اسلام آبادہائیکورٹ،احسن اقبال کی درخواست ضمانت پر نیب نے بھارتی اور پاکستانی عدالت کافیصلہ پیش کردیا

اسلام آبادہائیکورٹ،احسن اقبال کی درخواست ضمانت پر نیب نے بھارتی اور ...
اسلام آبادہائیکورٹ،احسن اقبال کی درخواست ضمانت پر نیب نے بھارتی اور پاکستانی عدالت کافیصلہ پیش کردیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)لیگی رہنما احسن اقبال کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے بھارتی اور پاکستانی عدالت کافیصلہ پیش کردیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان اور احسن اقبال ایک ایک حلقے کے نمائندے بھی ہیں، شاہد خاقان اور احسن اقبال ابھی عوامی نمائندگی کیلئے نااہل نہیں ہوئے،جرم ثابت کئے بغیر قیدرکھناووٹرز کو نمائندگی سے محروم رکھنا بھی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں احسن اقبال کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ نیب کسی شخص کو گرفتار کرکے اس پر ٹارچر نہیں کرتا،قانون میں ٹارچر کرنے سے منع کیاگیا ہے ،کسی پر ٹارچر کیاجائے تب اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔عدالت نے کہاکہ ہمیں کوئی عدالتی فیصلے دکھا دیں جو آپ کے موقف کی تائید کرے ،نیب پراسیکیوٹر نے بھارتی اور پاکستانی عدالت کافیصلہ پیش کردیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شاہد خاقان اور احسن اقبال کو ابھی تک ہم قصور وار تصور کرسکتے ہیں ؟،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا اسے بے قصور ہی تصور کیا جاتا ہے ،عدالت نے کہا کہ شاہد خاقان اور احسن اقبال ایک ایک حلقے کے نمائندے بھی ہیں، شاہد خاقان اور احسن اقبال ابھی عوامی نمائندگی کیلئے نااہل نہیں ہوئے،جرم ثابت کئے بغیر قیدرکھناووٹرز کو نمائندگی سے محروم رکھنا بھی ہے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسارکیاکہ ایسی کیا وجوہات تھیں کہ جن پر گرفتاری ہی ضروری سمجھی گئی ؟نیب بڑے بڑے ملزمان کومعاف کرکے وعدہ معاف گواہ بنا سکتا ہے،نیب کے ایک وفاقی سیکرٹری کو دوسرے کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنادیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی کو بغیر متضاد مواد کے گرفتار نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیاکہ نیب کے کسی ملزم کوگرفتار کرنے کا طریقہ کار کیا ہے،یہ سوالات ہیں نیب عدالت کومطمئن کرے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اگر نیب مطمئن نہیں کر سکتا تو یہ غیرمعمولی صورتحال ہو گی ،نیب کسی کو غیرضروری گرفتارکرکے تضحیک نہیں کر سکتا ،بہت سے ملزمان ایسے ہیں جن کا ٹرائل چلتا ہے لیکن نیب انہیں گرفتار نہیں کرتا،انکوائری اور تفتیش میں تعاون کرنے والے کوگرفتارکرناکیوں ضروری ہے ؟۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ چیئرمین نیب کے اختیارات بہت وسیع ہیں ،جتنی اختیارات میں وسعت ہوگی اتناہی عدالت اس کا زیادہ جائزہ لے گی ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد