وکلاء کی ٹریننگ بھی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کی جائے گی: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 

  وکلاء کی ٹریننگ بھی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کی جائے گی: چیف جسٹس لاہور ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جوڈیشل اکیڈمی کے بورڈ آف مینجمنٹ میں منظور کیا ہے وکلاء کی ٹریننگ بھی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کی جائے گی. ٹریننگ منصوبہ پر عملدرآمد یقینی بنانے اور تمام عوامل کو دیکھنے کے حوالے سے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے. وکلاء کو اکیڈمی میں آن لائن ٹریننگ کورسز بھی کروائے جائیں گے اور ٹریننگ مکمل کرنے والے وکلاء کو سرٹیفکیٹس بھی دیئے جائیں گے.۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کا مزید کہنا تھا کہ ضابطہ دیوانی میں 2 ترامیم آئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم میں لاہور ہائی کورٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے. فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ضابطہ دیوانی میں ترامیم کیلئے وکلاء کی جانب سے ہر طرح کی تجاویز کیلئے تیار ہیں اور قابلِ عمل تجاویز پر عملدرآمد کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں. فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا بنیادی مقصد جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی ہے. ہمیں اب یہ معاملہ ختم کرنا ہوگا کہ دادا کیس دائر کرے اور پوتا بھی کیس لڑتا پھرے.. لوگ جلد انصاف کے متقاضی ہیں. انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کورونا کی وجہ سے مشکل سال تھا. لیکن ہم نے وباء کے باوجود تمام حفاظتی اقدامات کے ساتھ عدالتوں کے دروازے کھلے رکھے. ہمارے ججز، جوڈیشل افسران اور سٹاف ممبران کورونا کا شکار بھی ہوئے، لیکن ہم نے ہمت نہ ہاری اور سائلین کو ریلیف دینے کے لئے کوشاں رہے. جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ جج اچھا یا برا نہیں ہوتا، جج صرف جج ہوتا ہے اور جج اپنے فیصلوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے. ہمارے تمام ججز اپنی بھرپور توانائیوں کے ساتھ بہترین انصاف مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں. یاد رکھیں ججز نے ووٹ نہیں لینے ہوتے، ججز نے صرف انصاف کرنا ہوتا ہے. ججز وکلاء کو احترام دیں اور دو طرفہ عزت و احترام کا رشتہ قائم رکھیں. ججز تاریخ دیتے وقت قانون اور انسانی مجبوریوں کو مد نظر رکھیں اور غیر ضروری تاریخوں سے اجتناب کریں. ہمیں اس بات پر فوکس کرنا ہے کہ ہم سب مل کر اس ملک کے مجبور، مظلوم اور پسے ہوئے لوگوں کو جلد انصاف مہیا کرنے کی کوشش کریں.بطور چیف جسٹس میں بار کے اجتماعی مفادات کے لئے ہر وقت موجود ہوں اور لاہور ہائی کورٹ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں. انہوں نے کہا کہ انہوں نے صوبائی سیکرٹری قانون کو ہدایت کی تھی کہ صوبے کی تمام ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو فنڈز مہیا کریں اور بہت جلد تمام بار ایسوسی ایشنز کو گرانٹس کے چیکس مہیا ہونا شروع ہو جائیں گے.قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاطر محمود، ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون اور صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن طاہر نصراللہ وڑائچ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس محمد قاسم خان اور جسٹس عاطر محمود کو بار کی جانب سے سوینئرز سے نوازا گیا.سالانہ عشائیہ تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق پنوں، جسٹس اسجد جاوید گھرال، رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ ملک مشتاق احمد اوجلہ، وائس چیئرمین و ممبران پنجاب بار کونسل، سمیت سینئر وکلاء رہنما اور مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے صدور بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -