’انہوں نے کہا پتلون اتارواور پھر۔۔۔‘انتہا پسند بھارتیوں کا مسلمان نوجوان کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک کہ جان کر ہر شخص برہم ہوجائے

’انہوں نے کہا پتلون اتارواور پھر۔۔۔‘انتہا پسند بھارتیوں کا مسلمان نوجوان ...
’انہوں نے کہا پتلون اتارواور پھر۔۔۔‘انتہا پسند بھارتیوں کا مسلمان نوجوان کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک کہ جان کر ہر شخص برہم ہوجائے

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں سکیورٹی حکام اور انتہاپسندہندووں نے مسلمانوں کیخلاف ایکا کرلیا۔نئی دہلی میں شہریت ترمیمی بل کیخلاف مظاہرہ کرنے والوںپر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ترمیمی بل کے حامی بھی مظاہرین پر پل پڑے اور بدترین تشدد کی نئی مثالیں قائم کردی ہیں۔مسلمانوں سے ان کا نام پوچھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، اگر کوئی مسلمان مرد نام نہ بتاتے ہوئے ہچکچائے توثبوت کیلئے اسے برہنہ ہونے کا کہا جاتا ہے۔

لوگوں کو سروں پر ڈنڈے مار مار کر قتل کیا جارہا ہے ، جبکہ مسلمانوں کا پتہ کرنے کیلئے جگہ جگہ ناکے لگا کر ان کے شناختی کارڈز چیک کیا جارہے ہیں، جس شخص کے نام سے لگے کہ یہ مسلمان ہے اس پر تشدد شروع کردیا جاتا ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق شمال مشرقی دہلی کے رہائشی سرفراز علی بھی ان جھڑپوں کے دوران تشدد کا نشانہ بنے۔ سرفراز24 فروری کی رات اپنے چچا کے جنازے سے واپس آرہے تھے۔

سرفراز نے بتایا کہ وہ موٹرسائیکل پر اپنے والد کے ساتھ گوکولپوری سے آرہے تھے۔ کراسنگ پل پر ہجوم نے انھیں اور ان کے والد کو گھیر لیا، وہاں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے اور ہجوم میں شامل افراد ان کے شناختی کارڈ چیک کر رہے تھے۔

اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'اس نے میرا نام پوچھا، میں نے ابتدا میں دوسرا نام بتانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے میری پتلون اتارنے کو کہا۔ جب میں نے اپنا نام سرفراز بتایا تو اس نے مجھے لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کر دیا اور آگ میں پھینک دیا۔‘

مزید : بین الاقوامی