صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدر، وزیراعظم اور وزیرقانون کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کردی، نیا تنازعہ

صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدر، وزیراعظم اور وزیرقانون کیخلاف ...
صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدر، وزیراعظم اور وزیرقانون کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کردی، نیا تنازعہ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےجواب الجواب جمع کرادیا جس میں  موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف  بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کالعدم قراردیا جائے اور صدر، وزیر اعظم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سمیت غیر قانونی جاسوسی کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کے بعد ان پر الزامات لگائے گئے۔

بی بی  سی اردو کے مطابق سپریم  کورٹ کے جج نے تحریری جواب میں کہا گیا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی قائم کیے جائیں جنھوں نے سپریم کورٹ کے جج اور ان کے خاندان کے افراد کی غیر قانونی طریقوں سے جاسوسی کی اور ان سے متعلق ذاتی معلومات کو افشاں کیا، کوئٹہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 75 افراد سے متعلق رپورٹ لکھی تو صوبے میں متحرک ایجنسیاں سیخ پا ہو گئیں اور اس وقت اور بہت ہنگامہ آرائی ہوئی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ جب فیض آباد دھرنا کیس سے متعلق فیصلہ دیا تو اس سے بھی جہاں حکومت اور اس کے اتحادیوں میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی وہیں مختلف ایجنسیاں بھی اس سے سخت نالاں ہوئیں،یہ وہ موقع تھا جس کے بعد ان کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا گیا، اثاثہ جات ریکوری سے متعلق بنائے گئے یونٹ کے سربراہ نے ٹیکس جمع کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آر اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور قومی شناخت سے متعلق ادارے نادارہ سے میرے کوائف اکھٹے کرنا شروع کردیے,ان اداروں نے بلا چوں و چراں میرے اور میرے خاندان کے افراد سے متعلق معلومات حکومت کے ساتھ شیئر کردیں, یہ ادارے اس طرح زاتی معلومات دینے کے روادار نہیں تھے تاہم انھوں نے ایسا کر کے ایک غیر قانونی کام کیا۔

قاضی فائز عیسیٰ کے جواب میں اس ریفرنس کے شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر کا بھی تفصیلی زکر موجود ہے جو ایک نیوز ایجنسی کا ملازم ہے جس سے متعلق ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹا شخص ہے, ایک ایسے شخص کی شکایت پر ان کے خلاف یہ ریفرنس تیار کیا گیا اور صدر نے اپنی رائے کے بجائے جو کچھ وزیر اعظم کی طرف سے آیا اس پر عمل کیا, اس سارے عمل میں وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ جب عمران خان نے شہزاد اکبر کو معاون خصوصی کا منصب دیا تو ان کے نوٹیفکیشن میں اثاثہ ریکوری یونٹ کا کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا یونٹ ہے جسے کسی قانون کے بغیر ہی چلایا جا رہا ہے، جب ان کے خلاف ریفرنس دائر ہو گیا تھا تو اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے اس سارے معاملے کی تحقیقات کرنی تھیں لیکن اس کے بعد بھی ان کی اور ان کے خاندان کی جاسوسی کی جاتی رہی جو کہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے مزید لکھا کہ ان کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا گیا، اس کی کاپی صرف صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیرقانون، اٹارنی جنرل اور معاون خصوصی کے پاس تھیں لیکن اسے میڈیا پر نہ صرف لیک گیا بلکہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ان کی کردار کشی کی گئی،ان کے خیال میں یہ ریفرنس میڈیا پر خود ایگزیکٹو لے کر آئی،وزیر قانون  وہ شخص ہیں جو ایم کیو ایم کے ساتھ وابستہ ہیں اور وزیر قانون کی حیثیت سے پہلے ہی وزیر اعظم کو انھیں ہٹانے سے متعلق رائے دے چکے ہیں اور اب وہی ان کے خلاف ریفرنس کی منظوری دے رہے تھے، اس ریفرنس کو لیک کرنے سے متعلق وزیر قانون کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے جواب میں  مزید کہا گیا ہے کہ اگر اثاثہ جات ریکوری یونٹ ہی غیر قانونی قرار دیا گیا تو پھر اس کی بنیاد پر کھڑی کی گئی پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے اور یہ صدارتی ریفرنس اس یونٹ کی دی گئی معلومات کی بنیاد پر دائر کیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے جس میں ان کے خلاف ایک ریفرنس خارج کیا گیا تاہم ان کے خلاف سخت ریمارکس بھی دیے گئے۔ انھوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے بھی ہٹانے کی درخواست کی ہے۔

مزید :

قومی -