ادارے صحیح کام نہ کریں تو غریبوں کیلئے مسائل میں اضافہ ہوتا ہیں، شوکت یوسفزئی

ادارے صحیح کام نہ کریں تو غریبوں کیلئے مسائل میں اضافہ ہوتا ہیں، شوکت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ملک کا مالیاتی خسارہ 6 ارب سے بڑھ کر 19 ارب اور بیرونی قرضے 30 ہزار ارب تک پہنچ گئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بیرونی قرضوں کی واپسی اور خسارے میں کمی لانے کے لیے سخت فیصلے کیے جس کی وجہ سے عارضی مہنگائی ہوئی جس کا احساس وزیراعظم عمران خان کو بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت فیصلوں کے لیے وزیراعظم عمران خان نے تنقید برداشت کی لیکن آج بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہیں اور مضبوط ہو رہی ہے۔ پاکستان کے تمام اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے مالیاتی خسارے کو صفر پر لائینگے جب تک ادارے مضبوط نہیں ہونگے ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ وہ خیبرپختونخوا لاء کالجز ایسوسی ایشن کی کابینہ کی حلف برداری تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم خلیق رحمن اور معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات تاج محمد ترند بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وکلاء کا کردار صحیح ادارے بنانے میں اہم ہوتا ہے وکلاء قوانین بنانے میں حکومت کی مدد کر سکتے ہیں اور جس قانون میں کوئی کمی ہو وہاں اصلاح کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جہاں سسٹم اور ادارے صحیح کام نہیں کرتے وہاں غریبوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے لوگ پہلے وکلاء کے پاس آتے ہیں وکلاء کے مثبت رویے کی وجہ سے سائلین کی دل جوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز غریبوں کے لئے انصاف کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے کیونکہ جو وکیل زیادہ پیسے لیتا ہے لوگ اسی کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ وکلاء بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ وکلاء ایک فعال طبقہ ہے اور جس کا کام ہی انصاف دلانا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ معاشرے میں تشدد کا عنصر بڑھ گیا ہے احتجاجوں میں بھی اکثر لوگ تشدد کر لیتے ہیں جو کہ ٹھیک کام نہیں ہم سب کو ملکر اس کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ ملک نے مشکلات بہت دیکھ لین اب آگے بڑھنے کا دور ہے۔ادارے ٹھیک کیے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ بد قسمتی سے یونیورسٹیوں نے ذرائع آمدن پیدا کرنے کا پلان نہیں بنایا اور حکومت پر ہی انحصار رکھا جس کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہوسکیں۔ صوبائی وزراء کو تقریب میں خیبرپختونخوا لاء کالجز ایسوسی ایشن کی طرف سے شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔

مزید : صفحہ اول