قائمہ کمیٹی انسانی حقوق، خواتین ہراسگی، بچوں کو تحفظ سمیت 4بل منظور

  قائمہ کمیٹی انسانی حقوق، خواتین ہراسگی، بچوں کو تحفظ سمیت 4بل منظور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں خواجہ سراؤں پر تشدد سے متعلق بل پیش کیا گیا  جس پر سب کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب خواتین کی ہراسگی اوربچوں کو تحفظ سمیت چار بل کمیٹی نے مشترکہ طورپر منظور کرلئے۔گزشتہ روز ممبر قومی اسمبلی شازیہ مری نے چیئرمین کمیٹی انسانی حقوق بلاول بھٹو کی عدم موجودگی میں کمیٹی کی بطور چیئرپرسن صدارت کی۔اس موقع پر خواجہ سراؤں پر تشدد اور ان کو تحفظ کے حوالے سے بل پیش کیا گیا جس پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہم چاہتے تھے ملک بھر کے ہر ہسپتال میں خواجہ سراؤں کیلئے الگ وارڈ بنایا جائے اور اس سلسلے میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریزکو خطوط بھی لکھ دیئے ہیں اور پمز میں ایک الگ وارڈ بنا دیا گیا ہے۔گزشتہ روز ممبر قومی اسمبلی شازیہ مری کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں عاصمہ قدیر نے خواجہ سراؤں پر تشدد کے حوالے سے بل پیش کیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کے قتل و تشدد کے واقعات میں پولیس خود مدعی بنے، خواجہ سرا انسان ہیں اور ان کو ریاست کے قانون کے مطابق انسانی حقوق ملنے چاہئیں جس کے جواب میں وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہاکہ ہم نے 2018ء میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو خطوط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ہر ہسپتال میں خواجہ سراؤں کے لئے الگ وارڈ مختص کیا جائے اور اس حوالے سے وفاقی حکومت نے پمز میں الگ وارڈ بنایا ہے۔دوسری جانب پنجاب پولیس نے خواجہ سراؤں کے لئے الگ سیٹ اپ بنایا ہے اور اس سیٹ اپ کی سربراہی بھی خواجہ سراء ہی کرتے ہیں۔چیئرپرسن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ خواجہ سراؤں سے متعلق میری بیٹی نے بھی تحقیق کی ہے، خواجہ سراء بڑے درد و تکالیف سہتے ہیں اور معاشرے میں ان کی تکالیف کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ مجھے بتایا گیا کہ خواجہ سراء پاسپورٹ پر اپنی جنس ظاہر کریں تو ان کا حج ویزہ جاری نہیں ہوتا اس حوالے سے ہمیں اپنے اتحادیوں سے بھی بات کرنی چاہیے ہماری طرف سے ان کے قانون میں تبدیلی یا ترمیم کوئی مسئلہ نہیں جس کے جواب میں چیئرپرسن کمیٹی شازیہ مری نے کہاکہ ہمیں ذہن اور سوچ کو بدلنا ہو گا، تحفظ فراہم کرنیوالی پولیس اورسکیورٹی کی بھی خواجہ سراؤں کے بارے میں سوچ تبدیل ہونی چاہیے جس پر کمیٹی نے عاصمہ قدیر کی تجویز پر ایک ذیلی کمیٹی بنا دی جو دو ہفتوں کے اندر مفصل رپورٹ جاری کرے گی۔ممبر کمیٹی محسن داوڑ کی سربراہی میں 18اگست کو بنائی گئی سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں محسن داوڑ نے کہاکہ ہم نے چھ بل پیش کیے تھے کام کی جگہ پر ہراسگی پر ترمیمی بل، بچوں کے انصاف کا ترمیم بل بھی شامل تھا، سب کمیٹی کے تین اجلاس کیے جاچکے ہیں اور ہم نے کیپٹل ٹریٹری اور سینئر سٹیزن بل میں بھی دو ترامیم کی ہیں، بچوں کے تحفظ کا ترمیمی بل بھی منظور کرلیا گیا ہے، کام کی جگہ پر ہراسگی کا بل بھی ہماری کمیٹی نے منظور کیا ہے۔محسن داوڑ کی رپورٹ کے بعد چیئرپرسن کمیٹی شازیہ مری نے چاروں بل پیش کیے جنہیں مشترکہ طورپر منظور کرلیا گیا۔
قائمہ کمیٹی 

مزید :

صفحہ آخر -