متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی لیز پر دینے سے متعلق ریکارڈ طلب

متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی لیز پر دینے سے متعلق ریکارڈ طلب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر قبضہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قرار دیاہے کہ اقلیتوں کی اراضی پر ادارے قبضہ کرکے پوری دنیا میں کیا منہ دکھائیں گے؟ کیا ہم اقلیتوں کے حقوق یہ تحفظ کررہے ہیں؟عدالت نے مذکورہ بالاریمارکس کے ساتھ پنجاب میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی لیز پر دینے سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی  عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پر ایف آئی اے کے ڈی جی بھی عدالت میں پیش ہوں اورتمام آئی جیزکی تعیناتیوں کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کاحکم دیا،عدالت نے سرکاری وکیل کی جانب سے آئی جی پنجاب کی حاضری سے استثنیٰ کی استدعا مسترد کر تے ہوئے پنجاب بھر کی متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی کے لیز کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا فاضل جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بجائے ان کے مفادات کا خیال نہیں رکھ رہے، اس پراپرٹی کی بندر بانٹ پر اگر یونیسکو کو پتہ چل جائے تو کیا ہوگا،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب پولیس عدالت میں پیش ہوئے، سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایاکہ 72کنال اراضی ایلیٹ پولیس ٹریننگ سنٹر نے متروکہ وقف املاک بورڈ کو واپس کردی ہے،فاضل جج نے کہا کہ 2003 ء میں سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک سے متعلق فیصلہ دیا تھا،پنجاب حکومت متروکہ وقف املاک کے حقوق کی حفاظت کرے،اگر آپ متروکہ وقف املاک کی اراضی لیز پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیلامی کے ذریعے حاصل کریں، دوران سماعت فاضل جج نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا  آپ کے الفاظ توہین عدالت کے مترادف ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ حکم امتناعی خارج کردوں، وضاحت کریں کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، آپ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کروں، کیا نام ہے آپ کا؟اب جو کہنا ہے تحریری وضاحت کی صورت میں کہیں، جس پر وکیل نے عدالت سے معذرت کی،، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ اراضی عوامی مفاد کے لئے حاصل کی گئی،جس پر فاضل جج نے استفسار کیا کہ آپ ٹرسٹ کی پراپرٹی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟  لیا، ڈی ایچ اے نے کالونی بنا لی اور پولیس نے بھی تعمیرات کر لیں،فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ کارکردگی تمام دنیا کو پتہ چل جائیں تو کیا کریں گے آپ؟ فاضل جج نے دوران سماعت استفسارکیاکہ ڈی جی اینٹی کرپشن کدھر ہیں؟جس پرڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کو بھی وزارت مذہبی امور کے ماتحت کیا پنجاب حکومت اس معاملے میں یہ اقدام وفاقی جرم ہے، فاضل جج ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے استفسار کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ وفاقی جرم کیسے ہوا؟جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے کہا کہ اس پر ہم قانونی رائے لے لیتے  عدالت نے حکم دیاکہ آئندہ تاریخ سماعت پر ایف آئی اے کے ڈی جی بھی عدالت میں پیش ہوں اورتمام آئی جیزکی تعیناتیوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔
ریکارڈ طلب 

مزید :

صفحہ آخر -