”ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں“سپریم کورٹ، واٹر کانفرنس سفارشات عملدرآمدکیس میں سندھ حکومت کی جانب سے پیشرفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہم

”ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں“سپریم کورٹ، واٹر کانفرنس ...
”ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں“سپریم کورٹ، واٹر کانفرنس سفارشات عملدرآمدکیس میں سندھ حکومت کی جانب سے پیشرفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہم

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)واٹر کانفرنس سفارشات عملدرآمدکیس میں سندھ حکومت کی جانب سے پیشرفت رپورٹ جمع نہ ہونے پرسپریم کورٹ برہم ہوگئی۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سارے جہاں کا گنداپانی کینجھر جھیل میں جارہا ہے،بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود پانی کو ترس رہے ہیں،ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں ،ایسی فصلیں لگائی جانی چاہئیں جوپانی کم پیتی ہیں،کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کاشتکار ملز مالکان کے دباﺅ میں بھی گنا کاشت کرتے ہیں ،کاشتکار کو ڈر ہوتا ہے گنا نہ اگایا تو مل مالک زمین ہی ہتھیا لے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں واٹر کانفرنس سفارشات عملدرآمدکیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ قانون اورانصاف کمیشن نے حکومت کوسفارشات بھیجی تھیں اس کاکیابنا؟،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ سندھ حکومت کے سواتمام صوبوںنے رپورٹ جمع کرادی ہے،سندھ حکومت کی جانب سے پیشرفت رپورٹ جمع نہ ہونے پر عدالت برہم ہوگئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ سندھ ہر کام میں سب سے پیچھے کیوں ہوتا ہے؟،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ابھی بھی رپورٹ آپ کے ہاتھ میں ہے اب ہم کیا کریں ؟۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم تو کیس نمٹانے لگے ہیں 2018 سے کیس چل رہاہے۔آپ کے پاس اتنے پانی کے اثاثے ہیں ان کا کیا کیا؟، کینجھر پاکستان کی سب سے بڑی جھیل ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ نئی گاج ڈیم بنانے سے سندھ حکومت کو کون روک رہا ہے؟۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ نئی گاج کیلئے جاری وفاق کے 6 ارب روپے بھی خردبرد ہوگئے ،ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے کہاکہ اینٹی کرپشن نے17 افراد کیخلاف کارروائی کی اجازت مانگی ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیا وزیراعلیٰ سندھ اینٹی کرپشن کو کارروائی کی اجازت دیں گے؟،ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ انکوائری بھی وزیراعلیٰ کے حکم پرہی شروع ہوئی تھی ۔

چیف جسٹس گلزاراحمدنے کہاکہ سارے جہاں کا گنداپانی کینجھر جھیل میں جارہا ہے،بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود پانی کو ترس رہے ہیں،ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں ،ایسی فصلیں لگائی جانی چاہئیں جوپانی کم پیتی ہیں،کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کاشتکار ملز مالکان کے دباﺅ میں بھی گنا کاشت کرتے ہیں ،کاشتکار کو ڈر ہوتا ہے گنا نہ اگایا تو مل مالک زمین ہی ہتھیا لے گا۔ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ سندھ میں 200 روپے فی فصل پانی کی قیمت وصول کی جاتی ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آمدن کروڑوں کی ہوتی ہے اورپانی کے صرف200 روپے وصول ہوتے ہیں ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد