منی لانڈرنگ، آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظو ر کر لی 

منی لانڈرنگ، آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور مسٹر جسٹس اسجد جاوید گھرال پرمشتمل ڈویژن بنچ نے منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز شریف کی ایک ایک کروڑ روپے کے دومچلکوں جبکہ دیگر 2ملزموں کی 10،10لاکھ روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کاحکم دے دیاہے۔فاضل بنچ نے حمزہ شہباز سمیت شریک ملزموں فضل داد اورشعیب قمر کی درخواست ضمانتوں پر سماعت کی،دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کا مین ریفرنس میاں شہباز شریف کیخلاف ہے،حمزہ شہباز شریک ملزم ہیں،مسٹرجسٹس سرفراز ڈوگر نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیاکہ کیا حمزہ کی ضمانت پہلے ہائی کورٹ سے خارج ہوئی؟ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایاکہ بالکل!لیکن جب پہلے ضمانت خارج ہوئی تب ریفرنس نہیں آیا تھا، ریفرنس آیا تو دو بڑے الزامات اس میں نہیں تھے، اب آف شور کمپنی والا الزام بھی ریفرنس میں نہیں ہے،حمزہ شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب ٹرائل شروع ہوا تو اس وقت حمزہ کو حراست میں 17ماہ ہو چکے تھے، مجموعی طور پر ریفرنس کے گواہوں کی کل تعداد 110 ہے، حمزہ شہباز کو قید ہوئے بیس ماہ ہو گئے ہیں، اب بھی ٹرائل مکمل ہونے میں ایک سال تک لگ سکتا ہے،عدالت سے استدعاہے کہ حمزہ شہباز سمیت دیگردو شریک ملزموں کی ضمانتیں منظور کی جائیں،نیب پراسکیوٹر نے عدالت کومزید بتایا کہ نصرت شہباز، رابعہ عمران، سلمان شہباز، عمران یوسف سمیت 6 ملزم اشتہاری ہیں، 11 نومبر 2020ء کو منی لانڈرنگ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی، 110 گواہوں میں سے 10 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے جا چکے ہیں، نیب پراسکیوٹر نے کہاکہ حمزہ کے وکلاء نے کل کہا تھا کہ حمزہ شہباز پر صرف بے نامی دار ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، حمزہ شہباز نہ صرف بے نامی دار ہے بلکہ ملزم نے شریک ملزمان کی معاونت بھی کی، حمزہ شہباز منی لانڈرنگ میں سہولت کار، ساتھی اور فائدہ حاصل کرنے والا بھی ہے،حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کیلئے مربوط نیٹ ورک بنا رکھا تھا،شریک ملزم فضل داد عباسی ملزم حمزہ شہباز سے کیش لے کر شاہد شفیق کو دیتا تھا، منی لانڈرنگ کیلئے 5/6 افراد کے ہاتھوں سے رقم ہو کر حمزہ شہباز کے قریبی پیاروں کے اکاؤنٹس میں جاتی تھی،وقار ٹریڈنگ، ہارون یوسف ٹریڈنگ اور دیگر کمپنیاں سلمان شہباز کی کمپنیاں ہیں جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی، پاپڑ والے اور 23 لوگوں کے شناختی کارڈ استعمال کر کے منی لانڈرنگ کی گئی، پاپڑ والا اور دیگر لوگ کہتے ہیں کہ ان کاکبھی پاسپورٹ ہی نہیں بنااور وہ کبھی بیرون ملک ہی نہیں گئے، منظور احمد پاپڑ والے کے نام پر لاکھوں روپے جعلی ٹی ٹیز لگائی گئیں،آفتاب احمد، یاسر مشتاق، مشتاق چینی اور شاہد محمود وعدہ معاف گواہ ہیں، مسٹرجسٹس سرفراز ڈوگر نے نیب کے پراسیکیوٹرسے استفسار کیاکہ کیا جن لوگوں کے نام استعمال ہوئے ان کی تفصیلات آپ کے پاس موجود ہیں؟ نیب کے وکیل نے کہا کہ161 لوگ ہیں جن کے نام سے جعلی ٹی ٹیز لگوائی گئیں اور ان افراد کا احتساب عدالت میں بیان قلمبند کروانا ہے،حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں بڑی رقم آ چکی ہے اس طرح ملزم بینیفشری ہے، فاضل جج نے کہاکہ میرٹ پر تو ضمانت تو پہلے ہی خارج ہو چکی ہے،آپ بھی ہارڈشپ بنیادوں پر دلائل دیں، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 22 سے 25 فروری تک ہونے جا رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں یہی فیصلہ ہونا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا ہے یا نہیں، مسٹرجسٹس سرفراز ڈوگر نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف اور چیز ہے ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ نے صرف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تحقیقات کیں؟آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ منی لانڈرنگ کا پیسہ دہشت گردی کیلئے استعمال ہوا؟ نیب وکیل نے کہاکہ حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں بڑے پیمانے پر بیرون ملک ترسیلات آئیں فاضل بنچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منظور کرکے ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کاحکم دے دیاہے جبکہ دو شریک ملزمان فضل داد اورشعیب قمر کی بھی 10،10لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیاہے۔
حمزہ کی ضمانت منظور

مزید :

صفحہ اول -