے چابکدست اقدام کیا جائے، ملزم کو مجرم نہ بنایا جائے اور مجرم کو مہمان کا درجہ نہ دیا جائے، عدالتیں مقدمات کو طول دینے کی بجائے فوری فیصلے کریں، بجلی،گیس کے محکمے صارفین کی شکایات کو فوری حل کرنے میں تامل نہ کریں تو نہ صرف سرکاری دفاتر پر کام کا وزن کم ہو جائیگا بلکہ عوامی مسائل بھی کسی تردد، سفارش، رشوت کے بغیر استحقاق کی بنیاد پر میرٹ پر حل کئے جاسکیں گے۔چیف سیکرٹری پنجاب میجر اعظم سلیمان اور روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر عمر مجیب شامی میری تیمارداری کیلئے ہسپتال آئے تو میں نے انہیں سروسز ہسپتال کی اچھی سروس بارے آگاہ کیا، میرا مشورہ ہے تمام ادارے سروسز ہسپتال کو ماڈل بناکر اسکی تقلید کریں۔

مزید : رائے /کالم