خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگا مہ آرائی کا شکار، تمام قائمہ کمیٹیاں تحلیل

  خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگا مہ آرائی کا شکار، تمام قائمہ ...

  



پشاور(نیوز رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹہ کی تاخیر سے سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت میں شروع ہوا معاون خصوصی ریاض خان کی استدعا اور سپیکر مشتاق احمد غنی کی ہدایت پر مولانا لطف الرحمان نے بونیر حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے تعزیت اور زخمیوں کیلئے صحت یابی کی دعا کی وقعہ سوالات میں ارکان اسمبلی نگہت اورکزئی،سراج الدین،صلاح الدین،عنایت اللہ خان،احمد کنڈی،فیصل زیب،سردار اورنگزیب نلوٹھا اور شگفتہ ملک نے محکمہ بلدیات محکمہ مواصلات وتعمیرات اور محکمہ آبنوشی کی کارکردگی سے متعلق سوالات کرنے تھے تاہم اپوزیشن ارکان کی عدم موجودگی کے باعث ان کے سوالات لیپس ہوگئے رکن اسمبلی شفیق آفریدی نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے ایوان کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں ضم شدہ اضلاع کے ارکان کو بھی نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا شوکت یوسفزئی نے ان کی تائید کرتے ہوئے سٹینڈنگ کمیٹیوں میں قبائلی ارکان کو نمائندگی دینے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ پولیس آئندہ لیڈیز سرچرز کے بغیر چھاپے نہ ماریں اور قبائلی اقدار وروایات کا خیال رکھیں سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ بعض ارکان،وزیر،مشیر،معاون خصوصی بن چکے ہیں اور بعض ارکان مستعفیٰ ہوئے ہیں اس لئے انہوں نے ایوان کے مشورے سے کمیٹیاں توڑنے اور نئی کمیٹیاں تشکیل دینے کی شفیق آفریدی کی تحریک منظور کرتے ہوئے تمام کمیٹیاں ختم کرنے اور از سر نو تشکیل دینے کا اعلان کیا،وزیر خزانہ کی جانب سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا فنانس (ترمیمی)بل مجریہ 2020ء فوری طور رپ ایوان میں زیر غور لانے اور منظور کرنے کی تحاریک پیش کیں ایوان نے بل کی منظوری دے دی وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (دوئم ترمیمی) بل مجریہ 2020 فوری طور پر ایوان میں زیر غور لانے اور منظور کرنے کی تحاریک پیش کیں ایوان نے بل کی منظوری دے دی،وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2020ء فوری طور پر ایوان میں زیر غور لانے اور منظور کرنے کی تحاریک ایوان میں پیش کیں ایوان نے بل کی منظوری دے دی،وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا حصول اراضی (ترمیمی) بل مجریہ 2020ء فوری طور پر ایوان میں زیر غور لانے اور منظور کرنے کی تحاریک ایوان میں پیش کیں ایوان نے بل کی منظوری دے دی اپوزیشن ارکان نے ایوان میں آکر احتجاج شروع کیا اور ڈیسک بجا کر شورمچاتے رہے سپیکر مشتاق احمد غنی نے اس دوران ایوان کی کارروائی جاری رکھی صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپوزیشن ارکان سے درخواست کی کہ وہ صوبائی اسمبلی کی روایات کا خیال رکھیں تاہم اپوزیشن ارکان کا شور شرابا اور احتجاج جاری رہا سپیکر نے حکومتی رکن حاجی فضل الہیٰ کو فلور دیا جوا پوزیشن کیخلاف سخت لہجہ میں باتیں کررہا تھا تاہم اپوزیشن ارکان نے شوراور نعرے لگا کر ان کی باتیں سنی ان سنی کردی سپیکر نے اجلاس منگل کی دوپہرے 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

مزید : صفحہ اول