میر پور خاص میں یونیورسٹی قائم نہ کرنا نا انصافی کی انتہا ہے: ملک راجہ عبد الحق 

میر پور خاص میں یونیورسٹی قائم نہ کرنا نا انصافی کی انتہا ہے: ملک راجہ عبد ...

  



میرپورخاص (خصوصی رپورٹ) میرپورخاص کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما ملک راجہ عبدالحق نے کہا ہے کہ پرانا سول ہسپتال ریفرسینٹر بن چکا ہے، نیو سول ہسپتال کی عمارت مکمل ہوچکی ہے، اُسے فوری طور پر فعال کیا جائے اور ڈویژن کے 39لاکھ عوام کے مسلسل مطالبے کے باوجود یونیورسٹی قائم نہ کرنا ناانصافی کی انتہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص میں اپنی رہائشگاہ پر روزنامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر سینئر صحافی آفتاب قادری بھی موجود تھے، ملک راجہ عبدالحق نے کہا کہ علاقے کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے، لوگ برسہا برس سے میرپورخاص یونیورسٹی کے ق یام کا پرزور مطالبہ کررہے ہیں، مگر حکمراں مسلسل امتیازی سلوک کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی بنانے کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے لولی پاپ کے طور پر ایک لیٹر جاری کیا کہ جلد قیام میں عمل لایا جائے گا اور اب کئی ماہ گزرنے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوا، اب تو انتہا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس گلزار نے میرپورخاص میں ڈسٹرکٹ بار کی تقریب سے خطاب میں میرپورخاص میں یونیورسٹی نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کیا جو حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منتخب نمائندے اور وڈیرہ شاہی تعلیمی نظام کے بگاڑ کی ذمہ دار ہے۔ اور اب حکمراں سازش کے تحت میرپورخاص بورڈ کوختم کرنے کے لیے نواب شاہ بورڈ قائم کرکے ضلع سانگھڑ کواس سے منسلک کیا جارہا ہے۔ نواب شاہ میں پہلے ہی میڈیکل انجینئرنگ کالج اور بہت بڑا ہسپتال موجود ہے جبکہ میرپورخاص ڈویژن کے 39لاکھ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، نیو سول ہسپتال کو 2015ء میں فنکشنل ہوجانا چاہیے تھا مگر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ 5 سال مزید ہونے کے باوجود اسے فعال نہیں کیا جارہا۔ 70ڈاکٹرز کی آسامیاں خالی پڑی ہیں، پرانا سول ہسپتال ابتر حالت میں ہے اور اب وہ ریفر سینٹر بن چکا ہے، انہوں نے کہا کہ میرپورخاص میں سیوریج لائن کی تبدیلی کا 1½ ارب کی لاگت کا میگا پروجیکٹ ایم پی اے ہری رام نے منظور کرایا تھا، مگر ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کے افسر شاہی نے تکنیکی غلطیاں کرکے اس کا بھٹہ بٹھا دیا ہے، اس کے علاوہ کئی سال گزنے کے باوجود فلائی اوور کا منصوبہ باتوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے ارباب اختیار کو تنبیہہ کیا کہ وہ میرپورخاص ڈویژن کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں بند کرکے یونیورسٹی کے قیام، نیو سول ہسپتال کو فعال اوربورڈ کی حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات سے باز آجائیں، بصورت دیگر عوام پھٹ پڑیں گے۔ 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر