ضمنی انتخابات پر فافن کی رپورٹ

ضمنی انتخابات پر فافن کی رپورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


فِری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافن) نے16 تا22 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ رپورٹ قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلیوں کی پانچ نشستوں پر ضمنی انتخابات سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران مجموعی طور پر انتخابی نظام میں واضح بہتری نظر آئی، جبکہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی، غیر قانونی الیکشن مہم اور عمومی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ این اے 75 (ڈسکہ) میں ووٹوں کی گنتی کے دوران بہت بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں، جس کے باعث الیکشن کمیشن کو اس نشست کا نتیجہ روکنا پڑا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ شفاف الیکشن کی راہ میں حائل سرکاری افسروں کو جرمانے کئے جائیں اور سخت سزائیں دی جائیں۔ تاخیر سے نتائج موصول ہونے والے پولنگ سٹیشنوں میں الیکشن کمیشن دوبارہ انتخاب کرا سکتا ہے،71فیصد پولنگ سٹیشنوں کے قریب پارٹی کیمپس کی اجازت کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے،انتخابات کے دوران ایک کمرے میں متعدد پولنگ بوتھ قائم کئے گئے، جن سے غیر ضروری رش ہوا۔
فافن نے قومی اسمبلی کے جن تین اور صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں کے بارے میں اپنی رپورٹ دی ہے، وہ چاروں صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان میں ایک حلقہ بلوچستان، تین حلقے سندھ، دو حلقے خیبرپختونخوا اور دو حلقے پنجاب میں واقع ہیں۔ڈسکہ کے سوا اِن سب حلقوں میں انتخابات کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوا اور کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں بہتری دیکھی گئی اور گنتی کے عمل میں بھی کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔ البتہ ڈسکہ کا حلقہ ایک استثنا ہے جہاں سارا دن وقفے وقفے سے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہوتی رہی،ایسے موٹر سائیکل سوار جنہوں نے نمبر پلیٹیں اُتاری ہوئی تھیں دندناتے رہے،فائرنگ بھی کی جاتی رہی، جس کی وجہ سے دو لوگ جاں بحق ہو گئے، کئی پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر گڑ بڑ کی وجہ سے پولنگ روکنی بھی پڑی،اس سب کچھ کے باوجود360 میں سے337 حلقوں میں گنتی کا عمل مکمل ہو گیا اور غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کا اعلان بھی ہو گیا۔البتہ بیس حلقوں کے پریذائیڈنگ افسر صبح چھ بجے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچے، الیکشن کمیشن اعلان کر چکا ہے کہ اس دوران چیف الیکشن کمشنر نے صوبے کے آئی جی پولیس، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطے کی کوشش کی،لیکن ناکامی ہوئی، رات تین بجے البتہ چیف سیکرٹری سے رابطہ ہو گیا،جنہیں بتایا گیا کہ بیس پریذائیڈنگ افسر غائب ہیں، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شکایت کا ازالہ کیا جائے گا،لیکن اس کے بعد وہ بھی رابطے میں نہ رہے اور جو ریٹرننگ افسر پُراسرار طور پر گُم ہو گئے تھے وہ چھ بجے اکٹھے منظرِ عام پر آ گئے اور اپنی اپنی کہانی سنانا شروع کر دی جس کی بنا پر الیکشن کمیشن کو نتیجہ روکنا پڑا۔
منگل کو الیکشن کمیشن میں اس سارے معاملے کی تحقیقات ہوئی، جہاں ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ پریذائیڈنگ افسروں سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا،3بج کر37منٹ تک337 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج موصول ہوگئے تھے،20پولنگ سٹیشنوں کے نتائج نہیں مل رہے تھے، بیس پریذائیڈنگ افسروں میں سے ایک کے سوا کسی کا فون نہیں مل رہا تھا یہ تمام پولنگ سٹیشن 30سے40 کلو میٹر کے احاطے میں ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ پولنگ سٹیشن نمبر9،47،50 اور140 کے نتیجہ میں کوئی فرق نہیں، گویا بیس مشتبہ پولنگ سٹیشنوں میں سے چار کلیئر ہیں۔تحقیقات کے دوران ان سب پریذائیڈنگ افسروں نے اپنے موبائل فون کی بندش کا یہ جواز پیش کیا کہ بیٹری ختم ہو گئی تھی اِس لئے وہ رابطہ نہ کر سکے،ریٹرننگ افسر نے کہا کہ بادی النظر میں 14پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں ردوبدل کیا گیا،اِس لئے اُن میں دوبارہ انتخاب کی سفارش کرتے ہیں۔ریٹرننگ افسر نے چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کے روبرو جو رپورٹ پیش کی ہے اس کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن آج (جمعرات) کوئی فیصلہ کرے گا۔ 
مسلم لیگ(ن) پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہ موقف اختیارکیا ہے کہ سارا دن ووٹروں کو خوفزدہ کیا گیا،پولنگ میں دانستہ تاخیر روا رکھی گئی، اس عالم میں بہت سے ووٹر مایوس ہو کر واپس چلے گئے،اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کا ابتدائی موقف تو یہ تھا کہ اس کا امیدوار آٹھ ہزار کی اکثریت سے جیت چکا ہے اِس لئے اس کی کامیابی کا اعلان کیا جائے،لیکن وزیراعظم عمران خان(پارٹی چیئرمین) نے اپنے امیدوار سے کہا کہ وہ متنازع پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ انتخاب پر رضا مندی کا اظہار کر دیں،اِس لئے اب تحریک انصاف اپنی کامیابی پر اصرار نہیں کر رہی اور ویسے بھی اب ساری شہادتیں اس امر کی توثیق کرتی ہیں کہ متنازع پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ تبدیل کیا گیا اور پریذائیڈنگ افسر اسی ایک مقصد کی خاطر غائب کئے گئے تھے، جن کے ٹیلی فونوں کی بیٹریاں بھی سب کی سب بیک وقت جواب دے گئیں۔ایک لمحے کے لئے اگر یہ موقف مان بھی لیا جائے تو یہ پریذائیڈنگ افسر کسی دوسرے کے فون سے ریٹرننگ افسر کو خود یہ اطلاع دے سکتے تھے کہ بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے یہ رابطے میں نہیں،لیکن حیرت انگیز طور پر ان سب  پریذائیڈنگ افسروں کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نہیں ہوئی، ورنہ چیف الیکشن کمشنر یا صوبائی الیکشن کمشنر کو وہ پریشانی نہ ہوتی جو  رابطے ختم ہونے کی وجہ سے ہوئی،پھر جب یہ افسر منظرِ عام پر آ ہی گئے تھے تو ان کی ہیت کذائی سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ انہوں نے رات کے آخری پہر اور طلوعِ آفتاب سے نصف گھنٹہ پہلے کے یہ چھ گھنٹے کس عالم میں گذارے ہیں اس کے باوجود تحریک انصاف اور اس کے  سینئر رہنما اپنے امیدوار کی ”کامیابی“ کے اعلان پر مصررہے اور یہ بھی کہتے رہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی ہار نہیں مان رہی، وہ تو وزیراعظم نے دانشمندانہ موقف اپنا کر اپنے امیدوار کو دوبارہ انتخاب پر رضا مندی کی ہدایت کر دی،وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو وزراء اب تک اپنی کامیابی کا ڈھول ہی پیٹ رہے ہوتے۔اس کی وجہ سے پارٹی کی اس شہرت کو بھی نقصان پہنچا کہ وہ غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کی سب سے بڑی داعی ہے، کیونکہ ڈسکہ میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ ان دعوؤں کی صداقت کو جھٹلا رہا تھا، اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ وہ پورے حلقے کا انتخاب دوبارہ کرائے گا یا صرف بیس(یا  چودہ) پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ پولنگ کا حکم دے گا۔ فافن کی رپورٹ میں سوائے ڈسکہ کے حلقے کے کسی دوسرے الیکشن پر کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی گئی،اس حلقے میں بھی پُرامن انتخاب ہو جاتے تو حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا اور شفافیت کا عملی ثبوت بھی مل جاتا،لیکن وائے افسوس بعض غیر ذمے دار عناصر کی وجہ سے یہ سعادت حکومت(اور تحریک انصاف) کے حصے میں نہ آ سکی اور اب عالم یہ ہے کہ ایک حلقہ پورے ملک کی سیاسی فضا پر چھایا ہوا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -