” میں اپنی صحافت کے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں حضرات ۔۔“احسن اقبال اور شاہد خاقان کی رہائی پر سینئر صحافی کامران خان نے بڑا اعلان کر دیا

” میں اپنی صحافت کے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں حضرات ...
” میں اپنی صحافت کے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں حضرات ۔۔“احسن اقبال اور شاہد خاقان کی رہائی پر سینئر صحافی کامران خان نے بڑا اعلان کر دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے تاہم اب ان کی رہائی پر سینئر صحافی کامران خان بھی بول پڑے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی کامران خان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”شاہد خاقان ہوں یا احسن اقبال پاکستان کے بہترین صاف ستھرے سیاستدان ہیں خدا کا شکر آج دونوں کی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کی ، پوری زندگی تحقیقی صحافت میں گزرنے والے تجربے کی روشنی میں کہ سکتا ہوں یہ دونوں حضرات کرپٹ نہیں ہو سکتے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس گواہ ہیں۔“

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایل این جی کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم جاری کر دیاہے۔ ایل این کیس میں کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی صدارت میں دو رکنی بینچ نے کی۔شاہد خاقان عباسی کا پاسپورٹ نیب کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے نیب پراسیکوٹر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید کو ایک بیان پر گواہ بنا کر معاف کردیا گیا،آپ نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایک بیان پر کیس بنایا، جس نے سمری بھجوائی ،وہ اب بیان دے رہاہے، 5سال بعد۔

نیب نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی مہنگے داموں خریدی،کیا آپ نے تفتیش کی کہ دنیامیں کہیں اس سے سستی ایل این جی خریدی گئی؟کیا آپ نے تفتیش کی کہ ٹرمینل کاٹھیکاسستے داموں کسی کمپنی کےساتھ ممکن تھا؟

تفتیشی افسر ملک زبیر نے کہا کہ ایک گیس کمپنی کا خط موجود ہے جو سستے داموں آفر کررہی تھی،فور گیس ایشیا کے سی ای او مارٹن وائٹ نے خط لکھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا اس کمپنی نے بولی میں حصہ لیا تھا ؟تفتیشی افسر نے کہا کہ اس کمپنی نے بولی میں حصہ نہیں لیا،تقابلی جائزے کیلئے بتایاکہ سستے میں ممکن تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ کریں آپ،جوکمپنی بولی میں شامل نہیں ہوئی اس کاحوالہ کیسے دے رہے ہیں؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے عوامی نمائندوں کے خلاف ریفرنسز زیر سماعت ہیں؟ دیگر کتنے ملزمان کو گرفتار کیا گیا؟نیب تین سوالوں کا جواب دے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیوں کیا گیا؟تفتیش مکمل ہوگئی تو احسن اقبال اور شاہد خاقان کو جیل میں مزیدکیوں رکھا جائے؟ لوگوں نے احسن اقبال،شاہدخاقان کوووٹ دیا،نمائندگی سے کیسے محروم کیاجاسکتاہے؟جن ووٹرز نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو کس بات کی سزا ہے ؟۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام الزامات پر کہیں کرمنل نیت، مالی فائدہ لینے کا ذکر تک نہیں،کرپشن نے اس معاشرے کو تباہ کیا،ٹرائل میں جرم ثابت کر کے ملزمان کو 16 سال قید کی سزا دلوائیں۔

مزید : قومی